شہریوں کا ناروا سلوک، لیڈی وارڈنز کو فیلڈ ڈیوٹی سے ہٹا کر دفتری امور پر تعینات کر دیا گیا

شہریوں کا ناروا سلوک، لیڈی وارڈنز کو فیلڈ ڈیوٹی سے ہٹا کر دفتری امور پر ...

  



لاہور(رپورٹ: یو نس با ٹھ)صو بائی دارالحکو مت میں ٹر یفک کنٹرول کر نے کے لیے مختلف مقامات پرتعینات لیڈی وارڈن کو شہریو ں کے نا روا رویے کے با عث دفتر ی ڈیو ٹیا ں تفو یض کر دی گئی ہیں۔اور انھیں فیلڈ ڈیو ٹی سے مستثنی قرار دید یا گیا۔سی ٹی او را ئے اعجا ز کا کہناہے کہ کسی بھی ملک کی خو بصورتی کا اندازہ اسکے ٹر یفک نظا م کو ہی دیکھ کر لگا یا جا سکتا ہے۔و ہ وزیر اعلی پنجا ب کی ہدا یت پر شہر میں ٹر یفک کو ایک ما ڈل نمو نہ بنا نا چا ہتے ہیں جس کے لیے عوام کو بھی چا ہیے کہ ان سے تعاون کر یں وہ شہر کی سڑ کو ں پرٹر یفک کنٹرول کر نے کے لیے لیڈی وارڈن کو لا نا چا ہتے ہیں۔لیڈی ٹریفک وارڈنز سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی پاسداری اور ٹریفک کے بہا ؤ کو یقینی بنانے کے ساتھ شہریوں کو ٹریفک قوانین کے حوالے سے تعلیمی اداروں میں جا کرایجوکیٹ بھی کر رہی ہیں جبکہ ٹریفک وارڈنز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہریوں سے حسن اخلاق سے پیش آئیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی سختی سے ہدایت دے رکھی ہے کہ ٹریفک کے نظام کو سو فیصد درست کیا جائے۔واضح رہے صو با ئی دا ر الحکومت میں ٹر یفک نظا م کو جدید انقلا بی تبد یلوں سے ہم آہنگ کر نے کے لئے جہا ں ای لا ئنسنگ ، ای ٹیسٹنگ جیسے ما ڈرن اقدا ما ت کئے جارہے ہیں اور لاہور ٹر یفک سسٹم کو جد ید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے د نیا کے بہترین ٹر یفک نظا م کے طر ز پر استوار کیا جا رہا ہے وہا ں ٹر یفک پو لیس میں127 لیڈی وارڈن کو بھی تعینات کیا گیا۔جن میں سے متعددلیڈی وارڈن کو شہر کی اہم شا ہراوؤں پر تعینات کر کے ٹر یفک نظا م میں ایک تبد یلی لا ئی گئی مگر شہر یو ں نے ان سے تعا ون کی بجا ئے ناروا رویہ اپنا ئے رکھا جس پر انھیں مجبوراً وہاں سے ہٹا کر انھیں دیگر شعبو ں لا ئسنسنگ،ٹکٹنگ اورروڈ سیفٹی یو نٹ پر تعینا ت کر دیا گیا ہے۔تعینا ت ہو نیوالی وارڈن میں 27کی ڈیو ٹی شعبہ لائسنسنگ میں،10روڈ سیفٹی پراور 6رنگ روڈپر ڈیپو ٹیشن پر کا م کر رہی ہیں جبکہ14چھٹی پر ہیں۔ سی ٹی اونے بتایا کہ ٹریفک پولیس وسائل کے اندر رہ کر بھرپور محنت سے کام کر رہی ہے حالانکہ لاہور ٹریفک پولیس کو کم نفری کا سامنا ہے۔ا س وقت شہر میں 12ڈی ایس پی ،2ایس پی ،97انسپکٹر 2900 ٹریفک وارڈنز کام کر رہے ہیں۔کم نفری میں ایک ایس پی ،دو ڈی ایس پی 118انسپکٹرز شامل ہیں ان کی مجموعی تعداد 350بنتی ہے۔

مزید : صفحہ آخر