ہاتھی کی شناخت اور جے، آئی، ٹی رپورٹ!

ہاتھی کی شناخت اور جے، آئی، ٹی رپورٹ!
 ہاتھی کی شناخت اور جے، آئی، ٹی رپورٹ!

  



یہ وہی بات ہے کہ چند ’’نابینا‘‘ حضرات سے ہاتھی کی شناخت کا پوچھا گیا تو جس کا ہاتھ جس مقام تک پہنچا اس نے اسی کے مطابق جواب دیا، دم پر ہاتھ والے نے اسے رسی اور ٹانگ کو چھونے والے نے کھمبا قرار دیا تھا، اسی طرح دوسرے لوگوں کے جواب تھے ، ایسا ہی کچھ آج کل پاناما لیکس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کی بنائی، جے،آئی، ٹی کی رپورٹ کے ساتھ ہورہا ہے، یہ رپورٹ دستاویزات سمیت سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے، اب اس کے حوالے سے ہر کوئی اپنی صوابدید کے مطابق تبصرہ اور بحث کررہا ہے، اس سلسلے میں سیر صبح کے وقت ہونے والی گرماگرم بحث کے دوران جب ہم نے دریافت کیا کہ آپ میں سے کسی نے یہ رپورٹ پڑھی؟ توجواب ملا نہیں، اخبارات میں دیکھی اور نشریات میں سُنی۔ حتیٰ کہ ایک دانشور اور ڈبل گریجوائٹ دوست سے استفسار کیا تو وہ بھی پیدل ہی نکلے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے جے ، آئی، ٹی رپورٹ کی نقول جمعرات کو میڈیا کے حوالے کی گئیں، اس سے قبل میڈیا کے دوست بھی ادھر ادھر سے (ذرائع سے) اس رپورٹ کے حصے حاصل کرکے الگ الگ خبروں کی صورت میں چلا رہے تھے اور ساری بحث ، تجزیئے اور مکالمے بھی اس پر ہور ہے تھے ، حتیٰ کہ مسلم لیگ(ن) کے ترجمان حضرات بھی تو انہی حصوں کے حوالے سے بات کرتے چلے آرہے ہیں، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے رپورٹ پڑھ لی جاتی اور پھر اس پر بحث ہوتی، یوں جستہ جستہ حصے شائع اور نشر ہونے کی وجہ سے کنفیوژن بڑھا ہے۔ البتہ وزیر اعظم یا حکومت نے موقف واضح کیا ہے کہ ان کے وکلارپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں اور پیر(17۔ جولائی) کو سماعت شروع ہوگی تو عدالت میں جواب دیا جائے گا اس سلسلے میں ہم دانیال عزیز، اور طلال چوہدری کے ساتھ ساتھ رانا ثناء اللہ کے موقف اور تجزیئے سے محظوظ ہوئے، رانا ثناء اللہ خود وکیل اور پنجاب کے وزیر قانون ہیں دوسرے دونوں حضرات بھی لاء گریجوائت ہیں، رانا ثناء اللہ نے تو یکسر طور پر رپورٹ کو مسترد کردیا اور دوسرے دونوں حضرات بلیم گیم میں مبتلا نظر آئے، ان حضرات کے موقف سے اتفاق کرلیا جا ئے تو پھررپورٹ کو مسترد کرنے کے بعد پیروی سے بھی گریز کا اعلان کرنا چاہئے تھا لیکن شاید یہ عقل مندی نہ ہوتی یہی وجہ ہے کہ جے، آئی، ٹی کی تشکیل کے بعد تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا لیکن تحقیقات یا تفتیش کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا۔

