سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کا برطانوی پارلیمنٹ" ہاؤس آف کامن "کا دورہ

سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد کا برطانوی پارلیمنٹ" ہاؤس آف ...

  



پشاور( سٹاف رپورٹر ) سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی حکومت جب برسراقتدار آئی تو صوبہ انتہائی نامساعد حالات سے دوچار تھا۔ایک طرف دہشت گردی اور شدت پسندی نے صوبے کی معاشی حالت بگاڑ کر رکھ دی تھی اور دوسری جانب کرپشن کے ناسور کی وجہ سے ادارے بھی زبوں حالی کا شکار تھے اور عوام کاان اداروں پر سے اعتماد اُٹھ گیا تھا۔ موجودہ صوبائی حکومت کی مربوط پالیسیوں اور انقلابی اصلاحات کی بدولت صوبے کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کردیا گیاہے بلکہ عوامی مسائل کے دیرپا حل کے لئے ایسے مثالی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کی پاکستان کے دیگر صوبے نہ صرف تقلید کررہے ہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو بھرپور سراہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار سپیکر اسد قیصرنے برطانیہ میں خیبر پختونخوا کے پارلیمانی وفد کے ہمراہ ہاؤس آف کامن کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد اور دیگر ممبران نے برطانوی پارلیمنٹ آمد پر سپیکر اسد قیصر اور ان کے ہمراہ اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل وفد کا بھرپوراستقبال کیا۔پارلیمانی وفدمیں شامل صوبائی وزیر برائے عشر وزکوۃٰ حاجی حبیب الرحمن،وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم خان،پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات فضل الہٰی،ایم پی اے عبدالستار خان اور سپیشل سیکرٹری ٹو سپیکر سید وقار شاہ بھی اس موقع پر سپیکر کے ہمراہ تھے۔ قبل ازیں سپیکر اسد قیصر اور پارلیمانی وفد نے برطانوی پارلیمنٹ ہاؤس آف کامن کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس موقع پر وہاں پر موجود حکام کی جانب سے وفد کو ہاؤس آف کامن کے تاریخی پس منظر ،پارلیمانی کردار اور قانون سازی کے امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی جس میں وفد کے ارکان نے گہری دلچسپی ظاہر کی۔بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا صوبہ گزشتہ کئی عرصے سے دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے ۔افغانستان کے ساتھ وسیع اور غیر محفوظ بارڈر اور قبائلی علاقوں سے براہ راست منسلک ہونے کے باعث صوبہ دہشتگردی اور شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لئے جاری فوجی آپریشنز کے باعث متاثرین کے انخلاء سے جہاں صوبے پر کافی بوجھ پڑا وہاں متاثرین فاٹا بھی معاشی،ذہنی اور ثقافتی طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں جن کی بحالی اور آبادکاری کے لئے تمام تر اقدامات اٹھانا بھی ضروری امر ہے۔سپیکر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں سب سے زیادہ توجہ نظام کی خرابی دور کرنے پر مرکوز رکھی۔انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ،احتساب کمیشن،اطلاعات اور خدمات تک رسائی کے علاوہ وسل بلور ایکٹ سمیت بین الاقوامی پذیرائی حاصل کرنے والے کئی ایک قوانین کو متعارف کرایا گیا۔سپیکر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے موئثر قانون سازی کے ذریعے ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھ دی ہے جہاں وزیر اعلیٰ سمیت کسی بھی وزیر اور سرکاری عہدیدار کا احتساب ممکن ہوگیا ہے جو نئے پاکستان کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔اسد قیصر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایسا بلدیاتی نظام رائج کیا گیا ہے جس سے نہ صرف اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا گیا ہے بلکہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے میں بھرپور مدد مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بلدیاتی نظام کی دیگر صوبے بھی تقلید کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام کو مزید موئثر بنانے کے لئے خامیوں کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔سپیکر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں مثالی رہی ہے جس کا اعتراف ورلڈ بنک، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور پلڈاٹ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے اپنی رپورٹس میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو نہ صرف کرپشن اور سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا بلکہ ان پر عوام کا اعتماد بھی بحال کردیا گیا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ ہمیں حکومت معمول کے مطابق نہیں ملی تھی،جب اقتدار سنبھالا تو کئی ایک چیلنجز کا سامنا تھا۔ہماری حکومت اتحاد کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی اور اتحادی حکومت چلانے میں بھی کا فی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،لیکن اتحادی جماعتوں کے بھرپور تعاون سے حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب گامزن ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...