وزیراعظم سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟

وزیراعظم سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟
 وزیراعظم سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟

  



اپوزیشن جماعتوں اور ان کے سربراہوں کا اس وقت سب سے بڑا روگ مسلم لیگ (ن) والے میاں محمد نواز شریف کا پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر اس طرح جم کا بیٹھ جانا ہے کہ وہ گزشتہ کئی سال سے دھرنوں کے ذریعے کی جانے والی فریاد، جلسوں کے طوفان اور جلوسوں کی آندھیوں سے بھی اس طرح متزلزل نہیں ہو سکے کہ ان کے وزارت عظمیٰ سے محروم ہو جانے کا امکان کسی طرح بھی اور کسی حد تک بھی پیدا ہو جاتا ۔ حالانکہ اگر اپوزیشن جماعتیں عام انتخابات میں کامیاب ہو کر ایوان اقتدار پر قابض ہو جانے والی مسلم لیگ (ن) کی باقی مدت اقتدار کا جائزہ لینے کا طریقہ اختیار کر لیتیں تو ان کو صاف نظر آ جاتا کہ وزارت عظمیٰ کی مدت انتخابی نقطہ نظر سے تو نہایت کم رہ گئی ہے کیونکہ اگلے سال یعنی 2018ء میں تو عام انتخابات یقینی ہیں کیونکہ قومی اسمبلی کی مدت 5جون کو ختم ہو رہی ہے لیکن جو روگ ان اپوزیشن سیاسی جماعتوں کو لگا ہوا ہے ان کا علاج تو کسی چھوٹی سیاسی علاج گاہ میں نہیں ہے اس کا علاج تو اسی سیاسی ہسپتال میں ہے جس کو ہم پارلیمنٹ کہتے ہیں۔

2013ء میں جو انتخابات ہوئے تھے ان میں صرف میاں نواز شریف ہی کامیاب نہیں ہوئے تھے وہ تمام شخصیات بھی کامیاب ہوئی تھیں جو اس وقت پارلیمنٹ کی ممبر ہیں اور ایوان پارلیمنٹ کے اندر ان شخصیات کے ووٹ ہی سے میاں محمدنواز شریف وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے تھے وہ کسی دھرنے، کسی جلسے یا کسی جلوس کی طاقت سے وزیر اعظم منتخب نہیں ہوئے تھے چنانچہ ان کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد اگر پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کو میاں نواز شریف کے فکر و تدبر و بصیرت اور قوم و وطن کے بارے میں ان کی پالیسیوں میں کچھ خرابیاں نظر آنے لگی ہیں اور ان کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دینا قوم و وطن کی سالمیت اور بقا کا اقتضا بن گیا ہے تو اس کا حل تو اسی ضابطہ انتخاب میں موجود ہے جس ضابطہ انتخاب نے ان کو وزارت عظمیٰ دی ہے یعنی اپوزیشن جماعتیں پاکستان کی پارلیمنٹ کے اندر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا کر اسے کامیاب کرائیں اور وزیر اعظم کو بطور وزیر اعظم اُٹھاکر ایوان سے باہر پھینک دینے کا استحقاق حاصل کر لیں۔ لیکن اگر اپوزیشن جماعتوں کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے ہاسپیٹل سے اپنے روگ کا علاج کرا سکیں اور یقیناًان کے پاس مذکورہ طور پر اپنے روگ کا علاج کرانے کی استطاعت نہیں ہے ورنہ وہ پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کرکے بھی وزیر اعظم کو ان کے منصب سے ہٹا چکے ہوتے اور نیا وزیر اعظم منتخب کرنے کے لئے آپس میں لڑ رہے ہوتے۔

