نظر یہ ضرورت دفن،سپریم کورٹ کی پاناما لیکس پر کارروائی بہترین یوٹرن ہے :شاہ محمود قریشی

نظر یہ ضرورت دفن،سپریم کورٹ کی پاناما لیکس پر کارروائی بہترین یوٹرن ہے :شاہ ...

  



اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی کارروائی ایک بہترین یوٹرن ہے کیونکہ ماضی میں عدلیہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت کام کرتی رہی اور مارشل لاء کو بھی سپورٹ کیا، آرمی چیف تو کوئٹہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں سے اظہار یکجہتی کیلئے وہاں پہنچے ہیں لیکن منتخب حکمران وہاں جانے کی بجائے پانامابچاؤ تحریک میں لگے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اور ترک سفارتخانے کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا انعقاد ناکام ترک فوجی بغاوت کو ایک سال مکمل ہونے پر کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلقات قائم ہیں اور ترکی وہ واحد ملک ہے جس نے زلزلہ اور سیلاب کے دوران سب سے پہلے پاکستان کی امداد کی۔ 15 جولائی کا دن دنیا کے لئے بہترین مثال ہے اس دن عوام نے جمہوریت اور اپنے اداروں کا ساتھ دیا اور فوجی بغاوت کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے عوام اداروں کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی اور جمہوریت کا ساتھ دیا۔ طیب اردوان نے عوام کا اداروں اور حکومت پر اعتماد اپنی کارکردگی کے ساتھ قائم کیا اور ترکی کی معیشت کو نیچے سے اوپر لے کر گئے اسی لئے ترکی کی عوام رجب طیب اردوان کی حامی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کی قیادت نے عوام کا اداروں پر اعتماد قائم کیا تو ترکی کے عوام نے اپنے اداروں کو سپورٹ کیا دوسری طرف پاکستان میں ہماری تاریخ میں جب ہم ڈیلیور نہیں کر پائے تو عوام نے احتجاج بھی نہیں کیا اور نہ ہی حکومت کے حق میں سڑکوں پر آئی۔ ہم نے 126 دن کا دھرنا اداروں کی بہتر کارکردگی اور شفاف الیکشن کمیشن کے قیام کیلئے دیا تھا تاکہ ملک میں شفاف الیکشن کے نتیجے میں عوام کی منتخب کردہ قیادت ہی سامنے آئے۔ ہمیں ترکی کی عوام کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہم آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑائیں گے اس وقت تک ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی قیمت ادا کی ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی لسٹ میں پاکستان کی قربانیوں تک کا ذکر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور احتساب لازم و ملزوم ہیں جہاں احتساب کے ادارے ناکام ہو جائیں وہاں عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کی ذات، گروپ یا کسی سیاسی پارٹی کے احتساب کی بات نہیں کرتا بلکہ احتساب ہر شخص کا ہونا چاہئے۔ ہمیں ترکی کے تجربات سے سیکھنا ہوگا جب تک پاکستانی قوم کھڑی نہیں ہوگی اس کے حقوق کی پامالی ہوتی رہے گی۔ پاکستان میں ترکی کے سفیر صادق بابر گرگین نے کہا کہ ترک عوام نے فوجی بغاوت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی جمہوریت، اداروں اور حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جو ترکی کی تاریخ میں سنہری دن کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا ترکی میں جمہوریت کے بچاؤ کیلئے شہریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں بوسنیا کے سفیر ڈاکٹر ندیم نے کہا کہ 1992 سے لیکر 1995 تک بوسنیا خانہ جنگی کا شکار رہا۔ اس دوران بوسنیا کے شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ دوسری طرف جمہوریت کو بچانے کیلئے ترک عوام کی جدوجہد دیگر ملکوں کی عوام کیلئے ایک مثال ہے۔ تھنک ٹینک کے سربراہ اور نامور مفکر مواحد حسین نے کہا کہ ترکی یورپ میں بہت اہمیت کا حامل ملک ہے۔ فوجی باغی ترکی میں بغاوت کے بعد یورپ کو غیر مستحکم کرنا چاہتے تھے لیکن ترک عوام نے یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دی۔ قبل ازیں نیشنل پریس کلب میں ترک سفیر صادق بابر نے دونوں ملکوں کے پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی اور یادگاری پودا بھی لگایا۔

شاہ محمود قریشی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...