موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے سارک ممالک کو ملکر کام کرنا ہو گا:ماہرین

موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے سارک ممالک کو ملکر کام کرنا ہو ...

  



پشاور( کرائمز رپورٹر )بھو ٹا ن کے دار الحکو مت تھہپو میں3-5 جو لا ئی2017 کو سا ر ک مما لک کے ماہرین اور متعلقہ اداروں کے افسران کے اجلاس میں ساؤ تھ ایشیاء میں پا نی، توا نا ئی اور خوراک کے حوا لے سے مشاورت کی گئی۔اجلاس میں زرعی یو نیورسٹی پشاور میں قائم کلامیٹ چینج سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر محمد ذوالفقار نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اپنے خیلات کا اظہار کرتے ہو ئے انہوں نے کہاکہ ساوتھ اشیاء مو سمیاتی تبد یلیوں سے سب سے زیاد ہ متا ثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو خوراک فراہم کرنے کے لۂ ان کے پا س دنیا کی صرف تین فیصد اراضی موجود ہے، جبکہ مو سمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک طرف قابل کاشت اراضی اور مو جودہ پانی کے وسائل میں کمی رونما ہو رہی ہے تو دوسری طرف آبادی اور خوراک کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سارے عمل میں پانی کا کردار بہت اہم ہے ۔ جبکہ سارک ممالک کے پانی کے و سا ئل مشتر کہ ہیں اس لئے ان کو مل کر مربوط طور پر ان وسائل کو محفوظ بنانے اور پائیدار استعمال کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے سارک ممالک پر زور دیتے ہوے کہا کہ اگر مشترکہ قدرتی وسائل کو با ہمی تعاون کیساتھ بروئے کار نہ لایا گیا تو مستقبل میں مزید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں غربت میں مزید اضافہ ہوسکتاہے اور یہ ممالک پائیدارترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات سے دوچار ہونگے۔ اُنھوں نے مزید ذکر کرتے ہوے بتا یا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کی وجہ سے سارک ممالک ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں۔نیپال اور بھوٹان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے اور دوسرے مما لک کے ساتھ بجلی کی تجارت سے ایک طرف تو یہ ممالک زرمبادلہ کما سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان ممالک کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا ستکی ہیں۔ ڈاکٹر ذولفقار نے اجلاس کوبتایاکہ مستقبل کے ترقیاتی لائحہ عمل میں شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کا بہت اھم کردار رہیگا۔جو ممالک ان وسائل سے صحیح انداز میں فائدہ اُٹھائیں گے وہیں ترقی کی مناز ل طے کریں گے۔ساتھ ہی انہوں نے خبردارکیا کہ شمسی توانائی کا زیر زمین پانی کے حصول کے لیے استعمال کو قانون کے تابع کرنے کی ضرورت ہے ورنہ زیر زمین پانی کی قلت پیدا ہونے سے خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار نے سارک ممالک پر زور دیا کہ پانی، تونائی اور خوراک کے باہمی فروغ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں اور ان شعبہ جات میں تحقیق اورترقی کے لئے سرمایہ کاری کو بڑھائیں تاکہ مستقبل میں بڑھتی ہوے آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہو نے والی مشکلات سے خاطر خواہ طور پر نمٹا جا سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...