پارلیمنٹ کے اندر پاکستان تحریک انصاف یا پاکستان پیپلزپارٹی یا پاکستانی ایم کیو ایم یا جماعت اسلامی یا کسی اور اپوزیشن جماعت کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر وزیر اعظم کو ان کے منصب سے ہٹا سکے تو پھر سپریم کورٹ کے فیصلے ہی کا انتظار کرنا ہو گا اور عمران خان جیسے لوگ تو جے آئی ٹی رپورٹ آ جانے پر وزیر اعظم نواز شریف سے سیاسی طور پر نجات حاصل کر لینے کے باب میں اتنے پر امید ہو چکے ہیں کہ وہ اس وقت بھی اتنے پرامید نہیں تھے جب انہوں نے صدر پرویز مشرف کا ایلچی ہونا فخریہ طور پر قبول کر لیا تھا اور عمران خان کا وزیر اعظم سے نجات حاصل کر لینے کا خواب اس لئے بھی شرمندۂ تعبیر ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کے لیڈروں نے فریاد کناں ہو جانے کی حد تک جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاف واویلا کرنا شروع کر دیا ہے اور باور یہی کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگرچہ اس رپورٹ کے بارے میں کھل کر کوئی بات نہیں کر رہے ہیں مگر اندر سے وہ بھی خائف ہیں کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں جو کچھ سامنے آ چکا ہے وہ سپریم کورٹ کے اندر بھی کہیں سچ ہی نہ مان لیا جائے اور اگر یوں ہو گیا توپھر کیا ہو گا پھر ان کے سارے اقتصادی منصوبے کہاں جائیں گے کیونکہ ارسطو سے لیکر اب تک حقیقی جمہوریت کے فور فادرز، بزرگان اور سرپرستان اس حقیقت کا علم بلند کئے ہوئے ہیں کہ کسی کاروباری آدمی کے سپرد عنان حکومت نہیں کی جانی چاہئے ورنہ جمہوریت کی جڑ کٹ جائے گی اور جمہوریت کا پودا مرجھا جائے گا۔

ہمارے یہاں تو سوائے کاروباری لوگوں کے عنانِ حکومت کسی اور کے ہاتھ آئی ہی نہیں ہے کیونکہ ایک کاروباری آدمی بطور حکمران جہاں بھی جاتا ہے۔ بجا طور پر باور کیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے میزبان حکمران سے اپنے کاروبار کی بات کرتا ہے ورنہ کیا وجہ تھی کہ پاکستان کا بدترین دشمن مودی جب بھارت کا وزیر اعظم بنا تو اس کی حلف برداری کی تقریب میں بھارت کی کسی دعوت سے پہلے ہی اس میں شمولیت کرنے کے لئے میاں محمد نواز شریف پھولے نہیں سما رہے تھے حالانکہ وہ ملت پاکستان کے مزاج سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ پاکستان کا جو لیڈر بھارت کے ساتھ دوستی اور محبت کی پینگیں بڑھانے کی کوشش کا آغاز کرتا ہے پاکستان کے اندر اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہوا اکھڑی ہوئی ہے کیونکہ ملت پاکستان اندر سے یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کا جو حکمران بھی بھارتی حکمران کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے وہ پاکستان کے قیام کے بنیادی مقاصد و نظریات سے انحراف کرتا ہے اور پاکستان اس کے ہاتھوں میں لرزاں ہو جاتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی وہ قربانیاں بھی جو وہ بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کرتے ہوئے پیش کر رہے ہیں وہ دہل جاتی ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے اندر ہر بچہ، جوان اور معمر شخصیت حیران و ششدر رہ جاتی ہے۔

میں تو ذاتی طور پر ان جذبات و خیالات کا انسان ہوں کہ پاکستان کی کسی بھی شخصیت کو وہ خواہ صدر ہو، وزیر اعظم ہو یا کسی اور اہم منصب پر فائز ہو بھارت کے صدر یا وزیر اعظم یا کسی دیگر اہم شخصیت سے’’ون ان ون‘‘ ملاقات نہیں کرنی چاہئے۔ آخر پاکستان کے نمبر ون دشمن بھارت کی کسی بھی بڑی شخصیت سے ’’ون آن ون‘‘ ملاقات کس سلسلے میں کی جاتی ہے ہمارے حکمران اس حقیقت کو ملحوظ نہیں رکھتے اور خصوصاً نواز شریف تو اس معاملے میں قوم و وطن کے جذبات کو قطعاً ملحوظ نہیں رکھتے، آصف علی زرداری کے فکری حالات کا بھی وہی عالم ہے مگر میں پھر بھی کہوں گا کہ نواز شریف تو پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور آصف علی زرداری بھی پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں وہ اگر کسی اپنے وفد کے ساتھ بھارت کے صدر یا وزیر اعظم سے مل لیں تو مل لیں مگر عمران خان کس بنیاد پر بھاگے بھاگے مودی کے پاس پہنچے تھے اور انہوں نے مودی کے ساتھ ملاقات میں اسے کیا کہا ہو گا یا مودی نے ان کو کیا سمجھایا ہو گا گویا یہ سب انتہائی قابل احتساب طرز عمل ہے اور پاکستان کے اپنے نقطہ نظر سے ایک انتہائی قابل گرفت بدعنوانی ہے اور کوئی بدعنوان سیاستدان ایک بدعنوان حکمران کو کیا معزول کرے گا اور اس نام نہاد جمہوریت میں ایک مکمل غیر جمہوری وزیر اعظم سے کس طرح نجات حاصل کر سکے گا۔

مزید : کالم