تفہیمِ اقبال:بانگ درا (3)

تفہیمِ اقبال:بانگ درا (3)
 تفہیمِ اقبال:بانگ درا (3)

  



(2)

امتحانِ دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تُو

پاسباں اپنا ہے تُو، دیوارِ ہندُستاں ہے تُو

مطلعِ اوّل فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تُو

سُوئے خلوت گاہِ دل دامن کشِ انساں ہے تُو

برف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سر

خندہ زن ہے جو کُلاہِ مہر عالم تاب پر

اس بند کا سلیس اردو یہ ہے:

’’اے ہمالہ! بظاہر تو تُو ایک پہاڑ ہے۔ لیکن ہم ہندوستانیوں کا محافظ ہے اور ہندوستان کے لئے ایک حفاظتی دیوار کا کام دیتا ہے۔ تو شاعر کا وہ دیوان ہے جس کی پہلی غزل کا پہلا شعر آسمان (فلک) ہے۔ تیری تنہائی ایسی دلآویز اور دلکش ہے کہ ہر انسان اس کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ تیرے سر پر برف کی وہ پگڑی بندھی ہوئی ہے جو تیرا طرۂ امتیاز بھی ہے اور جو سورج کی پگڑی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی‘‘۔

اس بند میں اقبال نے ہمالہ کی چوٹیوں پر ہمیشہ جو برف پڑی رہتی ہے اس کو برفانی دستارِ فضیلت قرار دے کر اپنے زورِ تخیل اور قوتِ ایجاد کا ثبوت دیا ہے۔

(3)

تیری عمرِ رفتہ کی اک آن ہے عہدِ کُہن

وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن

چوٹیاں تیری ثرّیا سے ہیں سرگرمِ سخن

تُو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن

چشمہ ء دامن ترا آئینہء سیّال ہے

دامنِ موجِ ہوا جس کے لئے رُومال ہے

’’تیری عمر اتنی زیادہ ہے کہ انسانی فکر کا دورِ گزشتہ اس کے سامنے محض ایک لمحہ (آن) ہے۔ تیری وادیوں میں کالی گھٹائیاں خیمہ زن رہتی ہیں اور تیری چوٹیاں آسمان کے ستاروں سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔ ویسے تو تیرے پاؤں زمین میں گڑے ہوئے ہیں لیکن سارا آسمان تیرا وطن معلوم ہوتا ہے۔ تیرے دامن میں جو چشمے بہہ رہے ہیں وہ گویا بہتے ہوئے آئینے ہیں۔ ان آئینوں کی صفائی کرنے کے لئے جو ہوائیں چلتی ہیں وہ گویا رومال ہیں جو آئینوں کے گردوغبار کو صاف کر دیتی ہیں‘‘۔

اس بند میں کوہستانی چشموں کو آئینوں سے تشبیہ دی ہے۔ آئینہ بہت شفاف ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لئے اس کو ہر وقت رومال / کپڑے سے صاف کرنا پڑتا ہے۔ اقبال نے دامنِ موجِ ہوا کو ایک ایسا رومال کہا ہے جو ہر آن اس آئینہ سیال کو شفاف رکھتا ہے۔۔۔ آئینہ اور رومال کی یہ تشبیہ اردو اور فارسی شاعری میں خال خال ہی ملتی ہے۔

(4)

اَبر کے ہاتھوں میں رہوارِ ہوا کے واسطے

تازیانہ دے دیا برقِ سرِ کہسار نے

اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تُو بھی، جسے

دستِ قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لئے

ہائے کیا فرطِ طرب میں جُھومتا جاتا ہے اَبر

فیلِ بے زنجیر کی صورت اُڑا جاتا ہے اَبر

’’اے ہمالہ! تیرے دامن میں جو ہوائیں چلتی ہیں وہ گویا سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑے (راہوار) ہیں اور تجھ پر جو برق کوندتی رہتی ہے، وہ ان گھوڑوں کے لئے چابک کا کام دیتی ہے۔ تُو ایک ایسا پلے گراؤنڈ (بازی گاہ) ہے جس کو قدرت نے عناصر (Elements) کے کھیل کے لئے یہاں تخلیق کر دیا ہے۔ ذرا دیکھئے تو کہ بادل کس عالمِ سرمستی میں جھومتے جھامتے گزر رہے ہیں۔ لگتا ہے، مست ہاتھی ہیں جو زنجیریں تڑوا کر اور بدمست ہوکر بھاگے جا رہے ہیں۔‘‘

