مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس نے پھوٹ کی افواہوں کو غلط ثابت کر دیا

مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس نے پھوٹ کی افواہوں کو غلط ثابت کر دیا

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی بالآخر یہی فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم استعفا نہیں دیں گے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ اس رپورٹ کے حوالے سے وزیراعظم اور ان کا خاندان اپنا دفاع کرے گا۔ کئی دنوں سے اخبارات اور چینلوں میں اس بات کا بڑا چرچا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ ان میں سے 44 ارکان نے تو شیخ رشید کو اطلاع بھی کر دی تھی کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور اگر سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے دعوے کو پیش نظر رکھا جائے تو 60 سے 80 ارکان نے انہیں بھی مطلع کیا تھا کہ وہ پارٹی چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اب معلوم نہیں جن حضرات نے شیخ رشید سے رابطہ کیا وہ کون تھے اور جو ذوالفقار کھوسہ سے رابطے میں رہے ان کا نام کیا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان پورے تھے اور وہ لوگ بھی حاضر تھے جن کے بارے میں دعوے کئے جا رہے تھے۔ ان سب حضرات و خواتین نے وزیراعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور ان کے اس فیصلے کی تائید کی کہ وہ استعفا نہیں دیں گے اور سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑیں گے۔ دلوں کا حال تو عالم الغیب کی ذات ہی جانتی ہے لیکن ظاہری طور پر ہم جیسے ظاہر بینوں نے تو یہی دیکھا کہ پوری پارلیمانی پارٹی کے ارکان اجلاس میں موجود تھے۔ بعض چینلوں کو وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی سرگرمیوں سے ہمیشہ خصوصی دلچسپی رہتی ہے اور وہ نوٹ کرتے رہتے ہیں کہ وہ اجلاس میں آئے کہ نہیں، اگر نہیں آئے تو کیوں نہیں آئے، اور اگر آگئے تو کیوں آگئے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ ذرا وکھری ٹائپ کے سیاستدان اور وزیر ہیں۔ اس کے باعث پیپلز پارٹی نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، اب انہوں نے استعفا نہیں دیا تو ان کے بارے میں فسانہ طرازی تو کی جاسکتی ہے۔ چونکہ خلقت شہر اس میں خوش رہتی ہے، اتنی بات البتہ ہے کہ چودھری صاحب کی زبان ہمیشہ دل کی رفیق رہتی ہے، جو بات کہنا چاہتے ہیں کہہ دیتے ہیں، برا ماننے والے برا مانتے رہیں، اب بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں گئے تھے، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نہیں آئے تو پھر قیاس کے گھوڑے دوڑائے گئے، جو اب تک دوڑ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اپنے صدر (اور وزیراعظم) نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ تو حکومت اور حکومتی پارٹی کا حال ہے، اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے طور پر متحرک ہیں اور وزیراعظم کے استعفے پر بھی ’’متفق‘‘ ہیں۔ البتہ یہ ’’اتفاق‘‘ ذرا ڈھیلا ڈھالا ہے، جمعہ کے اجلاس میں تحریک انصاف کے ڈپٹی چیئرمین شاہ محمود نے بھی اپنے قائد کے تتبع میں یوٹرن لے لیا۔ گزشتہ روز تحریک انصاف نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ صرف وزیراعظم کے استعفے سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ وہ نئے انتخاب چاہتے ہیں۔ یہ بیان ڈاکٹر بابر اعوان نے دیا تھا لیکن شاہ محمود قریشی نے ان کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔ کیا معلوم کل کو بابر اعوان پھر کوئی بات کہیں تو شاہ محمود قریشی کو تردید کرنی پڑ جائے۔ دونوں کے درمیان اس وقت سے اختلاف ہے، جب دونوں پیپلز پارٹی میں تھے۔ پھر وزارت خارجہ شاہ محمود قریشی سے لے لی گئی تو وہ ناراض ہوکر پارٹی چھوڑ کر گئے۔ بابر اعوان نے تو آخر وقت تک پارٹی میں رہنے کی کوشش کی، لیکن پارٹی نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب وہ تحریک انصاف میں ہیں تو شاہ محمود قریشی یہاں بھی ان کی جان کو اٹک گئے ہیں، دیکھیں آگے آگے کیا ہوتا ہے۔ بابر اعوان نے اگر یہ بیان دیا تھا کہ تحریک انصاف نئے انتخابات چاہتی ہے تو پارٹی کے قائد سے مشورے کے بعد ہی دیا ہوگا۔ اب شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت صرف استعفے سے مطمئن ہو جائے گی۔ مسلم لیگ (ق) بھی نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ باقی جماعتیں صرف استعفے پر اگرچہ متفق ہیں لیکن دو جماعتیں یعنی اے این پی اور قومی وطن پارٹی کا موقف ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ نواز شریف کے خلاف آئے تو استعفا دینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ جماعت اسلامی بھی استعفا مانگ رہی ہے۔ ایم کیو ایم بھی اس مطالبے کی حامی ہے، گویا چھ جماعتیں استعفے کی طلبگار ہیں، دو اپوزیشن جماعتوں کا موقف مختلف ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے ساتھ بھی جمعیت علمائے اسلام (ف)، پختون خوا ملی عوامی پارٹی ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اصلی چیئرمین آصف علی زرداری بیرون ملک ہیں، ان کی بیماری کا اچانک ذکر آیا تھا، اس کے بعد پتہ نہیں چلا کہ بیماری کی نوعیت کیا ہے اور اس کی سنگینی کتنی ہے، لیکن شواہد سے لگتا ہے کہ بیماری معمولی ہوگی، کیونکہ اگر شدید ہوتی تو ان کے صاحبزادے والد کی تیمار داری کے لئے ان کے ساتھ گئے ہوتے، لیکن جس اطمینان کے ساتھ انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس سے تو لگتا ہے کہ بیماری کی نوعیت معمولی ہوگی جیسی بھی ہے ان کی صحت یابی کے لئے ہم دعا گو ہیں، کیونکہ اچانک بیمار ہونے سے پہلے انہوں نے سیاسی میدان میں خاصی رونق لگا رکھی تھی، وہ بیک وقت چومکھی لڑ رہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف کو کہہ رہے تھے کہ وہ سریا بیچنا جانتے ہیں، ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں۔ عمران خان کے متعلق ان کا ارشاد تھا کہ کھلاڑی کو کیا پتہ کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔ خود عمران خان آصف علی زرداری کو چور، ڈاکو کہے بغیر زبان نہیں کھولتے۔ البتہ وہ ان کے سابق ساتھیوں کو دھڑا دھڑ قبول کئے جا رہے ہیں۔ بابر اعوان بھی تو آخر انہی کے دست راست رہے ہیں، لیکن ابھی چند دنوں تک عمران خان شاید اپنی زبان کو قابو میں رکھیں ورنہ تو خورشید شاہ بھی ان کے نشانے پر رہے ہیں۔ دھرنے کے دنوں میں وہ انہیں وزیراعظم کا منشی کہتے تھے۔

