پلڈاٹ کا ماہ جون 2017کا سول ملٹری تعلقات مانیٹر جاری

پلڈاٹ کا ماہ جون 2017کا سول ملٹری تعلقات مانیٹر جاری

  



اسلام آباد(پ ر)پلڈاٹ ماہ جون 2017کا سول ملٹری تعلقات پر مانیٹر جاری کر دیا ۔ جس میں سول ملٹری تعلقات اور پاناما پر جے آئی ٹی کیس پر پلڈاٹ تجزیے میں کہا گیاہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک تشویشناک صورتحال کا سامنا ہے عسکری اداروں کو ایسے معاملات میں الجھانے کی کوشش کی جارہی جو ان کے پیشہ وارانہ دائرہ کار میں نہیں آتا۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کاوائٹ کالر کرایم کی تحقیقات میں کوئی پیشہ وارنہ کردار نہیں بنتا، سپریم کورٹ کو چاہیے تھاکہ عسکری اداروں کو سیاسی بنیادوں پر پانامہ کیس کی تحقیقات میں شامل نہیں کرناچاہیے تھا۔جے آئی ٹی میں 15جون کو 2017کی پیشی پر وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان کے ’’خفیہ ہاتھوں کا کھیل ختم ہو گیا ہے اب کٹھ پتلیاں مزید کھیل نہیں سکتے ‘‘سے سول اور ملٹری قیادت کے درمیان تحفظات بڑھے ہیں ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں آئی سی سی چیمپئن ٹرافی کی 18جون کو کامیاب پر ڈی ائی ایس پی آر کی جانب سے جاری کر دہ ٹویٹس پر بھی سوالیہ نشان ہیں ۔ جس کی وجہ سے حساس قومی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پید اہوئے ہیں جس کیلئے آئی ایس پی آر کا افیشل آکاؤنٹ نہیں استعمال کرناچاہیے ۔ پارہ چنار دھرنے میں آرمی چیف کی شرکت کے حوالے سے پلڈاٹ تجریئے میں کہا گیا ہے کہ اس سارے معاملے میں منتخب حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا کہ وہ کون سے سکیورٹی تحفظات تھے جس پر گورنر خبیر پختونخوا اور وفاقی وزرا، وزیر اعظم کو پارہ چنار میں دورے سے مانع رکھا جبکہ آرمی چیف نے دورہ کیا ہے ۔ وفاقی حکومتی کی نار کر دگی کے باعث پیدا ہونیو الے خلا کو ملٹری نے پیدا کیا ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پر پلڈاٹ کا کہنا تھا کہ اسے معمولی نہیں لینا چاہیے اس کتاب میں پاکستان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات پیدا کئے ہیں اسی طرح ان حکام کو وضاحت کرنی چاہیے جو اس سارے معاملے میں ملوث ہیں ۔ آخر کار تین پاکستانی کا معاملہ جسے ریمنڈویوس نے خود قتل کیا ہے ۔ متعلقہ حکام کی جانب سے بھی کتاب میں ہونیوالے دعووں کی تردید نہیں آئی سکی۔ آرمی چیف کی جانب سے چیمپین ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو عمرے کی آفر دینا سمجھ سے بالاتر ہے ، اگرچہ پاکستان ٹیم کی بھارت کے خلاف فتح پاکستانی عوامی کیلئے انتہائی خوشی اور مسرت کا باعث تھا تاہم عمرے کی پیشکش چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے عوامی وسائل کو ان مقاصد کیلئے استعمال کیا جاناچاہیے یا نہیں یہ ایک سوال ابھی تک جواب طلب ہے ؟

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...