پہاڑوں پر آگ (برق) پانی، مٹی اور ہوا وہ عناصرِ اربعہ ہیں جو ازل سے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ اقبال نے کوہ ہمالہ کو ان عناصرِ اربعہ کا Play Ground کہہ کر اردو ادب و شعر میں ایک نئی تشبیہ کا اضافہ کیا ہے۔

(5)

جنبشِ موجِ نسیمِ صبح گہوارہ بنی

جُھومتی ہے نشّہء ہستی میں ہر گُل کی کلی

یوں زبانِ برگ سے گویا ہے اس کی خامشی

دستِ گُل چیں کی جھٹک مَیں نے نہیں دیکھی کبھی

کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا

کنجِ خلوت خانہ ء قدرت ہے کاشانہ مرا

’’اے ہمالہ! تیرے دامن میں جو باغات ہیں ان میں جو کلیاں کھل رہی ہیں ان کو صبح کی آہستہ رو ہوا، جھولا جھلاتی ہے یہ کلیاں یہاں بڑے سکون اور بے فکری کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے انہوں نے آج تک کسی گلچیں کے ہاتھوں کی جھٹک تک محسوس نہیں کی۔ ہر کلی گویا کہہ رہی ہے کہ فطرت کا یہ گوشہ ء تنہائی ہی میرا گھر ہے اور میری خاموشی ہی میرا افسانہ ہے!‘‘۔

اس بند میں برگِ گل کی نزاکت اور خامشی کو کوہ ہمالیہ کی پُرشور فضاؤں اور ہواؤں کے مقابلے میں ایک متضاد کیفیت کا حامل بتایا گیا ہے۔ جن حضرات کو پہاڑوں پر جانے کا اتفاق ہوا ہے انہوں نے دامنِ کوہ میں ایسے کئی مقامات اور کج ہائے خلوت دیکھے ہوں گے جن میں پھولوں اور کلیوں کا سکون باتیں کرتا اور بولتا محسوس ہوتا ہے۔(راقم الحروف کو خنجراب سے لے کرگلگت، ایبٹ آباد، کشمیر، باغ، کوئٹہ اور وزیرستان کے وہ باغات یاد آ رہے ہیں جو فوجی ملازمت کے سلسلے میں نہ صرف دیکھنے کو ملے بلکہ ان سے پہروں ہمکلام ہونے کے مواقع بھی ملے!(

(6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی

کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی

آئنہ سا شاہدِ قُدرت کو دِکھلاتی ہوئی

سنگِ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی

چھیڑتی جا اس عراقِ دل نشیں کے ساز کو

اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو

’’اے ہمالہ! تیری اونچائی سے جب کوئی ندی نیچے کی طرف آتی ہے تو اس کا شفاف پانی، کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتا ہے۔ اس پانی میں آس پاس کا سارا حسن منعکس ہو کر عجیب منظر سامنے لاتا ہے۔ اس ندی کا بہاؤ قابلِ دید ہوتا ہے۔ کبھی وہ راستے کے پتھروں سے ٹکراتی ہے اور کبھی ان سے بچ کر نکل جاتی ہے۔ اس ندی کی آواز میں ایسا حسنِ صوت پوشیدہ ہے جو انسانی دل کے تاروں کو بھی جھنجوڑ دیتا ہے۔ یہ دل، ندی کے اس صوتی گیت کو بڑی اچھی طرح سمجھتا ہے۔‘‘

کوہستانی ندی پر اقبالؒ کی ایک بے مثال نظم پیام مشرق میں بھی ملتی ہے جس میں انہوں نے ندی کے اس سفر کے نشیب و فراز کو انسانی زندگی کے نشیب و فراز سے تشبیہ دی ہے۔ اس کا ایک شعر دیکھئے:

بنگر کہ جوئے آب چہ مستانہ می رود

از خود یگانہ از ہمہ بیگانہ می رود

(ذرا دیکھ کہ پانی کی ندی کس طرح مستانہ وار بہہ رہی ہے۔۔۔ اپنے آپ سے بیگانہ اور بے خود اور بے مثال!)

