استعفا نہیں:اب معاملے کو منطقی انجام تک جانے دیں

استعفا نہیں:اب معاملے کو منطقی انجام تک جانے دیں

  



وزیر اعظم نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے استعفے کا مطالبہ ایک بار پھرمسترد کردیا ہے، وفاقی کابینہ اور پارلیمانی پارٹی نے بھی ان کے اس دو ٹوک فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں جب یہ معاملہ زیر بحث تھا تو ظاہر ہے استعفے کے حق اورمخالفت میں دلائل دئیے جارہے تھے لیکن بالآخر فیصلہ یہی ہوا کہ وزیر اعظم استعفا نہ دیں اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کرکے عدالت کے حتمی فیصلے کا انتظار کریں، اجلاس میں کابینہ کے ارکان کو جے آئی ٹی کی رپورٹ پربریفننگ دی گئی جس کے بعد استعفے کے معاملے پر کابینہ یک سو ہوگئی، اتحادی جماعتوں میں سے جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے کھل کر اس معاملے پر وزیر اعظم کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ہر حال میں وزیر اعظم کے ساتھ ہے انہوں نے گول میز کانفرنس کی تجویز پیش کی ہے، اے این پی کے صدر خان اسفند یارولی خان کا موقف بھی یہ ہے کہ وہ نواز شریف کے استعفے کے حق میں نہیں، جو فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی وہی حتمی ہوگا اور سب کو اس فیصلے کے سامنے سرتسلیم ختم کرنا ہوگا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات (دسویں جلد کے سوا) منظرِ عام پر آچکے ہیں آہستہ آہستہ بعض پردے بھی سرک رہے ہیں اس رپورٹ میں جے آئی ٹی نے یہ سفارش کی ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف نیب کو ریفرنس بھیجا جائے، اس سفارش کو سپریم کورٹ میں زیر بحث لایا جائیگا اور ظاہر ہے اس پر وزیر اعظم اور ان کا خاندان اپنا موقف دے گا، فاضل عدالت میں عدالتی معاونین بھی اپنی قانونی رائے دیں گے اس کے بعد عدالت جس نتیجے پر پہنچے گی اس کا حکم صادر کردے گی لیکن اس سے پہلے جو سیاسی جماعتیں اور وُکلا کی تنظیمیں اپنے اپنے انداز میں سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے جو لائحہ عمل اختیار کررہی ہیں وہ ان کی سیاسی مصلحتوں اور ضرورتوں کا تقاضا ہے، وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود وہ اپنے اپنے طریقے سے جس طرح کا طرز عمل پسند کریں گی وہ جاری رکھیں انہیں اس سے باز رکھنا مشکل ہے لیکن وزیر اعظم کے اعلان کے بعد اور وفاقی کابینہ کی جانب سے ان کے اس عزم کی توثیق کے بعد اب یہ بات تو واضح ہے کہ استعفے کے معاملے پر وہ اپنا جو ذہن بناچکے ہیں اور جس کا انہوں نے اعلان بھی کردیا ہے اب ان کا اگلا ایجنڈا اسی کے مطابق ہوگا۔ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر بحث کے دوران کتنا وقت صرف ہوتا ہے اور فیصلے کی نوبت کب آتی ہے اس پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے وُکلا کو اس رپورٹ میں جو کوتاہیاں نظر آئیں گی وہ ان کا قانونی نظر سے جائزہ پیش کریں گے اور عدالت کو اپنے نقطۂ نظر سے مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے۔ عدالت ہی کے ذریعے اب یہ معاملہ منطقی انجام تک پہنچتا نظر آتا ہے۔

