جاوید ہاشمی کا بیان محض سیاسی ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ پر وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا

جاوید ہاشمی کا بیان محض سیاسی ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ پر وزیر اعظم کو نااہل قرار ...

  



لاہور(نامہ نگار )سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کے اس بیان پر کہ پورے ملک میں کوئی بھی جج ،جنرل اورسیاستدان صادق اور امین نہیں کے حوالے سے آئینی و قانونی ماہرین نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔لاہور بار کے صدر چودھری تنویر اختر نے کہا ہے کہ صرف جے آئی ٹی کی رپورٹ پر انحصار کرکے وزیراعظم پاکستان کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا ،کیوں کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے تاہم اس سے قبل وزیراعظم پاکستان پر کرپشن کاالزامات لگانابھی کسی صورت مناسب نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ،یہ ان کی تفتیشی رپورٹ ہے اور اس پر مزید کیا کارروائی ہونی ہے اس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہی کرنا ہے ،لہذا سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل وزیراعظم پاکستان کے خلاف ایسے الزامات لگانا افسوس ناک امر ہے ۔دوسری جانب انہوں نے جاوید ہاشمی کے بیان پر کہا کہ وہ بہت پرانے سیاستدان ہیں یہ بات انہیں بہت پہلے کہنی چاہیے تھی جو انہوں نے آج کہی ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ اگر 62اور63پر صحیح طریقہ سے عمل ہوتو واقع میں کوئی بھی اس پر پورا نہیں اترا ۔لاہور بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر عرفان صادق تارڑ نے کہا ہے کہ جاوید ہاشمی کا اس وقت یہ بیان دینا سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ جاوید ہاشمی نے زندگی کا عرصہ سیاست میں گزراہے تب انہیں اس بات کا فکر کیوں لاحق نہیں ہوا کہ ملک میں کوئی بھی سیاستدان صادق اور امین نہیں ہے ؟ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی کیس عدالت میں ہو تو اس پر بحث و مباحثہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی رائے دینا مناسب ہوسکتا ہے جبکہ قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ہے تاہم بہتر یہ ہی ہے کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے نہ کہ ہر سیاسی پارٹی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہے جو کسی صورت بھی مناسب نہیں ہے ۔ممبر پنجاب بار کونسل سید فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ جاوید ہاشمی ایک سیاسی آدمی ہیں اور وہ بہت عرصہ تک مسلم لیگ (ن) کا حصہ رہے ہیں ،تب یہ کیوں خاموش رہے ؟،انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بیان صرف اور صرف شریف فیملی کی پکڑی جانے والی کرپشن کو سہارا دینے کے لئے ہے ۔پاناما حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے جس کو نہ تو وہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی باہر نکال سکتے ہیں ،موجودہ صورتحال کو اگر دیکھا جائے تو مسلم لیگ (ن) کی کرپشن جے آئی ٹی رپورٹ میں کھل کر سامنے آگئی ہے ،مسلم لیگ (ن) کو چاہیے کہ وہ تحمل اور بردباری کے ساتھ عدالتوں کا سامنا کرنا نہ کہہ محاض آرائی کی سیاست کو فروغ دے کیوں کہ یہ کسی طور پر بھی ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ممبر پنجاب بار کونسل انتظار حسین گیلانی نے کہا کہ آئینی اور قانونی پہلوؤں کو اگر دیکھا جائے تو اس وقت میاں محمد نواز شریف پر جی آئی ٹی کی رپورٹ نے اصل حقائق عدالت کے سامنے رکھ دیئے ہیں اب عدالت عظمیٰ کو ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے ،ایسا نہیں کہ عدالت شریف فیملی کو صفائی کا موقع نہیں دے گی ،انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ قانون کے مطابق دونوں اطراف سے پارٹیوں کو سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گی جس میں کسی بھی پارٹی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے ،جہاں تک جاوید ہاشمی کے بیان کا تعلق ہے تو وہ اسے سیاسی بیان سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک سے کرپٹ عناصر اورکرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔سینئر ایڈووکیٹ مدثر چودھری ، مجتبی چودھری ، مرزا حسیب اسامہ نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے حکمرانوں کا اگلا ٹھکانہ جیل نظر آرہا ہے اور مسلم لیگ(ن) اپنے انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔جہاں تک جاوید ہاشمی کے بیان کا تعلق ہے تو بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ وہ اپنی پرانی وفاداریاں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نبھاتے نظر آتے ہیں اور دوسرا یہ کہ جو بات انہوں نے کی ہے تو خود بھی سیاستدان ہیں تو پھر جو بات انہوں نے کہی ہے تویہ ان پر بھی لاگو ہوتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکمران اب کڑے احتساب سے نہیں بچ سکتے اور اس دفعہ یہ کہیں بھا گنے میں کامیاب نہیں ہوں گے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم کابینہ سمیت مستعفی ہو جائیں ۔

رد عمل

مزید : صفحہ اول


loading...