نواز شریف کو ملک و ترقی کی راہ پر ڈالنے کی سزا دی جا رہی ہے : مدیحہ رانا

نواز شریف کو ملک و ترقی کی راہ پر ڈالنے کی سزا دی جا رہی ہے : مدیحہ رانا

  



لاہور(فورم :دیبا مرزا :تصاویر ندیم احمد) مسلم لیگ (ن) کی ایم پی اے مدیحہ رانا نے کہا ہے کہ ہمارے قائد میاں محمد نواز شریف کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے اور سی پیک کا منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھانے کی سزا دی جارہی ہے پاکستان کی ترقی کے مخالف یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کا سی پیک کا منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھے جس طرح سے ہماری حکومت نے پاکستان کو معاشی ترقی بھی دی ہے اس وجہ سے بھی بہت سے ملک دشمن عناصر ہماری حکومت کے خاتمے کی کوششون میں لگے ہوئے ہیں سازی عناصر بتائیں کہ پاکستان کو موٹروے کا تحفہ کس نے دیا ہے پنجاب بھر کے بڑے شہروں میں اورنج لائن میٹرو بسوں کے تحفے کس نے دئیے ہیں ملک بھر میں یکساں ترقیاتی کام کس جماعت نے کروائے ہیں اور ملک سے اندھیروں کے خاتمے کے لئے کونسی جماعت کوشاں ہے یہ بات (ن) لیگ کے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ’’ پاکستان فورم‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔مدیحہ رانا کا کہنا تھا کہ مجھ جیسی پارٹی کی ایک ادنیٰ کارکن کو فیصل آباد میں بھی پارٹی کے لئے کام کرنے کے لئے عہدہ دیا گیا ہے اور ایم پی اے بنا کر خواتین کے مسائل کو اسمبلی کے پلیٹ فارم پر حل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے مجھ سمیت پارٹی کی دیگر خواتین نے پنجاب بھر کی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے ا سمبلی سے قانون سازی کروائی ہے اور اس طرح کی قانون سازی کروائی ہے کہ جس سے خواتین کو بھی مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہو سکیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک ورکر دوست اور خواتین دوست جماعت ہے وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے پنجاب کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو وزیر خزانہ کا محکمہ دیا جنہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپوزیشن کے تمام تر شور شرابے کے باوجود بہترین بجٹ پیش کئے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی مخالفت ہے لیکن اس جماعت کے لیڈر عمران خان نے ہماری لیڈر شپ پر ذاتی سطح کے حملے کئے ہیں اور اب تک کررہے ہیں اگر یہ جماعت اپنی منفی سوچ کو ختم کرکے تعمیری کام کرنا شروع کردے اور ملکی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کاکام بند کردے تو پاکستان کی ترقی کو کوئی بریک نہیں لگا سکے گا ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ ہی جمع کروائی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی یہ رپورٹ نہ مکمل ہے اس لئے اس نا مکمل رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیراعظم سے استعفی مانگنا عوامی ووٹ کی توہین ہے وزیراعظم کسی کی خواہش پر کیوں مستعفی ہوں عمران خان کو یہ علم ہونا چاہئے کہ وزیراعظم بننے کی لکیر ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے وہ کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتے جبکہ غیر ملکی فنڈز کے کیس میں ان کی اپنی پکڑ ہونے والی ہے اور پاکستان کے دشمنوں سے فنڈز لینے کی پاداش میں ان کی پارٹی پر پابندی بھی لگ سکتی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...