آج کے اخبارات میں مریم نواز کا ایک ٹویٹ بڑی توجہ کے ساتھ پڑھا گیا جس میں انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ پیمرا ان چینلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ چیئرمین پیمرا بنیادی طور پر صحافی ہیں، ان کے تقرر پر بعض حلقوں نے اعتراض کیا تھا کہ ان کی تعلیمی قابلیت اس عہدے کے لئے کم ہے۔ اس عہدے کو پر کرنے کے لئے اخبارات میں جو اشتہار دیا گیا تھا، چیئرمین میں اس دئیے گئے تعلیمی معیار پر پورے نہیں اترتے تھے، بعد میں ترمیم شدہ اشتہار دے کر انہیں منتخب کرلیا گیا، انہوں نے جب سے یہ عہدہ سنبھالا ہے وہ تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔ اب اگر مریم نواز نے بھی ان پر اعتراض کر دیا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی ان سے خوش نہیں۔ وہ اگر کسی چینل کے خلاف ایکشن لیتے ہیں تو وہ عدالت سے حکم امتناعی لے آتا ہے۔ چینلوں میں ان کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈہ ہوتا ہے، جن چینلوں کے گروپ میں اخبارات ہیں، وہ اخبارات کو بھی اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ کوئی چینل ان کی نہیں سنتا۔ اب اگر مریم نواز کو بھی شکایت پیدا ہوگئی ہے تو انہیں سوچنا چاہئے کہ خرابی کہاں ہے اور کیا وہ اسے دور کرنے کے لئے بھی کوئی اقدام کر رہے ہیں یا نہیں؟

پھوٹ کی افواہیں

مزید : تجزیہ


loading...