تبادلے کیخلاف حکم امتناعی کی رنجش، واسا سپرنٹنڈنٹ ورکس پر ساتھیوں کا تشدد

تبادلے کیخلاف حکم امتناعی کی رنجش، واسا سپرنٹنڈنٹ ورکس پر ساتھیوں کا تشدد

  



ملتان (نمائندہ خصوصی) واسا کے شعبہ ورکس سے ٹرانسفر ہونے والے سپرٹنڈنٹ رحمت شاہ کو عدالت سے ریلیف حاصل کرنا مہنگا پڑا۔ سپرٹنڈنٹ سٹور نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈسپوزل (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

کے ساتھ مل کر رحمت شاہ کو ڈائریکٹر ورکس کے کمرے میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بناڈالہ۔ عدالت سے ریلیف حاصل کرنے والے رحمت شاہ کی چیخ و پکار پر واسا آفس میں موجود دو اہل کاروں نے چان بخشی کرائی۔ بتایا گیا ہے کہ واسا کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے قریب سپرٹنڈنٹ ورکس کا ٹرانسفر کردیا گیا۔ جس پر رحمت شاہ نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا اور ڈائریکٹر ورکس کو حکم امتناعی پیش کرکے اپنی پوسٹ پر کام شروع کردیا۔ لیکن اس پوسٹ پر ٹرانسفر ہونے والے سپرٹنڈنٹ سٹور چوہدری ایوب کو رحمت شاہ کا عدالتی ریلیف پسند نہ آیا ۔ جس پر گزشتہ روز چوہدری ایوب نے فوری طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈسپوزل انجم زمان کو بلایا۔ دونوں اہل کاروں کے چھٹی کے بعد رحمت شاہ کو ڈائریکٹر روکس کے کمرے میں بلایا۔ جونہی رحمت شاہ کمرے میں داخل ہوا۔ تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر ورکس ڈسپوزل اور سپرٹنڈنٹ سٹور چوہدری ایوب نے کمرے کو اندر سے لاک کیا اور رحمت شاہ کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ دوران تشدد دونوں اہل کاروں نے سفید کاغذات پر دستخط کروائے اور کہا کہ وہ عدالت سے پنا کیس واپس لیکر سپرٹنڈنٹ ورکس کا عہدہ چھوڑ دے ۔ جس پر رحمت شاہ نے مزاحمت کی تو دونوں اہل کار طیش میں اگئے اور ملازم پر دوبارہ تشدد شروع کردیا۔ اس موقع پر دفتر میں موجود اہل کار طاہر ممتاز بھٹہ و دیگر رحمت شاہ کی چیخ و پکار پر آگے اور رحمت شاہ کو چھڑالیا۔ بتایا گیا ہے چوہدری ایوب آفسران کی خاموشی کیوجہ سے اس طرح کے متعدد واقعات میں ملوث ہے ۔ ملازمین کی شکایات کے باوجود چوہدری ایوب کیخلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...