لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12
لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12

  



جگن ناتھ آزاد نے اپنے کسی مضمون میں اس واقعے کا ذکر بھی کیاہے۔ اس طرح اس فلم کا چرچا ادبی حلقوں میں بھی رہا لیکن فلم کے نام کی مناسبت سے سب خواب ادھورے ہی رہے۔

یہ فلم جنوری میں افتتاح ہوئی تھی اور مارچ تک صرف اس کی شوٹنگ ہی شروع ہو سکی تھی۔ اسی اثناء میں ماسٹر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے پاکستان کی مخالفت میں اپنی کرپان ہوا میں لہرائی اور اسی دن سے مذہبی فضا خراب ہو گئی اور فسادات شروع ہو گئے۔

اس عرصہ میں چندر کانتا مجھ سے مل چکی تھیں اور وہ ٹمپل روڈ پر اکیلی رہتی تھیں۔ میں چونکہ ہوٹل کے کمرے میں رہتا تھا اس لئے ایک موقع پر انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ مجھے اپنے گھر لے جائیں کیونکہ بڑی جذباتی وابستگی ہو چکی تھی۔ وہ علاقہ ہندوؤں ‘ سکھوں اور مسلمانوں کا مشترکہ علاقہ تھا۔ ہندومسلم کشیدگی کی وجہ سے لوگ جائیداد کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ اس وقت تک لاہور کے بارے میں کچھ واضح علم نہیں تھا۔ ہندوؤں کا خیال تھا کہ لاہور ہندوستان میں شامل ہو گا جبکہ مسلمانوں کا خیال تھا کہ لاہور پاکستان میں شامل ہو گا۔ اس وجہ سے امن و امان کا سلسلہ درہم برہم ہر کر رہ گیا تھا۔

لازوال گیتوں کے خالق ،بے مثل شاعر قتیل شفائی کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں چندرکانتا کے مکان میں جون یا جولائی 1947 ء میں منتقل ہوا تھا۔ اس زمانے میں یہ ایسا واقعہ ہوا جس نے فلم سے ہٹ کر ادبی میدان میں مجھے شہرت دی۔ یہ ریڈیو کا ایک مشاعرہ تھا جو ریڈیو پر میرا پہلا مشاعرہ تھا اور جو مجھے حفیظ ہوشیار پوری صاحب کی مہربانی سے ملا۔ حفیظ صاحب ہمارے ساتھ نظام ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے اور میرے نئے لہجے کو پسند کر تے تھے ۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ کبھی ریڈیو کے مشاعرے پر بھی گئے ہو ‘ میں نے کہا کہ مجھے کون بلاتا ہے۔ سو انہوں نے مجھے مشاعرے کا دعوت نامہ بھجوا دیا۔

مشاعرے کا دن آیا تو شہر میں کرفیو تھا۔ دن کے وقت تو کرفیو نہیں ہوتا تھا لیکن شام کو سات بجے کرفیو لگ جاتا تھا۔ رات کو مشاعرہ تھا اور دن کے وقت جگن ناتھ آزاد چندرکانتا کے اس مکان میں مجھ سے ملنے کیلئے آئے اور پوچھا کہ رات کے مشاعرے کیلئے کیا لکھا ہے۔ میں نے جو غزل کہی تھی انہیں دکھادی جس کا مطلع تھا:

تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہا ں جاتے

جو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتے

یہ نجانے کس موڈ میں تھے کہنے لگے ’’ غزل کمزور ہے‘ یہ نہ پڑھو ‘ کوئی اور پڑھو ‘ تمہارا ریڈیو پر پہلا چانس ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم نمایاں ہو جاؤ‘‘ وہ تو کھانا کھا کر چلے گئے لیکن میں اکھڑ گیا۔ میں نے ایک اور غزل کہی جو اچھی نظر آرہی تھی مگر جب پہلی غزل پڑھتا تو وہ زیادہ وزنی نظر آتی تھی۔میں نے دونوں غزلیں ہی ساتھ رکھ لیں۔ کرفیو پاس آچکے تھے اور گاڑی شاعروں کو اکٹھا کر رہی تھی۔ جب یہ گاڑی میرے گھر آئی تو چار پانچ شاعر پہلے سے اس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ دونوں میں سے کونسی غزل اچھی ہے لیکن وہ کوئی حتمی رائے نہ دے سکے۔ ریڈیو سٹیشن پہنچنے تک میں نے سوچا کہ جو پہلے کہی تھی وہی ٹھیک ہے اب جو نصیبوں میں ہو گا۔

اس رات شہر میں کرفیو لگا ہوا تھا ۔ لوگ سینماؤں میں جا نہیں سکتے تھے اور گھر وں میں رہ کر ریڈیو سننے پر مجبور تھے اور یہ میرے لئے خوش قسمتی کی بات تھی۔ اس روز میری یہ غزلیں اتنی جمیں کہ حاصل مشاعرہ بن گئی ۔ میں اس زمانے میں ترنم سے پڑھتا تھا لیکن ظاہر ہے صرف ترنم کی وجہ ہی نہیں تھی بلکہ غزلیں ہی ایسی تھی۔

یہ غزل لوگوں پر ایسی سوار ہوئی کہ اس زمین میں بہت سی غزلیں لکھی گئیں اور فلموں میں بھی اس کے بہت چربے آئے۔ اس مشاعرے سے اگلے روز میں جدھر سے بھی گزرا تو جو واقف بھی ملا اس نے کہا یار کمال کی غزلیں تھی‘ واہ واہ‘ اس غزل نے مجھے لاہور میں Establish کر دیا اور لوگوں میں میری پہچان شروع ہو گئی ۔ رسالوں تک میں پہلے ہی پہنچ چکا تھا اور اب ریڈیو تک بھی پہنچ گیا۔

