پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے ہرفیصلے کو تسلیم کریں گے ،سینٹرشاہی سید

پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے ہرفیصلے کو تسلیم کریں گے ،سینٹرشاہی سید

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا ہے کہ سیاست سے شائستگی، رواداری اور احترام کا عنصر ختم ہوتا جارہا ہے 2013 کے عام انتخابات میں ہمیں جس طریقے سے بزور طاقت پارلیمنٹ سے باہر کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے گزشتہ عام انتخابات کے بعد ملک میں اے این پی کے علاوہ تمام بڑی اور چھوٹی جماعتیں کہیں نا کہیں اقتدار کا حصہ ہیں بزور جبر دیوار سے لگائے جانے کے باوجود ہم نے انتخابی نتائج کو قبول کیا ہم نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ہم اقتدار نہیں بلکہ اقدار کی سیاست کرتے ہیں پانامہ تماشے کی آڑ میں چھپنے کی کوشش کرنے والی حکومتی جماعتیں عوام کے سامنے گزشتہ ساڑھے چار سال کی کارکردگی بیان کریں گزشتہ ساڑھے چار سے اقتدار کے مزے لینی والی جماعتیں اپنی کارکردگی عوام کے سامنے لائیں سیاست کو تماشہ نا بنایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان ہاؤس میں مختلف پارٹی وفود سے ملاقات کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے مذید کہا کہ چوراہوں اور شاہراہوں پر عدالتیں لگانے اور فیصلے سنانا انتہائی بچکانہ طرز عمل ہے،پانامہ کیس کا فیصلہ ملک میں انصاف مہیا کرنے والے سب سے اعلیٰ ادارے کے پاس ہے جو طرز سیاست خاص طور پر گزشتہ چند ماہ سے جاری ہے وہ انتہائی شرم ناک ہے ،انہوں نے مذید کہا کہ پانامہ کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف بالکل واضح ہے اورجے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے جو بھی فیصلہ کیا اے این پی اسے قبول کریگی اے این پی پانامہ پر سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کو قبول کرے گی آج اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں بھی اے این پی نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے کہ جے آئی ٹی کی سفارشات پیش کی ہیں فیصلہ نہیں دیا ، حتمی فیصلہ عدالت نے کرنا ہے اور وہ جو بھی ہوا اسے تسلیم کیا جائے گا، اے این پی کا موقف ہے کہ احتساب سب کیلئے بلاتفریق و بلاتمیز کا فارمولا لاگوہونا چاہیے۔ کسی مخصوص خاندان ، پارٹی ، گروپ سے امتیازی سلوک کا تاثر ختم کرنے کیلئے لازم ہے کہ احتساب کا آغاز 1975 سے کیا جائے، آمرانہ ادوار میں بد عنوانی کی بنیاد رکھی گئی، بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کے آلہ کاروں نے بیرونی سرپرستوں ، اداروں سے آنے والی امداد ، فنڈز کو اپنے کاروبار ، جائیدادوں اور اثاثوں میں اضافے کیلئے استعمال کیا، آج تک ان میں سے کسی کا احتساب نہیں کیا گیا بلکہ سرکاری اداروں کے ماضی کے تمام بااختیار افراد کے خاندانوں کے خلاف ثابت شدہ بدعنوانی کو سرکاری چھتری کے سائے میں تحفظ دینے کیلئے نام نہاد سیاسی گروپ اور گرو ہ بنائے گئے، یہ تاثر دن بدن مضبوط ہورہا ہے کہ ایک بار پھر غیر سیاسی عناصر سیاسی نظام کے خلاف سازش کرنے والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں جو ملک و قوم کیلئے نقصان دہ اور شدید خطرناک ثابت ہوگا، پانامہ پیپرز پر بھی اے این پی کی سوچی سمجھی رائے تھی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہیے۔ دھرنوں کی وجہ سے ملک کو بے پناہ معاشی نقصان ہوا اگر دوبارہ اس طرح کا دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی تو ملک انتشار اور بد امنی کاشکار ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس پر تبصرہ نگاری کارجحان بھی درست نہیں ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...