نواز شریف استعفا نہیں دینگے ، مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ

نواز شریف استعفا نہیں دینگے ، مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک 228ایجنسیاں) وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے استعفا نہیں دوں گا،قوم کیلئے آخری دم تک لڑوں گا، یہ تیسرے دھرنے کی تیاری اور عوامی مینڈیٹ پر تیسرا وار ہو رہا ہے ،بڑے واقعات ہوئے جو میں مجمع میں نہیں بتا سکتا، بعض اوقات دل کرتا ہے سب کچھ بتا دوں ،ایسا وقت ضرورآئے گا،انھیں کوئی نہیں دیکھتا جو ملک تباہ کرتے رہے،انھیں کوئی نہیں پوچھتا جنہوںں نے ملک کو اندھیروں میں غرق کیا،استعفا وہ لوگ مانگ رہے ہیں جنھوں نے ہمیں ووٹ تک نہیں دیا،ایسی سوچ بھی دل میں نہیں لا سکتا، ماضی میں حکومتوں پر سکیورٹی رسک اور کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں ختم کیا جاتا رہا ،ہم پرالزام لگانے والے کم ازکم یہ توبتائیں کہاں رشوت کھائی؟، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خورد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے توسامنے لائیں،ملک کو پیچھے دھکیلنے نہیں دینگے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ اور پارٹی عہدیداروں نے شرکت کی ۔ نواز شریف نے کہا کہ ہم نے ملک کو اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اب دوبارہ سے ملک کو مختلف حربے استعمال کرکے پیچھے کی طرف دھکیلا جارہا ہے مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ میں عوام کے لیے آخری حد تک لڑوں گا ،کچھ بھی ہو جائے استعفا نہیں دوں گا،ہم حالات کا مقابلہ کرینگے ۔یقین ہے سپریم کورٹ ہماری بات سنے گی۔ جب سے آئے ہیں تب سے ہمارے اور اس ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کبھی عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت پر سمجھوتا نہیں کیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتوں پر سیکیورٹی رسک اور کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں ختم کیا جاتا رہا ہے،پاکستان 70 سال سے جس طرح چل رہا ہے یہ واقعہ اس کا نمونہ ہے۔امیرے گزشتہ ادوار میں کک بیکس اور بدعنوانی کا ایک الزام ثابت کر کے دکھائیں، کوئی ثبوت نہیں تو الزام ہی لگاؤ۔جے آئی ٹی رپورٹ میں ایک لفظ ایسا نہیں کہ نوازشریف کسی کرپشن میں ملوث ہو، صرف حالیہ نہیں اپنے ہردورکی بات کرتا ہوں مجھ پرکبھی کرپشن کا الزام نہیں لگا، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خورد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے ،ہم پرالزام لگانے والے کم ازکم یہ توبتائیں کہاں رشوت کھائی؟، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خورد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے جب کہ کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے توسامنے لائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بڑے واقعات ہوئے جو میں بتا بھی نہیں سکتا، بعض دفعہ دل کرتا ہے سب کچھ کہہ دیا جائے لیکن وہ وقت ضرورآئے گا، دوسرے دھرنے میں کیا ہوا، مجھے کہا گیا کہ یہ کاغذ ہے اس پر دستخط کردوں لیکن ایک نصب العین کی خاطر ہمیشہ مشکلات کو برداشت کیا۔ موٹروے اور توانائی کے منصوبوں میں کوئی ایک پیسے کی خوردبرد کی ہو تو بتاو گزشتہ 4 سال میں کراچی، پنجاب اور دیگر علاقوں میں اربوں روپے کے پاور پلانٹس لگائے گئے۔ پاکستان میں کسی سیاستدان نے اپنے آپ کو اس طرح احتساب کیلئے پیش نہیں کیا، کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، کوئی این آراوسائن نہیں کیا،بے نظیرکے ساتھ میثاق جمہوریت پردستخط کر کے بہت اچھا لگا ۔ اس وقت بہت دکھ ہوا جب چند ہفتے بعد بے نظیرنے این آراو سائن کردیا، میری پرویز مشرف سے ملاقات کے لئے بہت کوششیں کی گئیں لیکن میں نے کہا اب اس نصب العین سے نہیں ہٹ سکتا۔ میں نے عدلیہ بحالی کی جنگ لڑی تو آج باتیں کرنے والے چھپ گئے تھے، کسی خطرے کی فکر کئے بغیر جان ہتھیلی پررکھ کرعدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی آئین، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔ ہماری حکومت کی محنت کی بدولت شرح نمو5.4 فیصد ہوگئی، اگلے سال کا ہدف 6 فیصد ہے، ترقی کے اسی راستے پر چلتے رہے تو بڑے ممالک سے آگے نکل جائیں گے، ڈکٹیٹر کے دورمیں پاکستان ڈیفالٹ کرنے لگا تھا، ملک ناکام ریاست سمجھا جارہا تھا، آج پاکستان کو دوبارہ سے پیچھے کی جانب دھکیلا جارہا ہے لیکن میں انشا اللہ ملک کو پیچھے نہیں جانے دوں گا اور پاکستان کے عوام کی خاطر آخری دم تک لڑوں گا۔میرا ضمیر مطمئن اور دامن صاف ہے،میرے دامن پر کوئی داغ نہیں ،استعفیٰ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔منفی پراپیگنڈے کے باوجود آپ کو کھڑے رہنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اتحاد ہی ہمارا اثاثہ اور سب سے بڑی فتح ہے۔