چندر کانتا

جب یہ معلوم ہو گیا کہ لاہور پاکستان کے حصے میں آیا ہے تو قدرتی طورپر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور غیر مسلموں کو خوف و ہراس نے گھیر لیا۔ فرقہ واریت اورتعصب کا زہر تو تھا ہی‘ جہاں جس کا بس چلتا تھا اپنے مخالف کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتا تھا جس سے افراتفری مچ گئی۔ آبادی کا انخلاء شروع ہو چکا تھا اور اس خوشی کے زمانے میں بھی لاشیں ادھر سے آرہی تھی اور جس بیدردی سے غیر مسلموں کو یہاں مارا جا رہا تھااسے دیکھ کر انسان کا نپ جاتا تھا۔ اب ترازو رکھ کر تو یہ نہیں کیا جا سکتا کہ کدھر زیادہ ظلم ہوا اور کس نے زیادہ ظلم کیا لیکن انسان اس وقت درندہ بنا ہوا تھا اور آزادی کی جو نعمت اس وقت ملی تھی اس کا احساس اس چیخ و پکار میں دب کر رہ گیا تھا۔ ایک حساس آدمی کیلئے اس وقت جینا بہت دشوار تھا۔ اس سارے عرصے کے دوران ہم صرف لکھنے پڑھنے کی حد تک تھے۔ ہم لوگ جو اس سارے قصے میں شامل نہیں تھے زیادہ اذیت میں مبتلا تھے کیونکہ ہمارے کوئی سیاسی یا غیر سیاسی مقاصد بھی نہیں تھے ۔ میں جس مکان میں چندر کانتا کے ساتھ رہتا تھا اس میں کچھ اور لوگ بھی رہتے تھے کیونکہ یہ ہندو پراپرٹی تھی اور چندرکانتا نے اس کا ایک حصہ کرائے پر لیا ہوا تھا ۔ اب کچھ مسلمان یہ مکان خالی کروا کے اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس بات کی پروا کیے بغیر کہ یہاں ایک مسلمان بھی رہتا ہے‘ مکان خالی کرنے کیلئے چیلنج کر دیا تھا۔

ایک دن اچانک دوپہر کو بلوا ہوا اور آگ لگ گئی ۔ باہر کرفیو لگا ہوا تھا اور ہم بڑی مشکل سے جان بچا کر سامنے ایک عیسائی فیملی کے گھر میں پناہ لینے میں کامیاب ہو ئے۔ بعد میں ہم ٹمپل روڈ پر کامیڈین نذر کے گھر منتقل ہو گئے جن سے کچھ راہ و رسم تھے۔

کچھ دنوں بعد جو لوگ بھارت سے آئے ان میں ساحر لدھیانوی ‘ ابراہیم جلیس اور ابن انشا بھی شامل تھے۔ ان سب کے آنے کی خوشی ہوئی اور اس سے پہلے ملاقات نہ ہونے کے باوجود ایسے تھا جیسے برسوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ ساحر کا معاملہ یہ تھا کہ وہ بمبئی میں کمیونسٹ پارٹی اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں سرگرم عمل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کوشش میں تھے کہ فلم انڈسٹری میں Establish ہو جائیں لیکن ہو نہیں پا رہے تھے۔ یہ فلم میں مدہوک کے چھا جانے کا زمانہ تھا اور اس کے بعد ’’انمول گھڑی‘‘ کے گانوں سے تنویر نقوی اوپر آچکے تھے۔ جب ساحر کے کچھ امکانات بنے تو تقسیم ہو گئی۔ ان کی ماں اور نانی لدھیانہ میں اپنے آبائی گھر میں تھیں انہیں اپنے لئے نہیں بلکہ ان کی جان بچانے کیلئے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ جب یہ لدھیانہ پہنچے تو پتا چلا کہ وہ اس مہاجر کیمپ میں ہیں جو پاکستان جائے گا۔ انہوں نے کسی طرح ماں اور نانی کو ساتھ لیا اور لاہور چلے آئے ۔ یہاں آکر یہ پہلے کمیونسٹ پارٹی کے آفس میں ایک اوپر کے کمرے میں ٹھہرے اور ماں کے پاس جوزیورات اور نقدی تھے انہیں بیچ بیچ کر گزر بسر شروع کیا۔

سبھی جانتے ہیں کہ ساحر لدھیانوی لدھیانہ سے ایک ملحقہ گاؤں کے بڑے زمیندار کے بیٹے تھے جن کی ایک رہائش لدھیانہ میں بھی تھی اور جو شادیاں کرنے کے شائق تھے ۔ ساحر کی والدہ ان کی غالباً بارہویں یا تیرھویں بیوی تھیں ۔ وہ شادیاں کرتے تھے اور طلاق دے دیتے تھے۔ ان پڑھ مگر عیاش آدمی تھے ۔ ان کی ماں سے شادی کی اور جب ساحر اڑھائی سال کے تھے تو اسے بھی طلاق دے دی اور بے آسرا کر دیا لیکن ان کی ماں بڑے حوصلے والی عورت تھیں۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مقدمے بازی کرتی رہیں۔ چونکہ دوسری بیویوں سے بھی ساحر کے والد کا ان کے علاوہ اور کوئی بیٹا نہیں تھا اس لئے وہ وقتاً فوقتاً کیس جیتتی تھیں‘ پیسہ حاصل کرتی تھیں اور ساحر کی پرورش کرتی تھیں۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)

مزید : گھنگروٹوٹ گئے