’’مجھے جے آئی ٹی پر فخر ہے‘‘

’’مجھے جے آئی ٹی پر فخر ہے‘‘
 ’’مجھے جے آئی ٹی پر فخر ہے‘‘

  



اگر سپریم کورٹ کی طرف سے تلاش کئے گئے ہیروں کی صرف ساٹھ روز میں دکھائی گئی محیر العقول اور فقید المثال کارکردگی کو دیکھتے ہوئے آپ کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو نہیں آتے، آپ خود کو اس محنتی اور فرض شناس قوم کاایک فرد سمجھتے ہوئے ایک عظم احساس تفاخر کے ساتھ شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے لئے دوڑ نہیں پڑتے تو مجھے آپ کی حب الوطنی پر شک ہے وررنہ آپ تو اس قوم کے فرد ہیں جس کے بچوں کو گرمیوں کی چھٹیوں کا کام کرتے ہوئے غش پڑتے ہیں ا ور سرکاری افسران کی ہڈحرامی ضرب المثل بن چکی ہے مگر دوسری طرف جے آئی ٹی کے فرض شناس ارکان ہیں جو اپنی رپورٹ اور ثبوتوں پر مشتمل آٹھ ہزار صفحات کا پلندہ صرف ساٹھ دنوں میں تیار کر لیتے ہیں،ان میں ایسی فوٹوکاپیاں بھی شامل ہیں جن کا پڑھا جانا ہی بہت مشکل ہے مگر اس کے باوجود چو نکہ پوری قوم کی نظریں ان کی طرف لگی ہوئی ہیں لہٰذا سربراہ کے علاوہ دیگر پانچ ارکان کے مضبوط کندھوں پر روزانہ بارہ، بارہ گھنٹوں کی تھانے دارانہ تفتیش کے علاوہ سولہ سو صفحات کی تدوین کی ذمہ داری بھی آئی اور اس طرح ہر روز انہیں چھبیس سے ستائیس صفحوں کی جانچ پڑتال یا لکھائی کا کام کرنا پڑا،ہر رکن نے اگر ایک صفحے کو لکھنے یا اس کی تصدیق میں روزانہ صرف آدھ گھنٹہ بھی صرف کیا تویہ تیرہ سے زائد گھنٹے بنے، سلام ہے ان ارکان پر جو اپنی نیند ، کھانے ، خاندان اور عید تک کو قربان کرتے ہوئے روزانہ چوبیس میں سے چھبیس گھنٹے کام کرتے رہے۔

جے آئی ٹی کے ارکان کا احساس ذمہ داری تو دیکھئے کہ سپریم کورٹ نے جو سوال پوچھے بھی نہیں، ان کا بھی جواب دے دیا بلکہ قومی مفاد میں فرض شناسی کی انتہا تو یہ ہے کہ جواب ہی ان سوالات کے دئیے ، زیر بحث بات لندن کے فلیٹوں کی تھی مگر قانون اور انصاف کی نئی نظیر قائم کرتے ہوئے جے آئی ٹی نے بیس ، بیس برس سے زائد پرانے ان تمام کیسوں کو بھی کھولنے کی سفارش کی جس پر عدالتیں فیصلے سنا چکی ہیں۔ انہوں نے جس طرح وزیراعظم محمد نواز شریف کا ایک آف شور کمپنی کا چیئرمین ہونا ڈھونڈا ہے وہ یقینی طور پر قابل تعریف اقدام ہے اوران کے اس طریقہ کار کو پاکستان کی تمام تفتیشی ایجنسیوں کے نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے، وہ رپورٹ کو اس حد تک مقدس رکھنا چاہتے تھے کہ انہوں نے وزیراعظم سے اس آف شور کمپنی بارے سوال تک نہیں کیا کہ خدانخواستہ کسی بھی تردید یا حقائق کی وضاحت سے ان کی رپورٹ مشکوک اور متنازعہ نہ ہوجائے۔ ہم پاکستانیوں کو ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ ہمارے تحقیقاتی ادارے جدید ذرائع سے کام نہیں لیتے۔ انہوں نے مریم نواز شریف کی دستاویزات کو محض اس بنیاد پر جعلی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ تک کو گمراہ کرنے کا سراغ لگا لیا کہ جس فونٹ میں وہ دستاویز 2006ء میں لکھی گئی اس کی آفیشل ریلیز2007ء میں ہوئی تھی اور اب یہ بات الگ ہے کہ یہ فونٹ 2004 سے دستیاب تھا اور اسے ڈاون لوڈ کیا جا سکتا تھا مگر ایک حقیقی ایماندار اور پروفیشنل شخص کو یقینی طور پر اس فونٹ کو اسی وقت استعمال کرنا چاہئے تھا جب وہ باقاعدہ ریلیز ہوتا ، جے آئی ٹی کا یہ موقف اس لئے بھی بہت زیادہ مضبوط ہے کہ وہ جس معاشرے اور ریاست سے تعلق رکھتی ہے وہاں ونڈوز سمیت تمام سافٹ وئیرز صرف لائسنس حاصل کرنے کے بعد ہی استعمال ہوتے ہیں۔

