جننگ انڈسٹری بحالی کیلئے بجلی کے نرح کاشتکاروں والے چاہتے ہیں، ڈاکٹر جسومل

جننگ انڈسٹری بحالی کیلئے بجلی کے نرح کاشتکاروں والے چاہتے ہیں، ڈاکٹر جسومل

  



ملتان(جنرل رپورٹر)چےئرمین پی سی جی اے ڈاکٹر جسومل نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاٹن کے ریٹ ٹیکسٹائل اور جنرز کے لئے مختلف ہیں ۔جنرز کے لئے انشورنس کے ریٹ کم کرو(بقیہ نمبر55صفحہ12پر )

ادےئے مزید کمی کی بھی کوشش کررہے ہیں ۔جننگ انڈسٹری کی بحالی کیلئے بجلی کے نرخ کاشتکاروں والے کروانا چاہتے ہیں کاشتکار کو ٹیوب ویل کے لئے ساڑھے پانچ روپے یونٹ مل رہا توحکومت جنرز کو بھی اسی نرخ پر بجلی دے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اجلاس میں نئے کاٹن سیزن 2017-18کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کیا گیا ۔اجلاس سے قبل سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں الیکشن شیڈول 2017-18کا اعلان کیا اور الیکشن کمشنر کی تقرری بھی عمل میں لائی گئی۔ڈاکٹر جسو مل نے مزید کہا کہ جنرز کو وقت کے مطابق اپنی مشینری کو بھی اپ گریڈ کرنا چاہئے ۔حکومت صنعتکاروں کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئی پالیسیاں نہیں بناتی۔ جنرز اچھی کوالٹی کی پھٹی خریدیں تاکہ معیاری مال تیار کرکے ایکسپورٹ کرسکیں ۔ جننگ انڈسٹری اپ گریڈ ہوگئی تو فائبر کو بچا کر اچھا منافع حاصل کرسکتے ہیں ۔مارکیٹ کمیٹی فیس میں اضافہ قابل قبول نہیں اسے روکنے کے لئے لائحہ عمل بنائیں گے۔ چار ممالک امریکہ‘ ہندوستان‘ پاکستان اور چائنہ میں گروورز کا کام اچھا ہے یہاں لیبر بھی سستی اور محنتی ہے اس لئے کاٹن کے شعبے میں بہتری کے وسیع امکانات ہیں ہمیں اجتماعی مفاد کے لئے کام کرنا ہو ہوگا۔جننگ انڈسٹری ملکی معیشت میں اپنا اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ کاٹن جنرز کے اجتماعی مسائل کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وائس چےئرمین سہیل محمود ہرل نے کہا کہ پی سی جی اے کی موجودہ باڈی کی کاوشوں سے سیلز ٹیکس ‘ بنولہ اور دیگر کئی مسائل حل ہوچکے ۔حکومت جنرز کی مشینری کی تبدیلی کے لئے بھی20فیصد تک فنڈز دینے پر رضا مند ہوگئی ہے مگر ہم اسے50فیصد کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بنولہ پر بھی6روپے ٹیکس منظور ہوا جسے صفر پر لائیں گے ۔ گانٹھوں پر جنرز پانچ روپے فی گانٹھ نامنظور کرتے ہوئے ادا نہیں کررہے اسے بھی ختم کروانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں ۔ سہیل محمود ہرل نے کہا کہ زیادہ تر بحران ہماری اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں صرف عہدیداران کافی نہیں تمام ممبران کو مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ ترجمان پی سی جی اے شہزاد علی خان نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لئے زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کپاس کی کاشت کرنی چاہئے۔ کپاس لگاؤ ‘ معیشت بچاؤ کا نعرہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے ۔ کپاس ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حامل ہے ۔جنرز‘ کاشتکاروں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل حل کئے جائیں تو ملکی زرمبادلہ میں اچھا اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ پی سی جی اے کے موجودہ عہدیداران جنرز کو درپیش مسائل کے لئے بہت متحرک ہیں ان کی کاوشوں سے سیلز ٹیکس سمیت دیگر مسائل حل ہوئے ہیں ۔ممبر ایگزیکٹو کمیٹی طلعت سہیل نے کہا کہ اس سال پی سی جی اے کے الیکشن کی ضرورت ہے موجودہ باڈی اچھاکام کررہی ہے تمام ارکان متحد ہو کر اسی کابینہ کو دوبارہ منتخب کریں ۔میاں نوید ایاز نے کہا کہ صنعتکاروں کے الیکشن میں سیاست کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ سابقہ الیکشن میں سیاسی شخصیات کا بہت کردار تھا جو قابل مذمت ہے ۔کاٹن امپورٹ پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔سابق وائس چےئرمین سرفراز ناظم ‘ جنرز وحید ارشد‘ سلمان مقبول‘ میاں منیر اور دیگر نے بھی خطاب کئے ۔ اس موقع پر ارائیں گروپ کے چےئرمین کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

جسومل

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...