”ہرگز ہرگز میری موت نہیں آسکتی جب تک کہ ....“امیر المومنین حضرت علیؓ کی شہادت سے پہلے کا ایک ایمان افروز واقعہ

”ہرگز ہرگز میری موت نہیں آسکتی جب تک کہ ....“امیر المومنین حضرت علیؓ کی شہادت ...
”ہرگز ہرگز میری موت نہیں آسکتی جب تک کہ ....“امیر المومنین حضرت علیؓ کی شہادت سے پہلے کا ایک ایمان افروز واقعہ

  



روایات میں آتا ہے کہ فاتح خیبر داماد رسول اللہ ﷺ امیر المومنین حضرت علی ؓ اس بات سے آگاہ تھے کہ ان کا وصال شہادت کے طور پر ہوگا ۔ حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ”ینبع“(صوبہ المدینہ میں واقع جدہ کی جانب تین سو کلومیٹر دور) میں بہت سخت بیمار ہوگئے تو میں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کیلئے گیا۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا اے امیرالمومنین آپؓ ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگر اس جگہ آپ ؓکی وفات ہوگئی تو قبیلہ ”جہینہ“ کے گنواروں کے سوا اور کون آپؓکی تجہیز و تکفین کرے گا؟ اس لیے میری گزارش ہے کہ آپؓ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تووہاں آپ ؓکے جاں نثار مہاجرین و انصار اور دوسرے مقدس صحابہؓ آپؓکی نماز جنازہ پڑھیں گے اور یہ مقدس ہستیاں آپؓکے کفن و دفن کا انتظام کریں گی“

یہ سن کر آپؓ نے فرمایا ” اے فضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاو¿ں گا۔ سن لو اس وقت تک ہرگز ہرگز میری موت نہیں آسکتی جب تک کہ مجھے تلوار مار کر میری اس پیشانی اور ڈاڑھی کو خون سے رنگین نہ کردیا جائے۔“

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بدبخت عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی خارجی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس پیشانی پر تلوار چلادی جو آپؓ کی پیشانی کو کاٹتی ہوئی جبڑے تک پیوست ہوگئی۔ اس وقت آپؓ کی زبان مبارک سے یہ جملہ وارد ہوا ”کعبہ کے رب کی قسم کہ میں کامیاب ہوگیا“ اس زخم میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقام ینبع میں جو فرمایا تھا وہ حرف بحرف صحیح ہوکر رہا۔

مزید : روشن کرنیں


loading...