فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 150

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 150
فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 150

  



ہم نے اس رات نفل ادا کر کے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے گھر بیٹھے ایک انتہائی معقول ڈسٹری بیوٹر ہمارے پاس بھیج دیا تھا۔ اس سلسلے میں یہ بھی بتاتے چلیں کہ ’’سزا‘‘ کراچی میں ریلیز ہوئی اور پہلے ہی ہفتے میں ڈسٹری بیوٹر کی ’’ایم جی‘‘ بہت حد تک وصول ہوگئی۔ دوسرے ہفتے میں ’’ایم جی‘‘ کی باقی رقم اور پبلسٹی کے اخراجات بھی پورے ہوگئے۔ اس طرح تیسرے ہفتے میں ہی ہمارا حصہ شروع ہوگیا۔ فلم انڈسٹری میں جو بھی یہ بات سنتا تھا حیران ہوتا تھا مگر بہت کم لوگ جانتے تھے کہ ہمارے معاہدے کی نوعیت اور شرائط کیا تھیں۔

انیس دوسانی صاحب سے وصول ہونے والی رقم نے ہماری کافی مشکلات آسان کر دی تھیں مگر پنجاب کا اہم سرکٹ ابھی تک فروخت نہیں ہوا تھا حالانکہ فلم اب تقریباً مکمل ہو چکی تھی۔ کسی بھی ڈسٹری بیوٹر سے معقول شرائط پر بات طے نہ ہو سکی تھی اور ہمیں یہ اندیشہ پیدا ہونے لگا تھا کہ کہیں ہمیں یہ فلم خود ہی ریلیز نہ کرنی پڑ جائے۔ ہم اس پریشانی میں مبتلا تھے کہ تقدیر کی گھنٹیاں ایک بار پھر بجنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوشگوار صورت حال پیدا ہوگئی۔

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 149 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لاہور میں اداکارہ دیبا کی پہلی پنجابی فلم ’’پرواہ نئیں اوے‘‘ ریلیز ہوئی تو نہ صرف دیبا نے فرمائش کی کہ ہم یہ فلم ضرور دیکھیں بلکہ فلم کے ہدایت کار افتخار خان نے بھی بطور خاص ہمیں پہلے شو میں مدعو کیا۔ (افتخار خان حسن طارق کے اسسٹنٹ رہ چکے ہیں اور ہمارے یونٹ میں بھی کام کر چکے ہیں)

سہ پہر تین بجے کے شو میں انٹرول ہوا تو ہم پائپ اور چائے پینے کی غرض سے باہر نکلے۔ سیڑھیوں پر ہمیں شیخ حسن مل گئے۔ شیخ حسن ہمارے پرانے ملنے والے تھے۔ پہلے لاہور میں اقبال شہزاد کی فلمیں وہی ریلیز کرتے تھے اور شہزاد کے ساتھ ان کے بہت گہرے مراسم تھے۔ کسی زمانے میں ہماری ان سے اکثر ملاقاتیں رہا کرتی تھیں مگر گذشتہ ایک سال سے ہم اپنی مصروفیات کی وجہ سے ان سے دفتر سے ایک بار بھی نہ مل سکے تھے۔

وہ بڑے خلوص سے ملے۔ چائے پلانے کے لئے سینما کے ریستوران میں لے گئے۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد پوچھنے لگے ’’آج کل کیا کر رہے ہیں۔ کوئی فلم وِلم نہیں بنا رہے؟‘‘

ہم نے انہیں ’’سزا‘‘ کے بارے میں بتایا۔

’’ارے ہاں۔ یاد آیا‘ کل ہی تو کسی نے مجھے بتایا تھا فلم آپ نے کسی کو دے دی ہے یا اوپن ہے؟‘‘

’’ابھی تک تو اوپن ہے۔‘‘

وہ جوش میں آ کر کھڑے ہوگئے‘ آفاقی صاحب اب کسی سے بات نہیں کرنی ہے آپ کی فلم میں ریلیز کروں گا۔‘‘

