ہندوستان کا وہ کاتب قرآن بادشاہ جس کے گھر میں ملکہ خودکھانا پکاتی تھی

ہندوستان کا وہ کاتب قرآن بادشاہ جس کے گھر میں ملکہ خودکھانا پکاتی تھی
ہندوستان کا وہ کاتب قرآن بادشاہ جس کے گھر میں ملکہ خودکھانا پکاتی تھی

  



حکومتی خزانہ تو عیاشی ، بالادستی اور لوٹ مار کے لئے وقف ہوچکے ہیں ۔اب مسلمانوں ایس احکمران کہاں سے تلاش کرکے لایا جائے جو صادق اور امین ہو اور لوٹ مار پر ایمان نہ رکھتا۔ہندوستان کی سرزمین پر کئی ایسے سلطان گزرے ہیں جن کی زندگی اسلامی شعائر کانمونہ تھی اور اتباع رسول ﷺ بجا لاتے تھے۔خاندان غلاماں کا سلطان ناصر الدین فیروز شاہ المعروف ناصر الدین محمود انتہائی دیندار اور عبادت گزار انسان تھا ۔وہ شمس الدین التمش کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا ۔یہ سلطان کاتب قرآن تھا اور اسکے کتابت شدہ قرآن کے نسخے فروخت ہوتے تو گھر کا چولہا جلتا تھا۔جی اب سے آٹھ سو سال پہلےہندوستان میں ایک ایسا بادشاہ گزرا ہے جو کتابت قرآن پر گزربسر کرتا تھا ۔

ایک بار ایک امیر نے سلطان کا لکھا ہوا قرآن شریف معمول سے زیادہ ہدیے پر خریداتو سلطان نے حکم دیا کہ آئندہ ان کے لکھے ہوئے قرآن خفیہ طور پر عام اور رائج قیمت پر ہدیہ کیے جائیں۔ سلطان کے گھر میں کوئی خادمہ یا کنیز نہ تھی۔ ملکہ خود اپنے ہاتھ سے کھانا پکاتی اور دیگر کام کرتی۔ ایک روز ملکہ نے شکایت کی کہ روٹی پکاتے پکاتے میرے ہاتھوں میں سوزش ہو گئی ہے۔ کام کے لئے کوئی کنیز خرید لیں۔ سلطان نے جواب دیا ”سرکاری خزانے پر صرف رعایا کا حق ہے۔ مجھے اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ اپنے ذاتی آرام و آسائش کے لئے اس میں سے کچھ روپیہ لے کر تمہیں کنیز خرید دوں۔ تمہیں دنیاوی تکلیفوں پر صبر کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ تمہیں آخرت میں دے گا۔“

سلطان ناصر الدین محمود کا یہ اسلامی کردار آج کے حکمرانوں کے لئے روشن مثال ہے جو قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے میں رتی بھر شرم محسوس نہیں کرتے!

مزید : روشن کرنیں