پاناما کیس کے سیاسی اور انتخابی اثرات

پاناما کیس کے سیاسی اور انتخابی اثرات
 پاناما کیس کے سیاسی اور انتخابی اثرات

  



پاناما کیس ٹی وی کے کسی دلچسپ سیزن کی طرح اب اپنے تین سیزنز پورے کر کے چوتھے سیزن میں داخل ہوچکا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں پہلا سیزن اس وقت شروع ہوا، جب تحریک انصاف نے اس معاملے پر اپنے احتجاج کا آغاز کیا۔دوسرے سیزن میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا، پھر تیسرے سیزن میں جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل ہوئی اور اب چوتھے سیزن کے آغاز میںیہ معاملہ پھر سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو جو رپورٹ پیش کی، اس سے نواز شریف اور ان کے خاندان کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچا۔یہ ایسی حقیقت ہے، جس کا خود شریف خاندان کو بھی ادراک ہے، مگر ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ جے آئی ٹی یا کسی بھی طرح کا عدالتی فیصلہ پاکستان کی سیاسی اور خاص طور پر انتخابی حرکیات پرکیااپنے ٹھوس اثر ات مرتب کرے گا؟ سادہ الفاظ میں اس سارے معاملے سے مسلم لیگ(ن) کو آنے والے انتخابات میں کیا کوئی فرق پڑے گا؟اس اہم سوال کے جواب کے لئے ہمیں پاکستان کی انتخابی حرکیات کو سمجھنا پڑے گا۔ قومی اسمبلی کی کل272 براہ راست انتخابات والی نشستوں میں سے 190 نشستیں ایسی ہیں، جو دیہات، چھوٹے شہروں اور قصباتی علاقوں پر مشتمل ہیں،جبکہ 82 نشستیں ایسی ہیں، جو بڑے شہری علاقوں پر مشتمل ہیں۔ اگر2013ء کے انتخابات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کے کل ووٹروں کی تعداد85.4ملین تھی اور ان میں 60ملین، یعنی6کروڑ کے لگ بھگ ووٹروں کا تعلق دیہی علاقوں سے، جبکہ2کروڑ پچاس لاکھ کے لگ بھگ ووٹروں کا تعلق شہری علاقوں سے تھا۔ شہری علاقوں میں ووٹرپارٹی پروگرام، نظریات، لیڈر کی شخصیت کے ساتھ ساکھ، کرپشن، اقرباپروری، معاشی صورت حال اور لوٹ مار جیسے ایشوز کو بھی اپنے سامنے رکھتے ہوئے ووٹ ڈالتے ہیں، مگر دیہاتی علاقوں میں سیاسی جماعت کی سوچ، نظریات اور کرپشن جیسے معاملات انتخابی عمل کے دوران اس طرح اپنا اثر نہیں ڈالتے ،جس طرح شہروں میں۔

ایک محتاط تحقیق کے مطابق 190دیہی علاقوں میں 300 سے400بڑے بااثرخاندان موجود ہیں، جبکہ 1000سے1200 خاندان ایسے ہیں، جو ان بڑے اور بااثر خاندانوں کے اتحادی ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے ایک انتخابی حلقے میں 5 سے10بااثر خاندان اور گھرانے ان حلقوں کی انتخابی سیاست کا فیصلہ کر تے ہیں۔ ایسے خاندانوں یاگھرانوں کی کوئی ٹھوس نظریاتی یاسیاسی وابستگی نہیں ہوتی، یہ حالات کو دیکھ کر اپنی وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔ان کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ سیاست کے ذریعے اپنے خاندان کے معاشی اور سماجی مفادات کا تحفظ کیا جائے اور اپنے علاقوں میں اپنے کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کئی حلقے ایسے ہیں جہاں پر ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد دومختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر ایک دوسرے کے خلاف انتخابات لڑرہے ہوتے ہیں۔ دیہی علاقوں پر مشتمل حلقوں، یعنی272میں سے 190حلقوں میں اکثریت انفرادی طور پر اپنے ووٹ کا فیصلہ نہیں کرتی، بلکہ گروہ کی صورت میں ووٹ ڈالتی ہے۔گاؤں میں مختلف برادریوں اور قبیلوں کے’’بڑے‘‘ یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا قبیلہ، ذات یابرادری کس امیدوار کو ووٹ ڈالے گی؟ ایسے فیصلوں میں پیسہ، تھانے کچہری کی سیاست اور اثرورسوخ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ غریب افراد، بے زمین کاشتکار اور چھوٹے کسان کے پاس اس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ وہ آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اپنے ووٹ کا فیصلہ کرسکے۔گاؤں اور دیہات کے بااثر اور امیر خاندان، زمین دار، جاگیردار، پیر، سجادہ نشین، برادریوں اور قبیلوں کے سربراہ عام ووٹروں پر براہ راست اثر انداز ہورہے ہوتے ہیں۔ دیہی سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں میں تو آج بھی جاگیر داری اور سرداری نظام کی باقیات موجود ہیں، مگر وسطیٰ اور شمالی پنجاب کے علاقے، جہاں پر کلاسیکی طرز کی جاگیر داری نہیں ہے، ان علاقوں میں بھی ایک غریب اور کم معاشی حیثیت کے کسی فرد کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے علاقے کے بااثر اور تھانہ کچہری تک اثرورسوخ رکھنے والے خاندانوں کے خلاف کھڑا ہوپائے۔

