سی پیک منصوبے، 30 ہزار پاکستانی انجینئرز کام کررہے ہیں، چینی شہریوں کی تعداد8ہزار

سی پیک منصوبے، 30 ہزار پاکستانی انجینئرز کام کررہے ہیں، چینی شہریوں کی ...
سی پیک منصوبے، 30 ہزار پاکستانی انجینئرز کام کررہے ہیں، چینی شہریوں کی تعداد8ہزار

  



اسلام آباد (اے پی پی) سی پیک منصوبے پر کام کرنے والے پاکستانیوں کے اعداد و شمار سامنے آگئے۔ پہلے مرحلے میں بجلی، شاہراہوں و دیگر شعبوں میں جاری سی پیک منصوبوں پر 30 ہزار سے زائد پاکستانی انجنئیرز اور ورکرز کام کررہے ہیں ان اعداد و شمار سے اس تاثر کی نفی ہوتی ہے کہ سی پیک منصوبوں پر صرف چینی انجنئیرز اور ورکرز کو ملازمتیں دی گئی ہیں۔

جمعہ پلاننگ کمیشن کے مطابق سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی تعداد8 ہزار ہے اور یہ تعداداوسطاً 25 فیصد تک ہی محدود رہی ہے۔ مختلف اداروں کی جانب سے جاری کئے جانے والے جائزوں میں کہا جارہا ہے کہ سی پیک کے مختلف مراحل میں میگا پراجیکٹس کی شروعات کے باعث پاکستانیوں کیلئے لاکھوں کی تعداد میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سی پیک کی بدولت پاکستان میں 4 لاکھ جبکہ اپلائیڈ اکنامک ریسرچ سنٹرکے مطابق سی پیک سے سات لاکھ افراد کو روزگار ملے گا جبکہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان اندازہ لگایا ہے کہ 2015 سے 2030 تک مقامی افراد کو 8 لاکھ ملازمتوں کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔سی پیک کے تحت توانائی کے شعبے میں جاری منصوبوں پر 16ہزار پاکستانیوں کو ملازمتیں ملی ہیں جن میں عام مزدوروں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں انجنئیرز بھی شامل ہیں، کوئلے سے بجلی بنانے کے بڑے منصوبے پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ پر 5 ہزار، جبکہ ساہیوال اور قائداعظم سولر پاور پراجیکٹ پر 3، 3 ہزار پاکستانی کام کررہے ہیں، ان میں ہر منصوبے پر کام کرنے والوں میں 300 سے 500 تک پاکستانی انجنیئرز شامل ہیں۔ان انجنیئرز کو کوئلے سے بجلی بنانے کے اس نئے شعبے کے حوالے سے علم و تجربہ حاصل ہوگا لہذا یہ تربیت یافتہ انجنئیرز مستقبل میں پاکستان کیلئے قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے میں دو اور منصوبوں سکی کناری و کروٹ ہائیڈرو پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کا آغاز ہونے والا ہے جس کی وجہ سے ملازمتوں کے مزید 6 ہزار سے زائد مواقع میسر آئیں گے ، توانائی کے ساتھ ساتھ شاہراہوں کے منصوبوں میں 13ہزار کے قریب پاکستانیوں کو ملازمتیں ملی ہیں۔

وزیراعظم کسی صورت بھی مستعفی نہیں ہوں گے،عمران خان پاکستان میں فتح اللہ گولن کا ماڈل لانا چاہتے ہیں:احسن اقبال

پشاور کراچی موٹر وے کے ملتان سکھر سیکشن پر جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے 9800 پاکستانی انجنئیرز و ورکرز برسر روزگار ہوگئے ہیں جبکہ قراقرم ہائی وے کے فیز 2، حویلیاں سیکشن پر 2071 اور اورنج لائن میٹرو لاہور پر 956 جبکہ فائبر آپٹیک پراجیکٹ پر 580 پاکستانیوں کو روزگار ملا ہے، گوادر میں فری زون پر تعمیراتی کام کی وجہ سے 404 مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے ہیں جبکہ 2000 کے قریب دیگر افراد بھی بلا واسطہ طور پر مستفید ہورہے ہیں۔حکام کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل اور یہاں صنعتوں کے قیام سے گوادر و بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں سال انفراسٹرکچر کے شعبے میں دیگر میگا پراجیکٹس یعنی ایم ایل ون پاکستان ریلویز اپ گریڈیشن، گوادر ائر پورٹ اورگوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پرتعمیراتی کام کے آغاز سے ہزاروں کی تعداد میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد 15ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے واضح ہورہا ہے کہ سی پیک کے جاری منصوبوں پر 75فیصد سے زائد پاکستانی ورکرز کام کررہے ہیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...