جے آئی ٹی کی کارکردگی اس لئے بھی ہمارے تحقیقاتی اداروں کے لئے قابل تقلید ہے کہ اس نے دنیا بھر کے ممالک میں جائے بغیر ہی وہاں سے ثبوت اکٹھے کر لئے یقیناقومی خزانے کا ضیاع اسی طرح روکا جا سکتا ہے۔ جب ہم نے سوچ رکھا ہو کہ ہم نے کرپشن کی بیخ کنی کرنی ہے تو ہمیں اس ملزم کی بات ہی نہیں سننی چاہئے جسے ہم اپنے دل اور دماغ کی اتھاہ گہرائیوں سے مجرم سمجھتے ہوں۔ شریف خاندان لندن کے فلیٹوں کے لئے قطر کے سابق وزیراعظم کی گواہی کے ساتھ منی ٹریل پیش کرتا ہے مگر یہ جے آئی ٹی کی ہمت ،محنت اور صلاحیت ہے کہ اس نے قطر کے سابق وزیر اعظم سے تحقیق کئے بغیر ہی اس ثبوت کو افسانہ قرار دے دیا اوراس کے مقابلے میں ایک نئی منی ٹریل پیش کر دی جس کے بعد ہر قسم کی تحقیق و تفتیش بے معنی قرار پاتی ہے۔مجھے جے آئی ٹی کی محنت کو اس لئے بھی خراج تحسین پیش کرنا ہے کہ ان شیر جوانوں نے ساٹھ دنوں میں ا یک مرتبہ بھی عوامی، سرکاری منصوبوں میں لوٹ مار کے کسی الزام کی کوئی تحقیق نہیں کی، وہ شریف خاندان کے ذاتی کاروبار کی چھان بین کرتے رہے، انہوں نے اس سوال کو بھی پاوں کی ٹھوکر سے مسترد کر دیا جو بار بار ہوتا رہا کہ کیا شریف خاندان پر کسی منصوبے میں رشوت، کمیشن یا کک بیکس لینے کا کوئی الزام اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت موجود ہے۔ دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ گلف اسٹیل ملز کو بھی 1974 میں قائم کیا گیا اور1986ء میں بیچ دیا گیا مگر یہ بات ذہن میں رکھئے کہ شریف خاندان کو اس معاشرے میں بے نقاب کرنا ضروری تھا جس میں کسی جج، جرنیل، جرنلسٹ، بیوروکریٹ، تاجر اور کھلاڑی کے اثاثے اس کی آمدن سے ایک پائی زیادہ نہیں ہیں۔

