بی اے ایس ایف نے ملیریا سے بچاؤ کا نیا طریقہ متعارف کر ا دیا

بی اے ایس ایف نے ملیریا سے بچاؤ کا نیا طریقہ متعارف کر ا دیا

  



کراچی(پ ر) بی اے ایس ایف ،ایس ای ، جرمنی نے ملیریا سے بچاؤ کے لیے ایک نئے طریقے کا اعلان کیا ہے جو مچھروں کے خلاف مزاحمت کی ایک انتہائی محفوظ تدبیر ہے۔ Interceptor G2 ایک نیٹ (LN)ہے جس پر طویل عرصے تک اثر برقرار رکھنے والی کیڑے مار دوا Chlorfenapyr لگی ہوئی ہے۔یہ ایک یکسر نئی دوا ہے ،جسے صحت عامہ کے وسیع تر مفاد میں مچھروں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔عالمی ادارہ ء صحت(WHO) نے بی اے ایس ایف سے سفارش کی ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کو مچھروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ،جس میں ڈینگی کا باعث بننے والا خطرناک مچھر بھی شامل ہے،اس نیٹ کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔ ہر سال پاکستان میں دس لاکھ سے زیادہ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں اور معمولی سی بے احتیاطی کی وجہ سے یہ مرض سنگین شکل اختیار کر لیتا ہے۔صرف گاؤں دیہات ہی نہیں بڑے شہروں میں بھی مچھروں کی بہتات ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔اب تک مچھر سے بچاؤ کے جتنے طریقے بھی رائج ہیں ان میںInterceptor G2سب سے زیادہ موثر اور محفوظ ہے۔بی اے ایس ایف کے سائنسدانوں نے بیماریوں اور ادویات پر تحقیق کرنے والے عالمی شہرت یافتہ اداروں کے ساتھ دس سال تک مل کر کام کرنے کے بعد تجویز کیا کہ Chlorfenapyr مچھر دانی پر استعمال کے لیے موثر ترین دوا ہے اور صحت عامہ کے لیے عالمی ادارہ ء صحت کے مقرر کردہ سخت ترین معیارات کے عین مطابق ہے۔ملیریا سے دنیا میں ہر دو منٹ کے بعد ایک بچہ موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور ہر سال 200 ملین نئے کیس سامنے آتے ہیں۔Innovative Vector Control Consortium (IVCC) کے ٹیکنیکل مینجر،Dave Malone نے کہا کہ" بی اے ایس ایف کے ساتھ تعاون نے ہمیں ایک ایسی insecticide تک رسائی دی جو صحت عامہ کے لیے نئی ، مچھروں کے خلاف موثر مزاحمت ا ور پولیسٹر نیٹنگ پر دیر تک لگے رہنے کے قابل ہے" ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...