اب حالات کی نوعیت کچھ یوں ہے کہ ہاتھی کی شناخت کی طرح اپنے اپنے حساب سے تنقید اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، اس میں ہمارے تحریک انصاف والے بھی دس قدم آگے ہیں اور ان کے ترجمان چن چن کر رپورٹ کے ایسے حصے سامنے لاتے ہیں جو عدالت عظمیٰ میں زیر بحث آئیں گے تو دونوں طرف کے دلائل کے بعد ان پر فیصلہ ہوگا تحریک انصاف والے تو وزیر اعظم کو نااہل قرار دے ہی چکے ہیں اور اب تو ان کو بابر اعوان کی خدمات بھی حاصل ہیں جن کو بات بنانا آتی ہے اور وہ سپریم کورٹ کے رجسٹر وکیل بھی ہیں یہ الگ بات ہے کہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے دور میں ایک شعر کی بدولت ایک سالہ لائسنس معطلی بھگتے ہوئے ہیں، اس سلسلے میں بہتر عمل یہی تھا کہ سیاسی نتائج و عواقب پر تو بات کرلی جاتی لیکن جو امور عدالت میں زیر سماعت آنا ہیں ان پر بات نہ کی جاتی کہ یہ ’’سب جوڈس ‘‘ کہلاتے ہیں۔

پاناما نے تو ایک نیا اور سخت محاذ کھولا ہے، تاہم بات دھرنا سے شروع ہو چکی ہوئی تھی اور مخالفت سیاسی ہی تھی، اس دور ان پاکستانی عوام نے ملاحظہ کیا کہ جوڑ توڑبھی ہوتے رہے اور جماعتوں کے موقف بھی تبدیل ہوتے رہے، لیکن اب سیاسی صورت حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے متحد ہو کر وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے اور ان کی طرف سے ممکنہ تحریک کا بھی اعلان ہے اگرچہ مولانا فضل الرحمان اور چادر پوش محمود خان اچکزئی کھلم کھلا وزیر اعظم کے ساتھ ہیں ظالم سوشل میڈیا والے حکومت سے وابستہ ان کے مفادات بتاتے رہتے ہیں، یہ صورت حال سیاسی محاذ آرائی کی غماز ہے اور اس کے اثرات نچلی سطح پر بھی ہوئے ہیں، سپریم کورٹ بار ایسوسی اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ساتھ پاکستان بار کونسل کے عہدیدار حضرات نے استعفے تحریک کی حمائت کی اور وکلا برادری کی طرف سے بھرپور تحریک کا اعلان کردیا ہے حالانکہ وزیر اعظم کے موقف کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ بار میں ہونے والے اجلاس میں ہنگامہ آرائی ہوگئی مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کے حضرات نے نعرے بازی کی اور کنونشن میں ہلٹربازی کردی یوں یہ محاذ آرائی اب اس سطح تک بھی ہوگی حالانکہ وکلا تو عدلیہ کے معاون ہوتے ہیں ان سب کو عدالتی کارروائی اور فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے تھا لیکن بات محاذ آرائی پر چلی گئی ہے اور خدشہ ہے کہ بات بڑھی تو یہ عوامی سطح تک بھی آجائے گی اور پھر جھگڑے ہوں گے، یہ سب حکمرانوں کے لئے مفید نہیں ہوتا، وزیر اعظم کو اس طرف توجہ دینا ہوگی، اگر قانونی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو پھر عدالت عظمیٰ میں بھرپور دفاع کیا جائے عوامی سطح پر تنازعات سے گریز ہی بہتر ہے۔

محاذ آرائی اور سیاسی کشمکش کی یہ صورت ہمیں ماضی میں لے جاتی ہے کہ ہم نے ایسی کئی تحاریک کی کوریج کی ہوئی ہے اور بہت سے حالات کے چشم دید بھی ہیں، قارئین سے وقتاً فوقتاً بات اور واقعات کا ذکر ہوتا رہے گا، ہم بلاشبہ خوفزدہ ہیں اور ہمارے نزدیک یہ سب اچھا نہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ملکی حالات کا تقاضا استحکام ہے اور یوں بھی جمہوریت کا نام لینے والے تمام فریقوں کو جمہوری اقدار کا دھیان رکھنا اور جمہوریت کا تحفظ بھی کرنا ہوگا کہ اسی میں بہتری ہے ، جہاں تک احتساب کا تعلق ہے تو انشاء اللہ اگلے کالم(کل) میں اس پر بھی بات ہوگی۔

مزید : کالم