ہم نے کہا ’’یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے مگر شیخ صاحب ایک بات سن لیجئے۔ کاسٹ تو نئی ہے مگر فلم کی ایم جی کم نہیں ہوگی۔ ‘‘

انہو ں نے کہا ’’کل آپ رش پرنٹس تو دکھائیے پھر بات ہوگی۔‘‘

رش پرنٹس دیکھ کر شیخ صاحب اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں لے کر سٹوڈیو سے سیدھے اپنے دفتر پہنچ گئے۔

’’سنئے آفاقی صاحب میں آج کل بہت پھنسا ہوا ہوں۔ دو تین پنجابی فلمیں مکمل ہونے والی ہیں۔ اس لئے کوئی نیا سودا نہیں کر سکتا مگر آپ کی فلم میرے سوا کوئی اور ریلیز نہیں کرے گا۔‘‘

’’تو کیا ہم آپ کے فری ہونے کا انتظار کریں؟ یہ تو ممکن نہیں ہے لئے کہ ہماری فلم بالکل تیار ہے۔‘‘

وہ بولے ’’آپ کی فلم میں اپنے دفتر سے ریلیز کر دیتا ہوں۔ جو بکنگ ہوگی وہ آپ کے حوالے کرتا رہوں گا۔ آپ کی جو مرضی چاہے وہ پانچ سات فیصد کمیشن دے دینا یا نہ دینا۔ مگر یہ فلم مرے دفتر ہی سے ریلیز ہونی چاہئے۔‘‘

یہ بہت اچھی پیشکش تھی حالانکہ اس میں بھی رسک تھا مگر ہم یہ رسک برداشت کرنے کے لئے بالکل تیار تھے۔

دوسرے ہی دن انہوں نے اخبارات میں پبلسٹی شروع کر دی اور مختلف شہروں سے خریدار آنے لگے۔ جو رقم وصول ہوتی وہ ہمارے حوالے کر دیتے۔

چند ہفتے بعد ہی ’’سزا‘‘ سارے پاکستان میں نمائش کے لئے پیش کر دی گئی۔ ہمارے سارے خدشات اور پریشانیاں یکدم دور ہو چکی تھیں۔ ہم نے اپنا ہر ایک وعدہ پورا کیا تھا اور کسی کے قرض دار نہیں تھے۔ فلم کی نمائش کے بعد ہمیں اللہ نے عزت بھی دی اور پیسہ بھی ملا۔ ہماری دعائیں بالاآخر رنگ لے آئی تھیں۔ تقدیر کی ایسی کرم فرمائیاں ہم پر اکثر ہوتی رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ پر بہت مضبوط ایمان اور یقین ہے۔ وہی عزت و ذلت دینے والا ہے اور وہی نفع و نقصان دیتا ہے۔ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے سوا کسی اور پر بھروسا کرنا یا امداد کیلئے کسی کی طرف دیکھنا ہماری سرشت میں داخل نہیں ہے۔

فلم کی شوٹنگ کے دوران میں پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ اور یاد آگیا ہے وہ بھی سن لیجئے۔

قوی صاحب بہت ا چھی اداکاری کر رہے تھے جب بازاروں میں ان کے بھیک مانگنے کے مناظر فلمانے کا وقت آیا تو ہم نے اس کے لئے گلبرگ کی لبرٹی مارکیٹ کا انتخاب کیا۔ وہاں زیادہ ہجوم نہیں ہوتا تھا اور سکون سے شوٹنگ ہو سکتی تھی۔ قوی صاحب گداگر کی گدڑی میں ملبوس دکانوں کے سامنے سے صدائیں لگاتے ہوئے گزرے تو کئی دردمندوں نے انہیں کچھ نہ کچھ دے دیا۔ ان لوگوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اداکار قوی ہیں اور ایک فلم کی شوٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

