ماحولیاتی رسک سے کمپنیوں کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے،اے سی سی اے

ماحولیاتی رسک سے کمپنیوں کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے،اے سی سی اے

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایسوسی ایشن آف چارٹرڈسرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) نے کلائمیٹ ریلیٹڈ فنانشل ڈسکلوژر (ٹی سی ایف ڈی) سے متعلق ٹاسک فورس کی سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ماحولیاتی تبدیلوں کے تناظر میں سرمایہ کاری کے فیصلوں اور سرمائے کو زیادہ بہترطریقے سے مختص کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم اقدام قرار دیا ہے ۔ اے سی سی اے کے کارپوریٹ رپورٹنگ کی سبجیکٹ منیجر Yen-pei Chen, کا کہنا ہے کہ ٹی سی ایف ڈی کی چار اہم سفارشات میں گورننس،حکمت عملی ،رسک مینجمنٹ اور میٹرکس و ٹارگٹس شامل ہیں جبکہ ان سفارشات کے ضمیمے میں دی گئی گائیڈلائنز جزوی طور پر کمپنیوں کویورپی یونین کی ہدایات کے مطابق غیر مالیاتی و تنوع کی معلومات ظاہر کرنے سے متعلق رپورٹ کی تیاری میں مدد دیں گی ۔اے سی سی اے ان سفارشات کا خیرمقدم کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ان سفارشات کی مدد سے کمپنیوں کو ماحولیاتی رسک سے نمٹنے اور مالیاتی گوشواروں کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی ۔ مس چین کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی رسک کے نتیجے میں کمپنیوں کے اثاثوں کی مالیت اور ساکھ متاثر ہوسکتی ہے جس کے انکے مجموعی کاروبار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔اے سی سی اے کے ریجنل ہیڈ آف پالیسی (MENASA.)عارف مسعود مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی ماحولیاتی تبدیلوں کے زیر اثر رہا ہے اور اس وقت دنیا کو عالمی دہشتگردی سے زیادہ خطرہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہے ،پانی کی کمی نہ صرف عالمی طور پر انسانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کاروباری اعتبار سے بھی ہم اس خطرے کو یکسر نظر انداز کررہے ہیں،یہ تمام خطرات ہمارے لئے’’آف بیلنس شیٹ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں ،پاکستان کیلئے گیم چینجر سی پیک منصوبے کے تناظر میں ESGمیں سرمایہ کاری انتہائی ضروری بن گئی ہے ۔پروفیشنل اکاؤنٹینسی کمپنیوں کو ماحولیات سے متعلق رسک کے تناظر میں اپنی رپورٹ کی تیاری میں موثر مدد فراہم کرسکتی ہے اور اے سی سی اے اس حوالے سے اپناکردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...