وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبہ پر اپوزیشن تقسیم عدالتی ، فیصلہ قبول کرنے پر اتفاق ، نواز شریف عوام کا اعتماد کھو چکے : پیپلز پارٹی ، پارلیمنٹ نیا وزیر اعظم منتخب کرے : تحریک انصاف

وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبہ پر اپوزیشن تقسیم عدالتی ، فیصلہ قبول کرنے پر ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہو گئیں ،اکثریت جماعتوں نے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے ، حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے پر اتفاق کیا ، پاکستان تحریک انصاف نے واضح کردیا کہ نئے انتخابات نہیں بلکہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے اور قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے ،جبکہ قومی وطن پارٹی اور اے این پی نے وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبہ کو قبل از وقت قراد دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کر دیا ،98اراکین اسمبلی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن پر دستخط کرکے اپوزیشن لیڈر کے حوالے کر دی۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس گزشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے زیرصدارت ہوا ،جو تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا ،اجلاس میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی،شیریں مزاری، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاؤ، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور، عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد،پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر، فاٹا کے پارلیمانی رہنما شاہ جی گل آفریدی‘ عوامی جمہوری اتحاد کے عثمان ترکئی ، مسلم لیگ ق کے رہنما ء پرویز الہٰی سمیت دیگر سرکردہ رہنماء شریک ہوئے،اجلاس میں سپریم کورٹ میں پانامہ سکینڈل کے حوا لے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیااوروزیر اعظم نواز شریف کے استعفے ، اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے اور عدالتی فیصلہ قبول کرنے پراتفاق کرنے سمیت اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے سے متعلق تمام اختیار اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو دیدیا ۔تاہم قومی وطن پارٹی اوراے این پی نے وزیر اعظم کے استعفے کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہم استعفے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک استعفیٰ طلب نہ کیاجائے جبکہ اپوزیشن کی اکثریت نے وزیر اعظم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگومیں خورشید شاہ نے کہاکہ وزیر اعظم نے تین مرتبہ وعدہ کیا کہ اگر ان پر الزام لگ گیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے ،اب ان پر الزام لگ چکا ہے انہوں نے مستعفی ہونے سے انکارکردیا جس سے وہ جھوٹے ثابت ہوئے،اپوزیشن کی ساری جماعتوں کی خواہش ہے حکومت اپنی مدت پوری کرے اور وقت آنے پر الیکشن ہوں ،ہم متفقہ مطالبہ کرتے ہیں نواز شریف استعفیٰ دیں، اہم بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے ساٹھ دنوں میں اپنا کام مکمل کیا جے آئی ٹی بننے پر حکمرانوں نے خوشیاں منائیں اور مٹھائیان تقسیم کیں جیسے ہی تفتیش کا عمل شروع ہوا پہلے ہی ہفتے میں جے آئی ٹی پر حکومت کی طرف سے حملے شروع کردیئے گئے اور اسے متنازعہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اس کی بنیادی وجہ جے آئی ٹی کا حکمران طبقے کے سامنے رکھا جانے والا سوالنامہ تھا اور ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی جس کے بعد جان بوجھ کر تنازعہ کھڑا کرنے دیا گیا۔ رپورٹ کی صورت میں حقائق قوم کے سامنے آچکے ہیں ۔قومی اسمبلی کے اجلاس کیلئے ریکوزیشن ابھی جمع نہیں کروا رہے ،ہم سینیٹ کے اجلاس کو پہلے دیکھیں گے،اسوقت پاکستان کے حالات سے ہندوستان بڑی پریشانی کے عالم میں ہے کہ ان کے اتحادی وزیر اعظم کیخلاف جے آئی ٹی نے ثبوت سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردیئے ہیں، جے آئی ٹی نے ان کی تینوں نسلوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے ۔ وزیراعظم کا جھوٹ پکڑا گیا ،وہ قوم کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں ، وعدہ خلافی نہ کریں استعفیٰ دیں ، قوم ان کے استعفے پر متفق ہے۔ پارلیمانی نظام چلتا دیکھنا چاہتے ہیں ،اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ نیا وزیراعظم لے کر آئیں ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے پیپلز پارٹی ایسی روایت قائم کرچکی ہے۔ خورشید شاہ نے تصدیق کی کہ قومی وطن پارٹی اور اے این پی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے دیں تاہم ساری اپوزیشن اس پر متفق ہے کہ حکومت کو مدت پوری کرنی چاہئے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو ہم جلاؤ گھیراؤ کریں جب فیصلہ عدالتیں کریں اور عدالتوں پر اعتماد بھی ہو تو پھر جلاؤ گھیراؤ نہیں کرنا چاہئے۔ ریکوزیشن کیلئے 86 ارکان کے دستخط درکار ہوتے ہیں 98 نے دستخط کردیئے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رہنماشاہ محمود قریشی نے کہانواز شریف کو فی الفور مستعفی ہونا چاہیے۔ پوری اپوزیشن جمہوریت کیساتھ اور سسٹم کو ڈی ریل نہیں کرنے پر متفق ہے ،ہماری لڑائی کسی جماعت سے نہیں بلکہ اس کرپٹ عنصر سے ہے جو سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتا ہے۔سب جماعتوں نے دستخط کرکے خورشید شاہ کو تمام اختیارات دے دیئے ہیں ، وہ جب چاہیں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کراسکتے ہیں ۔جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم تمام جماعتیں اس کا بھرپور ساتھ دیں گی ، جے آئی ٹی کے انکشا فات حیران کن ہیں جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ن لیگ کے اندر سے بھی آوازیں آ رہی ہیں کہ نواز شریف سسٹم کو نقصان نہ پہنچائیں،جبکہ میڈیا سے گفتگو میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ملک میں کوئی بھی شخص آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہونا چا ہیے ، سینیٹر سراج الحق نے کہا جے آئی ٹی کی رپورٹ نے الٹرا ساؤنڈ کردیا ہے سو فیصد مثبت رپورٹ ہے نسخہ اور دوائی سپریم کورٹ نے تجویز کرنی ہے۔ مریض کی حالت یہی ہے کہ اسے استعفیٰ دینا چاہئے ہم سب کرپشن کے خاتمے پر متفق ہیں احتساب سب کا ہونا چاہئے اپوزیشن اپنے آپ کو بھی احتساب کے لئے پیش کرتی ہے آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ختم ہونا چاہئے۔ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کااستعفیٰ چاہتے ہیں ،سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا جو بھی فیصلہ کیا ہم اس کیساتھ کھڑ ے ہوں گے، ہم تمام لوگوں کا احتساب چاہتے ہیں، اگر پاکستان ایک جسم ہے تو جمہوریت اس کی روح ہے اور جو جسم کو روح سے الگ کرنا چاہتا ہے وہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں ۔سربراہ ایم کیوایم پاکستان فاروق ستارنے کہاکسی بھی وزیر اعظم کو اخلاقی بنیادوں پر سربراہ حکومت ہونا چاہیے لیکن نواز شریف یہ اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اس لیے انہیں فی الفور مستعفی ہوجانا چاہیے۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمدشیرپانے کہا ہم اپوزیشن کے تمام مطالبات سے متفق ہیں لیکن فی الفور وزیر اعظم کا استعفیٰ نہیں مانگ رہے ، قومی وطن پارٹی اور اے این پی سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی ہم اس کو مانیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں نواز شریف کے استعفیٰ پر متفق ہیں لیکن ہم دونوں پارٹیوں نے اس مطالبے کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کردیا ہے۔

اپوزیشن تقسیم

مزید : صفحہ اول


loading...