دیہی اور غیر شہری علاقوں میں چند مخصوص بااثر خاندانوں یا برادریوں کے اسی اثرورسوخ کے باعث پاکستان میں ہر بڑی سیاسی جماعت کو انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے انہی خاندانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے،حتیٰ کہ ایوب خان، ضیاء الحق اورپرویز مشرف جیسے فوجی آمروں نے بھی اپنے اقتدار کے لئے ایسے ہی بااثر خاندانوں اور برادریوں پر انحصار کیا۔ ایک کالم میں تمام انتخابات کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں، اگر2013ء کے انتخابات کو ہی مثال کے طور پر سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ 2013ء کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ(ن) نے اسمبلیوں کے 70 ارکان کو دوسری جماعتوں، خاص طور پر مسلم لیگ(ق) سے اپنی جماعت میں شامل کیا۔ ان ارکان کا تعلق اپنے علاقے کے بااثر خاندانوں یا برادریوں سے تھا اور 2013ء کے انتخابات کا نتیجہ کس جماعت کے حق میں تھا، یہ سب کو معلوم ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں، جیسے جنوبی پنجاب کے تین اضلاع خانیوال، جھنگ اور مظفر گڑھ میں مسلم لیگ(ن) 2008ء کے انتخابات میں کوئی نشست حاصل نہیں کرسکی تھی، مگر2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے ان تین اضلاع کی 15نشستوں میں سے 12نشستیں حاصل کرلیں اور جب 2002ء کے انتخابات میں پنجاب کے بااثر خاندان اور گھرانے مسلم لیگ(ن) چھوڑ کر مسلم لیگ(ق) میں شامل ہوگئے،مسلم لیگ(ن) 2002ء میں شہری اور وسطیٰ پنجاب کے چند حلقوں سے ہی کامیابی حاصل کرسکی۔ آج جو تجزیہ نگار اس بنا پر تحریک انصاف پر تنقید کررہے ہیں کہ تحریک انصاف اپنی صفوں میں پرانے اور روایتی سیاستدانوں کو شامل کررہی ہے، وہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ انتخابات میں کامیابی کے لئے ہر سیاسی جماعت یہی راستہ اختیار کرتی آئی ہے۔

اب بنیادی سوال یہی ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں کیا صورت حال رہے گی؟ پاکستان کی انتخابی حرکیات کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی ہو، اس کا اثر شہری علاقوں پر تو ضرور پڑے گا، مگر دیہی علاقوں میں اس عدالتی فیصلے کے بہت کم اثرات مرتب ہوں گے اور اگر مسلم لیگ(ن) کو 2013ء کی طرح دیہی اور غیر شہری علاقوں کے بااثر خاندانوں کی حمایت حاصل رہی یا مسلم لیگ(ن) ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوئی تو 2018ء کے انتخابات کا نتیجہ 2013ء سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔۔۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا نے ’’آزاد‘‘ ہو تے ہی یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ اب پورا پاکستان آزاد ہوگیا ہے اور پاکستانی قوم کرپشن کو مزید برداشت نہیں کرے گی، حتیٰ کہ میڈیا کے کئی حصوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے کہ جب تک بوسیدہ سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو نہ بدلا جائے، تب تک کوئی بھی ملک یا سماج تبدیلی کا دعویٰ نہیں کرسکتا، یہ نعرہ بلند کردیا کہ میڈیا کی آزادی کے بعد پاکستان بدل چکا ہے۔2011ء میں منظر عام پر آنے والی کتاب ۔۔۔ٖ Pakistan A Hard Country۔۔۔کے مصنف اینا تھول لیون نے بنیادی طور پر یہ موقف پیش کیا ہے کہ پاکستانی سیاست اور سماجی رویے ابھی بھی۔۔۔Kinship۔۔۔یا برادریوں اور ذاتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ریاست یا قوم کے ساتھ وفاداری کا رشتہ استوار ہونے کی بجائے، پاکستانی سماج میں۔۔۔ Kinship۔۔۔کی بنیاد پر استوار ہونے والے رشتے زیادہ مضبوط ہیں اور یہی امر پاکستان میں کسی بھی قسم کی مثبت یا جوہری تبدیلی لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

لیون کی اس بات کو نظر انداز کرنا اس لئے ممکن نہیں، کیونکہ اکثر مغر بی دانشوروں کی طرح لیون نے کسی تھنک ٹینک میں بیٹھ کر اپنا تجزیہ پیش کرنے کی بجائے خود پاکستان کے کئی دورے کئے اور بیس سال کے گہر ے مشاہدے اور مطالعے کے بعد اس سوچ کو پیش کیا۔ ایسی سیاست جس کا بنیادی مقصد ہی اپنی ذات وبرادری کے لوگوں کو جائز و ناجائز ذرائع سے نوازنا ہو، وہاں پر تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ امید رکھنا کہ کرپشن اور لوٹ مار جیسے ایشوز انتخابات پر اثر انداز ہوں گے، سراسر خام خیالی ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے افراد پاکستانی سماج کی تہذیبی بنت اور سیاسی رویوں کو سمجھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...