نوازشریف نے کہا کہ متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ہمارے مخالفین کے بے بنیاد الزاما ت کا مجموعہ ہے، رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لیے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئی، خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں ، سورس رپورٹوں ، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، رپورٹ کے 4 ہزار صفحات میں کرپشن ، بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جاسکا۔ سینکڑوں ترقیاتی منصوبوں میں لاو کوئی ایک پیسے کی کک بیکس ، کمیشن یا بدعنوانی کا کوئی داغ، کچھ تو بتاو تو کہ کسی کنٹریکٹ، کسی ٹھیکے یا کسی منصوبے میں نواز شریف نے رتی بھر بھی بدعنوانی کی ہو۔ہمیں ملک کو روشن کرنے کی سزا دی جا رہی ہے ، دہشتگردی کیخلاف فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کا فیصلہ کیا اور دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے ۔انھیں کوئی نہیں دیکھتا جو ملک تباہ کرتے رہے،انھیں کوئی نہیں پوچھتا جنھوں نے ملک کو اندھیروں میں غرق کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا میرے اقتدار کے پانچوں ادوار او ر شہباز کے ادوار میں اگر ہمارے خلاف رتی بھر کرپشن کا بھی کوئی کیس ہے تو بتاؤ۔سکینڈل تو دور کی بات رپورٹ کے چار ہزار صفحات میں کرپشن ، بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جاسکا ،ہمارے سینکڑوں ترقیاتی منصوبوں میں لا کوئی ایک پیسے کی کک بیکس ، کمیشن یا بدعنوانی کا کوئی داغ ۔ انہوں نے کہا کچھ تو بتا تو کہ کسی کنٹریکٹ ، کسی ٹھیکے کسی منصوبے میں نواز شریف نے رتی بھر بدعنوانی کی ہے ،میرے راستے میں مشکلات کھڑی کی گئی لیکن میں اپنے نظریہ او رموقف پر جما رہا ،مجھے نااہل قرار دے کر انتخابات سے باہر کیا گیا لیکن ہمت نہیں ہاری ۔ نوازشریف نے کہا مشرف کی آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایامیں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر عدلیہ بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا ،آج جو بڑے بڑے لیڈر بنے بیٹھے ہیں اس وقت چھپ گئے تھے ۔ انہوں نے کہا مجھے امریکی اور برطانوی رہنماں کے فون آئے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے لانگ مارچ کے لیے نہ نکلیں ۔ وزیر اعظم نے کہا میں جمہوریت ، رول آف لا اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں ،عدلیہ آزادی کے لیے لانگ مارچ ایک مشکل مشن تھا لیکن ہم مخلص تھے ۔ اس لیے اللہ نے کامیابی عطا کی ۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ استعفیٰ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ، کسی صورت ملک کو پیچھے نہیں جانے دوں گا ،عوام کی خاطر آخری دم تک لڑوں گا،سب ادوار میں اربوں کھربوں کے منصوبے لگائے لیکن رتی برابر بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ،میرا ضمیر صاف ہے پورا یقین ہے سپریم کورٹ ہماری بات سنے گی ، وزیر اعظم نواز شریف اجلاس کی صدارت کے لئے پہنچے تو وہاں موجود ارکان نے پرزور تالیوں سے اور ڈیسک بجا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا ۔وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ایک لفظ ایسا نہیں کہ نوازشریف کسی کرپشن میں ملوث ہو، صرف حالیہ نہیں اپنے ہردورکی بات کرتا ہوں مجھ پرکبھی کرپشن کا الزام نہیں لگا، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خرد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے جبکہ کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے توسامنے لائیں۔ نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ کرپشن اورسکیورٹی رسک پرنکالی گئیں، پاکستان 70 سال سے جس طرح چل رہا ہے یہ واقعہ اس کا نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام عوامی مینڈیٹ لے کر حکومت میں آئے لیکن ہمارے آتے ہی مہم شروع کر دی گئی ۔ دھرنوں ‘ دھاندلیوں اور اب پانامہ کو ایشو بنا کر حکومت کو ہٹانے کی سازشیں عروج پر ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مخالفین مجھ سے استعفیٰ مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن یہ تو بتایا جائے کہ آخر میں نے کس سے رشوت لی ہے جس کی بنیاد پر میں مستعفی ہو جاؤں ۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف کرپشن میں ملوث ہے ۔ عدلیہ بحالی کے لئے جنگ اس وقت لڑی جب مفاد پرست اور مخالفین چھپتے پھر رہے تھے عدلیہ آئین و قانون کی بالادستی کا احترام کرتے ہیں لیکن کسی کو بھی بے جا الزامات کی بنیاد کی بنیاد پر جمہوریت اور جمہوری منتخب حکومت کے خلاف سازش نہیں کرنے دیں گے ۔ میرا دامن صاف اور ضمیر مطمئن ہے لہذا بے جا الزامات پر استعفا دینے کی بجائے عدالت عظمی میں بھرپور قانونی آئینی جنگ لڑیں گے ۔اس موقع پر تمام شرکاء نے بشمول چھ ناراض ارکان جن میں خالد کانجو ‘ ارمغان سبحانی ‘ سکندر بوسن و دیگر نے بھی وزیر اعظم کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ’’ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔

نواز شریف

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک 228 ایجنسیاں ) مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کسی صورت استعفا نہیں دینگے۔وفاقی کابینہ کے بعد مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی نے وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لاکھوں حامیوں ،کروڑوں ووٹروں کے ساتھ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارٹی کے صدر اور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ نے شرکت کی ۔اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف ، وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان نے بھی خصوصی شرکت کی جس میں پاناما کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا ۔پارلیمانی پارٹی کے شرکاء نے وزیر اعظم کے استعفے سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کو مشورہ دیا کہ پانامہ کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے اور قانونی طور پر بھر دفاع کیا جائے ۔شرکاء نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے لاکھوں حامیوں اور کروڑوں ووٹروں کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے اجلاس کو جے آئی ٹی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس کے دوران ارکان قومی اسمبلی اورسینیٹ نے وزیراعظم پربھرپوراعتماد کا اظہار کیا ۔عبدالرحمان کانجو نے کہا کہ شہبازشریف کی رفتار اور آپ کے ویژن سے مخالفین خائف ہیں، استعفی مانگنے والے پہلے پاکستانی عوام سے مقابلہ کریں، عوام کے علاوہ آپ سے کوئی استعفا نہیں مانگ سکتا، نجف سیال نے کہا کہ شہبازشریف جادوئی لیڈر ہیں، عمران خان مولا جٹ کے نوری نت کا کردار ادا کر رہے ہیں، نوری نت کہتا تھا مولا میں تینوں مارنا اے، مولا نے کہا مولا نو ں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا،ہم آپ کے ساتھ ہیں، اللہ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کچھ عناصر نہیں چاہتے مسلمان ایٹمی ملک جمہوری طاقت بھی بن جائے، یہاں جو تالیاں بج رہی ہیں یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی تالیاں ہیں، ایک طرف وزیراعظم ہیں جو جمہوریت کیلیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ ہیں جو ڈی چوک میں جمہوریت کی قبریں کھود رہے تھے۔ یہ لوگ پھر استعفا مانگ رہے ہیں ، وہ باز نہیں آئیں گے انہیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب میں شہباز شریف نے کہا کہ یہاں بیٹھے ارکان پارلیمنٹ اور کروڑوں عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ لوگ آپ کی طاقت ہیں ۔وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری وزیراعظم سے کوئی استعفی مانگ سکتا ہے اور نہ وہ خود دے سکتے ہیں ، انہیں پاکستانی عوام نے مینڈیٹ دیاہے اور اب بھی یہ فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے، میڈیا ٹرائل پر ان کے صبر کو داد دیتاہوں، ایسا کوئی نہیں کرسکتا۔ وزیراعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمان نے کہا کہ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ نوازشریف سے محبت کرتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔

مسلم لیگ۔ پارلیمانی پارٹی

مزید : صفحہ اول


loading...