جنونی گروہ سرگرم، 9 بچیاں زیادتی کے بعد قتل ، پولیس کے دعوے جھوٹے ایک بھی ملزم پکڑا نہ جا سکا

جنونی گروہ سرگرم، 9 بچیاں زیادتی کے بعد قتل ، پولیس کے دعوے جھوٹے ایک بھی ملزم ...
جنونی گروہ سرگرم، 9 بچیاں زیادتی کے بعد قتل ، پولیس کے دعوے جھوٹے ایک بھی ملزم پکڑا نہ جا سکا

  



قصور (ویب ڈیسک) قصور کے نواحی گاﺅں حسین خانوالہ میں سینکڑوں بچوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں بلیک میل کر کے کروڑوں روپے اکٹھے کرنے کے دلخراش واقعات کی دھول ابھی بیٹھی بھی نہ تھی کہ قصور میں انفرادی طور پر کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں قتل کرنے کا سلسلہ شرو ع ہو گیا ہے کم عمر بچوں کے اغواءہونے اور قتل کر دیئے جانے کے واقعات اس قدر زیادہ تیزی سے ہو رہے ہیں کہ قصور میں ہر طرف خوف وہراس کی فضاءقائم ہو چکی ہے لوگ سرشام بچوں کو گھروں میں بند کر لیتے ہیں بہت سے والدین نے بچوں کو ٹیوشن یا دیگر کاموں سے گھروں سے باہربھیجنا بند کر دیا ہے مگر اس کے باوجود بچوں کو ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور پولیس اس معاملے میں ملزمان کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام چلی آرہی ہے۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق ممتاز سماجی کارکن قیصر ایوب شیخ نے بتایا کہ دیگر شہروں کی نسبت قصور میں کئی گنا زیادہ بچوں کو آئے روز اغواءکر لیا جاتا ہے نامعلوم درندہ صفت ملزمان ان بچوں کو اغواءکرنے کے بعد کسی ویران مکان وغیرہ میں لے جاتے ہیں جہاں انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے مختصر عرصے میں نوبچیاں جن کی عمریں آٹھ سال سے کم تھیں اغواءکے بعد قتل کی جا چکی ہیں اگر ان میں کم سن بچوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے انہوں نے کہا کہ پولیس کی اس سلسلہ میں کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔ میاں فاروق احمد انصاری نے بتایا کہ پولیس نے چند ماہ قبل یکے بعد دیگرے دو افراد کی ہلاکت سامنے آنے پر دعویٰ کیا کہ یہ دونوں ملزم بچوں کو اغواءاور قتل کرنے کے واقعات میں ملوث تھے اور دونوں اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے ہیں مگر سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے جب اپنے طور پر پتہ جوئی کی تو علم ہوا کہ یہ دونوں قتل مشکوک تھے کیونکہ ان میں قتل کیا جانیوالا ایک شخص حافظ قرآن اور دوسرا تین بچوں کا باپ تھا جن کا کوئی اس نوعیت کا سابقہ ریکارڈ بھی نہیں تھا انہوں نے کہا کہ شہر کے اندر اس قدر زیادہ خوف اور ڈرچھایا ہوا ہے کہ والدین ہر وقت اپنے بچوں کے تحفظ کی فکر میں رہتے ہیں اور چند روز قبل ہی شہریوں کے ایک اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ بچوں کے مسلسل اغواءقتل کی وارداتوں اور ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔

قانون دان چوہدری امجد علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ حسین خانوالہ گاﺅں میں درجنوں بچوں کے ساتھ زیادتی بلیک میلنگ اور تشدد کے جو واقعات ہوئے اس سے پہلے ہی پوری دنیا میں قصور کا چہرہ داغدار ہو چکا تھا ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ حسین خانوالہ میں متاثرہ بچوں کو ذہنی اور نفسیاتی بحالی کیلئے بڑے بڑے ناموں والے سیاستدان جو سکولز اور سینٹرز وغیرہ قائم کرنے کے دعوے اور وعدے کیے تھے وہ سارے اڑن چھو ہو چکے ہیں اس پر ظلم کی انتہا ءیہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے قصور شہر کو معصوم بچوں کی قتل گاہ بنا دیا گیا ہے ہر مہینے ایک سے لیکر تین بچے اغواءکے بعد قتل کر دیئے جاتے ہیں جنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے چوہدری محمد صادق نے کہا کہ پولیس ہر واقعہ کے بعد ورثاءکو یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا حقیقت یہ ہے کہ آج تک ایک بھی ملزم زندہ گرفتار نہیں کیا جا سکاہے انہوں نے کہا کہ ہر بچے کے قتل کے بعد پولیس سینکڑوں کے حساب سے بلا تفریق شہریوں کو حراست میں لے لیتی ہے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر خاموشی سے انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے کہا یہ جاتا ہے کہ یہ افراد مشکوک ہیں مگر اب تک پکڑے گئے ایک ہزار سے زائد افراد میں سے ایک بھی ملزم نہیں نکلا میجر (ر) حبیب الرحمن ایڈووکیٹ ، رانا فیصل منظور اور غلام مصطفی مغل کے علاوہ دیگر شہریوں نے بتایا کہ قصور میں جس تیزی سے بچوں کو اغواءاور قتل ہو رہے ہیں اس امر نے ہر گھرانے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے لوگ بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اب تک قتل ہونیوالے زیادہ تر بچوں کے طریقہ قتل میں بہت گہری مماثلت پائی جاتی ہے مثال کے طور پر کم سن بچیوں کو گلی محلوں سے اٹھانے کے بعد کسی ویران جگہ یا زیر تعمیر مکان میں لیجا کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انہیں ہلاک کرنے کے بعد نعش وہیں چھوڑ دی جاتی ہے اسی طرح بچوں کی اکثریت کو اب تک گلا دبا کر ہلاک کیا گیا ہے طریقہ واردات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وارداتیں کوئی جنونی گروہ کر رہا ہے جن کی تعداد ایک سے زیادہ ہے یہ گروہ اور اس کے ظالم رکن اس قدر تیز اور پھر تیلے ہیں کہ پولیس کی مہینوں کی کوششوں کے باوجود ان بچوں کا کوئی قاتل گرفتار نہیں کیا جا سکا اس ضمن میں پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس کی گرفتاری کیلئے جدید طریقہ تفتیش کے تحت کام کر رہی ہے چھ مختلف پولیس پارٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف علاقوں میں ہر حوالے سے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کیلئے سرگرم عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اشتعال میں آنے اور احتجاج کرنے کی بجائے ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس سے معاونت کریں۔

مزید : قصور