(7)

لیلیِ شب کھولتی ہے آ کے جب زُلف رسا

دامنِ دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا

وہ خموشی شام کی جس پر تکّلم ہو فدا

وہ درختوں پر تُفکرِ کا سماں چھایا ہُوا

کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفق کہسار پر

خُوش نُما لگتا ہے یہ غازہ ترے رُخسار پر

اے ہمالیہ! جب تیری فضاؤں میں شام پڑتی ہے اور رات طاری ہو جاتی ہے اور شب کی لیلیٰ جب اپنی دراز زلفیں کھول دیتی ہے اور جب ساتھ ہی آبشاروں کی صدا دل کو کھینچنے لگتی ہے اور فضا پر ایسی خاموشی چھا جاتی ہے جس پر تقریر بھی فدا ہو اور تجھ پر اُگے ہوئے ہوئے سارے درخت سر جھکا کر ایسے کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے کوئی فلسفی، تفکر میں ڈوبا ہوا ہو اور جب شام کا سورج تمہارے عقب میں غروب ہونے لگتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ رنگِ شفق بھی ایک گلابی رنگ کا پاؤڈر ہے جو فطرت نے تمہارے رخساروں کے میک اپ کے لئے یہاں پیدا کر دیا ہے۔‘‘

اس بند کی خاص بات، کوہساروں پر رات کی خاموشی کے علاوہ وہ تشبیہ ہے جو اقبالؒ نے رخسارِ کوہسار پر شفق کی سرخی سے دی ہے ۔شام ہوتے ہی لیلیٰ شب، اپنے بناؤ سنگھار میں مصروف ہو جاتی ہے، ندی آئینہ بن جاتی ہے اور شفق کی سرخی غازہ ہو جاتی ہے اور رات کی سیاہی کاجل کا کام دیتی ہے۔ غالب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز

پیشِ نظرہے آئینہ، دائم نقاب میں

(8)

اے ہمالہ! داستاں اُس وقت کی کوئی سُنا

مسکنِ آبائے انساں جب بنا دامن ترا

کچھ بتا اُس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا

داغ جس پر غازۂ رنگِ تکلُّف کا نہ تھا

ہاں دکھا دے اے تصوُّر پھر وہ صبح و شام تُو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو

’’اے ہمایہ! اس دور کی کوئی کہانی مجھے بھی سنا جب انسان نے تیرے دامن میں آکر بسنا شروع کیا تھا، جب ان لوگوں میں بناوٹ اور تکلف کا شائبہ تک نہ تھا۔ اے میرے تصور! مجھے ایک بار پھر اسی دور کی صبح و شمام و شب کا نظارا کروا ۔ اے گردشِ لیل و نہار! ذرا پیچھے کی طرف بھاگ تا کہ میں وہ عہد گزشتہ ایک بار پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔‘‘

یہ آٹھواں اور آخری بند ایک سراسر ذاتیاتی (Subjective) بند ہے جس میں شاعر اپنے خارج سے لا تعلق ہونا چاہتا ہے۔ اب تک تو وہ خارج کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہا ہے۔۔۔ کبھی ندی، کبھی چشمے، کبھی باغ، جنگل، چمن، پھول، کلیاں اور دوسرے عناصرِ فطرت۔۔۔۔ کبھی ابر، کبھی برق، کبھی آبشار، کبھی برف و باراں۔۔۔ اب آخر میں وہ چاہتا ہے کہ اس لمحے کو بھی دیکھے جب پہلی بار انسان نے ان مناظرِ فطرت کو دیکھا تھا۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ ’’اس انسان‘‘ پر ان مظاہر کا اثر اور ردعمل کیا تھا!(جاری ہے)

مزید : کالم