ہم نے کہا ’’قوی جن لوگوں نے تمہیں پیسے دئیے ہیں انہیں واپس لوٹا دو۔‘‘

کہنے لگے ’’آفاقی صاحب یہ تو میری حقیقی اداکاری کی سند ہے۔ انعام ہے۔ یہ رقم میں واپس نہیں دوں گا بلکہ میں تو سوچ رہا ہوں کہ آپ نے فلم میں میری زبان سے جو فلسفہ بیان کرایا ہے اسی پر عمل شروع کر دوں گا۔‘‘

’’یعنی؟‘‘ ہم نے پوچھا ۔

’’یعنی یہ کہ گداگری سے زیادہ معقول اور فائدہ مند کوئی اور پیشہ نہیں ہے۔ سوچتا ہوں اداکاری میں کیا رکھا ہے کیوں نہ گداگری شروع کر دوں!‘‘

مگر شکر ہے کہ انہوں نے اس ارادے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔

فلم ’’سزا‘‘ کی ریلیز سے دو دن پہلے ہم نے لاہور کے گلیکسی سینما میں بہت دھوم دھام سے اپنی فلم کا پریمئر شو کیا۔ فلمی صنعت کے ممتاز افراد‘ اداکار‘ صحافی اور چیدہ چیدہ بیورو کریٹس اس میں مدعو تھے۔ دعوتی کارڈ بہت خوبصورت تھے۔ ان کے ہمراہ پارکنگ کیلئے خوب صورت سٹکرز بھی تھے۔ مقصد یہ تھا کہ محض مدعوئین ہی سینما کے احاطے میں داخل ہوں۔ اس سینما کا پارکنگ لان بہت وسیع تھا۔ اسی کے اندر فوجی بینڈز بھی ترانے بجا رہا تھا۔ سینما کے بیرونی دروازوں پر اور سینما ہال کے دروازوں پر چیکنگ کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود سینکڑوں بن بلائے مہمان سینما ہال کے اندر پہنچ گئے اور وہی افراتفری مچی جو کہ اب ہمارے قومی کردار کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ یعنی بہت سے معزز مہمانوں کو بیٹھنے کے لئے کرسیاں اور صوفے میسر نہ تھے۔ 1965ء کی جنگ کے ہیرو اور لاہور کے محافظ جنرل سرفراز اور ان کی بیگم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ہم نے انہیں لے جا کر بٹھایا۔ مگر سینما ہال کی بدنظمی نے ہمیں پریشان کر دیا اور ہم اپنی عادت کے مطابق پسپا ہو کر ایک گوشے میں پناہ گزین ہوگئے۔ یہ سینما کے مالک کا دفتر تھا۔ جہاں ہمیں منٹ منٹ کی خبریں موصول ہو رہی تھیں۔ فلم کا شو ختم ہوا تو ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔ کافی دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ اس کے بعد ہر ایک نے ہمیں تلاش کرنا شروع کر دیا۔ مگر ہم پہلے ہی سینما سے رخصت ہو کر اپنے گھر جا چکے تھے۔ تقریب کی کمپئرنگ کے فرائض ہم اقبال شہزاد کو سونپ آئے تھے۔ انہوں نے کہا بھی کہ یار سوفی دلہا کے بغیرو برات اچھی نہیں لگے گی۔ مگر ہم دو پریشانیوں سے بچنا چاہتے تھے۔ ایک تقریر اور دوسری تصویر۔ محفل میں سبھی ہمارے متلاشی تھے۔ جنرل صاحب بھی ہمارا پوچھ رہے تھے مگر ہمارا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ یہ تقریب بے حد کامیاب رہی۔ اگلے روز اخبارات میں اس کی خبریں اور تصویریں شائع ہوئیں مگر ہم کسی ایک تصویر میں بھی شامل نہیں تھے اور ہوتے بھی کیسے ہم تو سینما ہال میں موجود ہی نہ تھے۔(جاری ہے)

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 151 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...