استعفے کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں بھی متفق نہیں ہیں جن جماعتوں کی قومی اسمبلی میں نمائندگی موجود ہے ان کی تعداد سترہ ہے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جن کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہوجائیں اور اپنی پارٹی میں سے کسی دوسرے کو وزیر اعظم بنادیں، وہ نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں کررہے، ان کا مطالبہ صرف استعفے تک ہے، جبکہ تحریک انصاف اب نئے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے اور یہ اعلان بھی کررہی ہے کہ وہ نیا وزیر اعظم بھی قبول نہیں کرے گی یہ سوال تو اٹھایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے وزیر اعظم کا منصب خالی ہوتا ہے تو اس کی جگہ نئے قائدایوان کا انتخاب آئین وقانونی اور پارلیمانی ضابطوں کے مطابق ہی ہوگا، فرض کریں اگر ایسا ہوتا ہے تو تحریک انصاف کس اصول اور ضابطے کے تحت اس کی مخالفت کرے گی؟ اور ابھی سے یہ اعلان کردینا کہ نیا وزیر اعظم بھی اس کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوگا ضد اور ہٹ دھرمی ہی کہلائے گا۔ اس وقت جو حکومت قائم ہے وہ آئینی اور قانونی ہے، اگر کسی وجہ سے اس حکومت کا سربراہ اپنا عہدہ خالی کرتا ہے تو اس کی جگہ پر کرنے کے لئے کسی کی خواہشات کو نہیں آئین و قانون کو ہی پیشِ نظر رکھنا ہوگا، اگر کسی کے ذہن میں بالائے آئین کوئی اقدام ہے تو اس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی اور اس وقت اگر کوئی جماعت کسی زعم یا گھمنڈ کے نشے میں یہ اعلان کررہی ہے تو وہ آئین کے تقاضوں کے منافی طرزِ عمل اپنارہی ہے جس کی نہ تو حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی قومی اسمبلی کی کوئی جماعت فی الحال اس معاملے میں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے۔

کئی دوسری جماعتیں استعفے کا مطالبہ ضرور کررہی ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ استعفے کے بعد نئے وزیر اعظم کا آئین و قانون کے تحت انتخاب بھی ان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوگا تحریک انصاف اگر نیا وزیر اعظم بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر اسے بتانا چاہئے کہ آئینی و قانونی طور پر اس کے پاس کیا تجاویز ہیں۔ لیکن لگتا ہے اسے آئین و قانون سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات سے دلچسپی ہے، عمران خان وزیر اعظم پر نکتہ چینی کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ نام نہاد دوستی کو بھی درمیان میں گھسیٹ لائے ہیں اور یہ فرما دیا ہے کہ بھارت نہیں چاہتا کہ نواز شریف فارغ ہوں اور پاک فوج مضبوط ہو جائے، یہ ’’ راز‘‘ غالباً عمران خان کو اس وقت معلوم ہوا ہوگا جب خود انہوں نے بھارت جاکر مودی سے ملاقات کی تھی، اب یہ جواب خود عمران خان کے ذمے ہے کہ وہ قوم کوبتائیں کہ انہوں نے مودی سے کس حیثیت میں ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ ان کی کیا بات چیت ہوئی کہیں مودی نے تو انہیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی راہ پر نہیں لگادیا؟ کیونکہ ایسی صورت حال میں ان کی پارٹی کے ایک بانی رکن تو ان پر الزام لگاچکے ہیں کہ فارن فنڈنگ میں تحریک انصاف کو فنڈ دینے والوں میں یہودی اور ہندو بھی شامل ہیں، نواز شریف کی اگر عالمی کانفرنسوں میں مودی سے ملاقات ہو جاتی ہے یا ان کے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ اور مصافحہ ہو جاتا ہے تو یہ دو ملکوں کے وزرائے اعظم کا معاملہ ہے، کسی بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ مصافحہ کرنا اگر کوئی گناہ ہے تو اس کے مرتکب ماضی میں پاکستان کے سارے حکمران ہو چکے ہیں جن میں تمام فوجی اور سول حکمران شامل ہیں عمران خان کو معلوم ہوگا کہ ہمار ے ایک فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کرکٹ دیکھنے کے لئے خود چل کر بھارت گئے اور وہاں جاکر ایک اہم پیغام بھی دے دیا تھا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک جنگ ٹل گئی۔ کسی کی نظرمیں یہ بھی جرم ہو سکتا ہے لیکن عمران خان سے یہ سوال بہر حال کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہندوستان جاکرمودی سے ملاقات کس مقصد کے لئے کی تھی اور کیا اس کا مقصد بھارت سے فنڈ لینا تو نہیں تھا؟ اور اس میں ان کے ساتھ دیگر کیا راز و نیاز ہوئے تھے مودی سے ملاقات اگر گناہ ہے تو عمران خان کے لئے یہ ملاقات باعثِ ثواب تو نہیں ہوسکتی خصوصاً ایسے عالم میں جب ان کی پارٹی کا ایک بانی رہنما یہ کہہ رہا ہو کہ وہ ہندوؤں سے بھی فنڈ لیتے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...