کیا دھماچوکڑی مچی ہے!

کیا دھماچوکڑی مچی ہے!
 کیا دھماچوکڑی مچی ہے!

  



اس مملکتِ خداداد میں جے آئی ٹی کی تیار کردہ رپورٹ کی ’’دھول‘‘ خوب اڑ رہی ہے۔ کئی چہرے خاک آلود ہوچکے ہیں اور بے شمار آنکھوں میں دھول کے ذرات گھس چکے ہیں۔ آنکھوں کی بصارت کے متاثر ہونے سے ’’چہرے‘‘ واضح دکھائی نہیں دے پا رہے اور کسی پر کسی اور ہی قسم کا گمان ہو رہا ہے، یعنی بصارت کے اثرات، بصیرت پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ سیاسی دنیا کے ایک اور مقبول ترین لیڈر کو ’’گندا‘‘ کرکے ، پوری سیاسی دنیا پر انگلیاں اٹھوانے کا خوب سامان ہو چکا ہے۔وہ ’’جے آئی ٹی رپورٹ‘‘ جس کے اپنے اندراجات پر باتیں ہونے لگی ہیں اور جس کے انداز بیان اور تجزیات پر حرف گیریاں شروع ہوچکی ہیں، اس رپورٹ کی بنیاد پر ایک اور ’’مقبول قیادت‘‘ اور ’’مقبول ترین پارٹی‘‘ کا دھڑن تختہ کرنے کا شور مچا ہے، ایسے میں صاحبانِ فکر اندیشوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پرانے الجھاووں کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، آنے والے وقت کے خدشات پر سر پکڑے بیٹھے ہیں، انہیں میاں نوازشریف یا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہ بھی ہو، جمہوریت کے وقار و استحکام کے مجروح ہونے کے امکانات نے فکر مند کر دیا ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ’’جے آئی ٹی کی رپورٹ‘‘، جیسے مواقع آخر کار کس طرح کے نتائج سامنے لاتے ہیں۔۔۔!

پاکستانی سیاست کا ایک بڑا نام جاوید ہاشمی ہے،اس نے سیاسی ماحول کی گرمیوں اور سردیوں کا نہ صرف خوب مشاہدہ و تجربہ کر رکھا ہے اور جو سیاسی لیڈروں اور ورکروں کی خلوت و جلوت کا ’’چشم دید‘‘ گواہ بھی ہے اور سیاسی میدان کا ایک متحرک و موثر کردار بھی۔ وہ موجودہ حالات پر جس طرح کھل کر بولا ہے اور آنے والے حالات پر دہائیاں دے رہا ہے، اس سے اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ خدشات کتنے خوفناک اور اندیشے کس طرح فکر مند کر دینے والے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف جاوید ہاشمی جیسے ’’فطرتی باغی‘‘ اور ’’ایک بہادر آدمی‘‘ ہی کا دل گردہ ہے جو اس بے باکی سے اور اتنا کھل کر بولتا چلا گیا، ورنہ پاکستان میں ’’نادیدہ جبر اور آہنی گرفت‘‘ کا خوف اس طرح کا ہے کہ کوئی کھل کر بات کرتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔ وہ ادارے بھی جو اکثریت والی حکومت اور مقبول قیادت تک کو کٹہرے میں کھینچ لائیں، وہ بھی کسی تصویر اٹھانے والے کا نام لینے کو ’’بوجوہ‘‘ تیار نہیں ہو پاتے، حالانکہ ہر ہر معاملے میں دلچسپی دکھانے میں بہت شہرت رکھی جاتی ہے، اس پھونک پھونک کر قدم اٹھانے والے ماحول میں بھی جاوید ہاشمی نے ساری باتیں کھل کر کردی ہیں اور صاحبان بصیرت کی فکر مندی کو زبان دے دی ہے۔جاوید ہاشمی نے طالع آزماؤں کو بھی خبردار کیا ہے کہ حالات جس طرف جارہے، ان کو سنبھالا نہ دیا گیا تو بہت بڑے اور بہت زیادہ نقصان کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔ ہاشمی نے پچھلے (اسی طرح کے حالات کا بھی ذکر کیا ہے اور) ادوار کو بیان کرکے، ایک لحاظ سے قوت کے زعم میں مبتلا عناصر و طبقات کو متنبہ کیا ہے کہ:

پھر اُسی جادۂ پُر پیچ پہ لغزیدہ خرامی

ٹھوکر جو کبھی کھائی تھی وہ یاد نہیں کیا؟

جاوید ہاشمی اور دیگر تمام جمہوریت پسند، اچھی طرح جانتے ہیں کہ معاملہ محض پاناما کا نہیں، پاناما کا معاملہ ہوتا تو چارسو پاکستانی کٹہرے میں کھڑے ہوتے، وہ بھی کٹہرے میں ہوتے جو ’’شریف خاندان‘‘ کے موجودہ حالات میں بغلیں بجا رہے ہیں۔ کیا عمران خان، ان کی بہنوں، جہانگیر ترین سمیت دیگر لوگوں کی آف شور کمپنیاں نہیں؟ کیا تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی پارٹیوں میں کوئی نہیں جس پر مختلف نوعیت کے الزامات نہ ہوں؟سیاسی پارٹیوں کی بات چھوڑیں، شاید دینی قیادتوں میں بھی سارے دودھ کے دھلے نہ ہوں، پھر ایک ہی خاندان کے دائرہ احتساب میں آ جانے اور باقی کے نہ آنے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیوں؟دوسروں کی طرح اگر نوازشریف اور ان کے خاندانی و قریبی افراد، تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں تو وہ بھی فرشتے ہی قرار پا جائیں گے؟ قرآنی حکم تو یہ ہے کہ ’’کسی قوم کی دشمنی، تمہیں بے عدلی پر آمادہ نہ کر دے‘‘۔سوشل میڈیا پر اس سارے معاملے اور ’’جے آئی ٹی رپورٹ سے منتج تاثرات کے علی الرغم جو تبصرے اور قہقہے بکھر رہے ہیں، وہ جمہوریت والے ملک میں روا رکھے گئے غیر جمہوری رویوں اور اقدامات کا جس طرح مذاق اڑا رہے ہیں، وہ بیان کرتے ہوئے، بعض ’’چھپے ہاتھوں اور دھمک والے بوٹوں‘‘ سے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔

لوگ باگ تو یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’شریف فیملی کے افراد باہمی گفٹ دیں یا لیں تو حرام قرار پائے، مگر کوئی اپنی طلاق دی ہوئی بیوی (کہ جس سے کوئی تعلق بھی نہیں رہنا چاہیے) سے جو چاہے لے دے، وہ حلال ،کیوں کر ہو گیا؟ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جس کمیٹی کے سربراہ پر خود کرپشن کے الزامات یا کیس ہوں، اس کی نگرانی میں بنی کمیٹی کی تحقیقات کی اخلاقی و قانونی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟

وہ تو یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’اگر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ ’’سامنے آنے والے ذرائع آمدن سے بڑھ کر طرز حیات نظر آتا ہے‘‘۔ تو وہ لیڈر جس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو، جو اپنے تمام مال کو ایک رفاہی ادارے کو عطا کر دینے کا دعویدار بھی ہو، وہ بہترین بودوباش سے زندگی بسر کر رہا ہو، بڑے بڑے (کئی) شہروں میں، عظیم ترین رہائش گاہوں اور کئی کئی ملازموں اور پالتو جانوروں پر گراں قدر خرچ بھی کرر ہا ہو۔ اس سے بھی کچھ سوالات ہونے چاہیں یا نہیں؟ بعض لوگ تو موجودہ حالات کو ’’اس یہودی سازش‘‘ کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس کی طرف حکیم محمد سعید شہید نے اپنی کتاب ’’جاپان کی کہانی‘‘ کے صفحہ 13، صفحہ 14، صفحہ 15 پر، واضح اشارہ کیا تھا۔ یہ لوگ تو ’’موجودہ ماحول‘‘ کو ’’سازش‘‘ قرار دے کر اس کا ذمہ دار کردار، اس شخصیت کو قرار دیتے ہیں جس کے بارے میں عظیم سماجی شخصیت مولانا عبدالستار ایدھی نے کہا تھا کہ ’’انہوں نے مجھے اپنی پارٹی میں شمولیت پر زور دیا اور بصورت دیگر جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی‘‘ایک طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو قہقہہ لگا کر کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ نے گڑے مردے تو سبھی اکھاڑ لئے، مگر بھارت کی ان فیکٹریوں اور کاروباروں کا کہیں ذکر نظر نہیں آتا جو سوشل میڈیا پر ’’پوتھیوں‘‘ کے الزامات میں بہت نمایاں کرکے دکھائے جاتے تھے‘‘۔ ایک صاحب نے حیرانی ظاہر کی کہ ’’جو دبئی سی پیک پر پاکستان سے برافروختہ ہے اور بھارت سے بہت بڑا معاہدہ کر چکا ہے، اس کی بات پر اتنا بڑا اعتبار کرتے ہوئے کچھ سوچا کیوں نہ گیا؟ اپوزیشن کی وہ پارٹیاں جو پہلے ہی حکومت کے خلاف تھیں اور شروع دن سے نوازشریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہیں( پہلے دھاندلی کا شور مچا کر استعفیٰ مانگتی رہی ہیں اور اب کرپشن کے بہانے مانگ رہی ہیں) وہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ تمام پارٹیاں استعفے پر متفق ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی اور اسفندیارولی کا واضح بیان استعفے کے خلاف آ چکا ہے، اسی طرح بلوچستان کی کئی پارٹیاں بھی استعفے کے خلاف ہیں تو اپوزیشن کے دعوے کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بھی ایک دلچسپ پوسٹ موجود ہے کہ ’’اگر خدانخواستہ جمہوریت کا آئل ٹینکر الٹ گیا تو اپوزیشن والے تیل لوٹتے ہوئے احتیاط کریں، کہیں حادثہ ہو گیا تو سبھی تیل لوٹنے والے جل کر راکھ ہو سکتے ہیں‘‘۔ اپنی طرف سے کسی تبصرے یا تجزیئے کی بجائے، ایک ہی بات سوچ رہا ہوں کہ اگر موجودہ حکومتی پارٹی نکال پھینکی گئی تو حکومتی فارمولا کیا ہوگا؟ اگر ٹیکنوکریٹ حکومت بنی تو استعفے کا مطالبہ کرنے والی پارٹیوں کے ہاتھ کیا آئے گا؟ اور اگر ان پارٹیوں پر نوازشات ہو ہی گئیں تو تقسیم کیا ہوگی؟ سندھ پیپلزپارٹی ،کراچی ایم کیو ایم اور پنجاب پی ٹی آئی کے ہاتھ آ گیا تو کیا خیبر پختونخوا میں بھی بلوچستان کی طرح مخلوط حکومت بن سکتی ہے؟ یا ان پارٹیوں میں کچھ اور ہی کھچڑی پکے گی؟جے آئی ٹی رپورٹ کے سامنے آنے پر خوشی اور غم کی ملی جلی کنفیوژن میں سیاسی دنیا تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے۔ مختلف امکانات اور خدشات پر باتیں، ملاقاتیں اور اجلاس ہو رہے ہیں۔ معاشی حالات دگرگوں اور اسٹاک ایکسچینج، مسلسل روبہ تنزل ہے۔ پاکستان کی ہر دم خیر مانگنے والے خدشات میں گھرے حالات سدھرنے اور فضا معتدل ہونے کی دعائیں کر رہے ہیں، جمہوریت کے خیر خواہوں کو اس ساری صورت حال میں ’’بھیانک سازش‘‘ کی بو آ رہی ہے۔ بہتری کے آرزو مندوں کو یہ تمام کارروائی احتساب سے زیادہ نوازشریف کو ہٹانے کا معاملہ دکھائی دے رہا ہے۔۔۔ اس صورت حال پر فکر مندی میں پتہ نہیں کیوں ،میرا وجدان کہتا ہے کہ سی پیک ہی ان حالات کا حساس ترین اور نازک ترین جز ہے، اس کے حوالے سے تمام معاملات سدھر جائیں تو حالات بھی سدھر جائیں گے۔ آرمی چیف کا بیان بھی اسی کا احساس دلا رہا ہے۔

مزید : کالم


loading...