2014 میں مقرر ہونے والے ہائی کورٹ کے 7 ججز نے بطور وکیل ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا،ایک کا نیشنل ٹیکس نمبر نہیں ، 4 نے انتہائی معمولی ٹیکس ادا کیا: عمر چیمہ

2014 میں مقرر ہونے والے ہائی کورٹ کے 7 ججز نے بطور وکیل ٹیکس ریٹرن فائل نہیں ...
2014 میں مقرر ہونے والے ہائی کورٹ کے 7 ججز نے بطور وکیل ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا،ایک کا نیشنل ٹیکس نمبر نہیں ، 4 نے انتہائی معمولی ٹیکس ادا کیا: عمر چیمہ

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2014 میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ہائی کورٹ کے 12 ججز کا تقرر کیا لیکن ان میں سے 7 ایسے تھے جنہوں نے کبھی ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا تھا اور وہ نان فائلر تھے جبکہ باقی 5لوگوں میں سے ایک صاحب کا نیشنل ٹیکس نمبر ہی نہیں تھا اور باقی 4 نے انتہائی معمولی ٹیکس ادا کیا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ عام طور پر کئی بھرتیوں کو صرف اس وجہ سے کالعدم کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان کیلئے باقاعدہ اشتہار نہیں دیا گیا ہوتا لیکن جب اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا تقررہوتا ہے تو اس کیلئے کوئی اشتہار نہیں دیا جاتا اور ہمیں اس وقت پتا چلتا ہے جب ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوجا تا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ہائی کورٹس کے 12 ججز مقرر کیے جن میں سے 8 لاہور اور 4 پشاور ہائیکورٹ کیلئے مقرر کیے گئے تھے۔ یہ معاملہ ججز کے معاملات ڈیل کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے پاس گیا۔ کمیٹی نے ایف بی آر سے ٹیکس ریکارڈطلب کیا تو بہت تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ۔ ان 12 ججز میں سے 7 ایسے تھے جنہوں نے کبھی ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا تھا اور وہ نان فائلر تھے جبکہ باقی 5لوگوں میں سے ایک صاحب کا نیشنل ٹیکس نمبر ہی نہیں تھا اور باقی چار نے انتہائی معمولی ٹیکس ادا کیا۔

عمر چیمہ نے کہا کہ ان ججز میں سے ایک صاحب نے 5 سال میںایک دفعہ ٹیکس ریٹرن فائل کیا جو کہ 1000 روپے بنتا تھا جبکہ ایک اور صاحب ایسے تھے جنہوں نے ایک سال میں 237 روپے اور دوسرے سال میں 245 روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔

عمر چیمہ نے کہا کہ ان جج صاحبان کے ٹیکس ریٹرنز دیکھ کر دو باتیں سامنے آتی ہیں ، ایک تو وہ اتنے اچھے وکیل نہیں تھے اور لوگ اپنے مقدمات کیلئے انہیں وکیل مقرر نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی آمدنی کچھ خاص نہیں تھی۔ دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان جج صاحبان کی بطور وکیل تو آمدنی اچھی تھی لیکن یہ اپنی آمدن چھپا کر ٹیکس بچاتے رہے۔

عمر چیمہ نے مزید کہا کہ جب ان جج صاحبان کی تقرری کا معاملہ سامنے آیا تو اس وقت میں نے یہ سٹوری دی تھی لیکن یہ صرف اس وجہ سے نہیں چھپ سکی کیونکہ اس سے بعد میں ہمارے لیے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ سٹوری شائع نہ ہونے پر میں نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس سارے معاملے سے آگاہ کیا لیکن اسی شام ان ججز کے تقرر کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

مزید : اسلام آباد


loading...