جے آئی ٹی تو اتنی محنتی اور اتنی عقل مند تھی کہ اس نے تمام محب وطن قوتوں کا تعاون حاصل کیا اور یہی وجہ ہے کہ رپورٹ میں ایک سے زائد مرتبہ یہ بھی لکھا ہوا پایا گیا کہ اگر ہم نے یہ سوال کر لیا ہو تو اسے ڈیلیٹ کر دیا جائے، یعنی جے آئی ٹی کوئی �آمرانہ سوچ نہیں رکھتی تھی بلکہ اس نے تعاون کے دروازے اس حد تک کھلے رکھے کہ بعض خیرخواہوں کے مطابق آخر میں رپورٹ پروف ریڈنگ تک کے لئے نہیں مانگی ورنہ بہت ساری غلطیاں درست ہو سکتی تھیں۔ جے آئی ٹی اپنی ساکھ کے حوالے سے اتنی حساس تھی کہ اس نے قوم کے باکردار ترین شخص فواد چودھری کو اپنا غیر اعلان شدہ ترجمان مقرر کر دیا جو ہر روز جوڈیشل اکیڈیمی میں پوچھے گئے سوالوں پر مبنی انکشافات کرتا تھا اور بتاتا تھا کہ وزیراعظم سمیت شریف خاندان کے تمام افراد کہاں ، کہاں سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہے۔ طاہر القادری کی طرح بہت سارے لوگ یہ کنفیوژن پھیلاتے تھے کہ جے آئی ٹی مک مکا کے تحت سب کچھ کر رہی ہے مگر فوٹو لیک کے ذریعے اس کا بھی دفاع کیا گیا۔ جے آئی ٹی نے یقینی طور پر پاکستان کو ایک خاندان کی بادشاہت سے بچایا ہے اور ہمیں ا س پر بھی فخر کرنا چاہئے کہ ہم دنیا کی تاریخ میں واحد قو م ہیں جس نے ایک پورے خاندان کوعوامی حمایت رکھنے کے باوجود سیاست سے نکالنے کے لئے ایک جے آئی ٹی تشکیل دی اور اس جے آئی ٹی نے اس خاندان کو بے نقاب کرنے میں جو زبان استعمال کی وہ کوئی سچا اور کھرا شخص ہی استعمال کر سکتا ہے مثال کے طور پر انہوں نے وزیراعظم کے داماد کے بارے لکھا، ’ کیپٹن صفدر جھوٹا، بے ایمان، فراڈیا اور انحرافی ثابت ہوا‘ ، جے آئی ٹی سے پہلے ایسی زبان بولنے کا حوصلہ صرف عمران خان اور شیخ رشید کے پاس ہی تھا۔

کیا آپ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراض کر نے کا سوچ رہے ہیں تو ایک لمحے کے لئے ٹھہر جائیں، ایک بڑے ٹی وی چینل پر ایک بڑے اینکر صاحب پروگرام کر رہے ہیں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر بھارتی میڈیا کیوں شور مچا رہا ہے۔ اس سے آپ پر واضح ہوجانا چاہئے کہ اگر آپ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراض کریں گے تو آپ کس صف میں کھڑے ہوجائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ابھی آپ کو عقل نہ آ رہی ہو اور بعض اوقات عقل گولیاں کھانے کے بعد ہی آتی ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ آپ اس رپورٹ کو سو فیصد درست تسلیم کر لیں اور میری گواہی تو ریکارڈ پر رکھ لیں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بہت ہی محترم اور مقدس ہے۔ مجھے اپنی جے آئی ٹی پر فخر ہے جس نے ایک کمرے میں بیٹھے بیٹھے مائنس ون کی خواہش کو اتنا ہی آسان کر دکھایا ہے جتنا آسان عمران خان سوا سو دنوں کے دھرنوں اور ان کے کزن شاہراہ دستو ر پر قبریں کھودنے اور کفن پہننے کے باوجود نہیں کر پائے تھے۔مجھے اپنی قوم کی صلاحیتوں پر فخر ہے اور جے آئی ٹی نے اس فخر میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے اور اگر آپ جے آئی ٹی سے اس سے مختلف کسی رپورٹ کی توقع کر رہے تھے تو اپنے نام کے ساتھ ’شمس الاحمقین‘ کے خطاب کا از خود ہی اضافہ فرما لیجئے۔

مزید : کالم


loading...