معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر15

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط ...
معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر15

  



ناقابل تسخیر کو مسخر کرنا ایسا کارنامہ تھا جس پر مسرت سے زیادہ حیرت و استعجاب کا اظہار کیا گیا۔ مہاراجہ نے حسب وعدہ غلام پہلوان کو انعامات سے نواز اور غلام پہلوان کو رستم ہند کا خطاب دیا۔

ہندوستان کی تمام ریاستوں میں اس معرکہ آرائی کی خبر ہوئی اور غلام پہلوان کی شہرت خوشبو کی طرح پھیل گئی۔ دیہاتی شاعروں نے اس کی شجاعت اور مہارت کے قصے لکھے۔

رستم ہند کیکر سنگھ جیسے تجربہ کار اور جغادری قسم کے پہلوان کو ایک نوجوان پہلوان سے ہزیمت اٹھا کر کسی پل چین نہیں آرہا تھا۔ادھر بوٹا پہلوان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی تھی۔ اس نے کیکر سنگھ کو غلام پہل،وان سے دوبارہ لڑانے کی تیاری کرائی اور اگلے ہی مہینے دونوں پہلوان ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔یہ کشتی9جون1886ء میں جموں میں ہی ہوئی۔ہزاروں کی تعداد میں مجمع تھا۔کسی فساد کے پیش نظر پولیس اور فوج کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ مہاراجہ کو خبر ہو گئی کہ کیکر سنگھ کی شکست کو ہندوؤں اور سکھوں نے اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا ہے اور وہ ایک مسلمان پہلوان کے خلاف بھرپور نفرت حتیٰ کہ فساد تک کرنے کو تیار ہیں،لہٰذا مہاراجہ نے پولیس اور فوج کو ہر طرح سے الرٹ کر دیا اور سختی سے احکامات دیئے کہ ریاست میں گکسی قسم کا تعصب نہ پھیلے اور غلام پہلوان کو کسی قسمھ کا نقصان نہ پہنچنے پائے اور اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر14  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس کشتی میں دونوں پہلوانوں نے ایک دوسرے کو بہت داؤ لگائے۔یہ کشتی تین گھنٹے تک جاری رہی اور آخر کار غلام پہلوان نے دوسری بار بھی کیکر سنگھ کو پچھاڑ دیا۔غلام پہلوان نے اپنی رستمی کا اعزاز برقرار رکھا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہندوستان کا ایک مہمان پہلوان بن چکا ہے۔ غلام پہلوان کشتی پر کشتی لڑتا رہا اور مقابلے میں آنے والے ہر پہلوان کو گراتا ہوا شہرت اور عظمت کی نئی منزلیں طے کرتا رہا۔

غلام پہلوان سے پے درپے شکست کھانے کے باوجود کیکر سنگھ زخمی اژدھے کی طرح ریاستوں کے پہلوانوں کو للکارتا رہا اور کشتیاں جیتتا رہا۔ اس وقت اس کا سب سے بڑا حریف تھا تو صرف غلام پہلوان۔کیکر سنگھ کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ ضدی اور خود سر تھا،لیکن وقت نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہر دور اپنا اپنا شاہ زور پیدا کرتا ہے شاید اسی مسلمہ حقیقت کا اس نے بھی اعتراف کرلیا تھا اور اپنی بڑبولی عادتوں پر قابو پالیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے حریف کی طاقت کو تسلیم کرنے لگا اور اسے معمولی پہلوان نہ گردانتا۔غلام پہلوان سے دوبارہ شکست کھانے کے بعد جب مہاراجہ پرتاب سنگھ نے اس سے پوچھا۔

’’کیکر سنگھ سچ سچ بتا تو نے غلام پہلوان میں کیا انوکھی بات دیکھی ہے؟‘‘

کیکر سنگھ نے جواب دیا۔’’حضور،غلام پہلوان بڑا تحمل مزاج اور فنکار پہلوان ہے۔چند داؤ ایسے ہیں جن پر اسے کمال حاصل ہے۔میں سمجھتا ہوں بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے ان داؤں میں آجانے سے بچ نہیں سکتا۔‘‘

’’ہم بھی تو ذرا سنیں وہ کون سے داؤں ہیں۔‘‘ مہاراجہ نے دریافت کیا۔

’’مائی باپ،غلام کاکسوٹاٗ دھوبی پٹ اورڈھاک بڑا خطرناک ہوتا ہے۔‘‘

’’اگر تو یہ جان گیا ہے کہ غلام ان داؤں میں ثانی نہیں رکھتا تو پھر تم ان کا توڑ کیوں نہیں کرتے۔‘‘مہاراجہ نے ذرا غصے میں کہا۔’’وہ کیکر سنگھ! ہم نے سوچا تو ہماری ناک ہے۔مگر تم نے دوبار ناک کٹوا کررکھ دی۔تمہیں ہماری لاج رکھنی نہیں آئی۔‘‘

’’حضور اس دنیا میں بڑے سے بڑا شکتی والا پہلوان موجودہ ہے۔کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا۔ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کواس معیار پر کھڑا کرلے کہ کوئی اس کی برابری نہ کر سکے۔‘‘کیکر سنگھ تھوڑاسنبھل کر بولا۔’’مہاراج کی عزت پر میری جان قربان۔میں بہت جلد غلام پہلوان سے اکھاڑہ کروں گا اور اپناگرز واپس لوں گا۔‘‘

کیکر سنگھ نے تو یہ کہہ کرمہاراج کو مطمئن کر دیامگر مہاراجہ کی بے کلی کو قرار نہ آیا۔ اس نے استاد بوٹا رستم ہند کو بلایا اور کہا۔

’’خلیفہ جی اپنے کیکر سنگھ کو کہہ دیں اب لنگوٹ کھول دے۔ اب اس سے نہیں لڑا جائے گا۔‘‘

استاد بوٹا نے اندازہ لگالیا کہ مہاراجہ کے کہنے کامطلب کیا ہے لہٰذا اس نے جھٹ سے کہا۔’’حضور ہمیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ کیکر سنگھ تو خود بڑابے آرامی میں ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ محنت کررہا ہے۔ اگر حضور کے کہنے پر اس نے لنگوٹ کھول دیئے تو اس کا مطلب ہو گاکہ کیکر سنگھ خوفزدہ ہو گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کیکر سنگھ کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرے گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے خلیفہ جی۔ مگر خیال رکھئے کہ اب کیکر سنگھ کو غلام پہلوان کو ہر صورت میں ہرانا ہے۔‘‘مہاراجہ نے اپنا فیصلہ دیا اوراستاد بوٹا نے واپس آکر کیکر سنگھ کو نئیسرے سے زور کرانے شروع کئے۔

اگلے سات آٹھ سال تک کیکر سنگھ نے سوائے غلام پہلوان کے سینکڑوں پہلوانوں سے کشتیاں لڑیں اور جیتیں۔اب وہ ایک بارپھر جوبن پڑ تھا۔مہاراجہ نے کیکر سنگھ کی اٹھان دیکھی تو غلام پہلوان سے تیسری کشتی جوڑی۔ یہ کشتی ٹھیکیدار صوبہ شیر فروش نے 5مارچ1895ء میں شاہدرہ میں کرائی (اس کا احوال گزشتہ اقساط میں لکھا جا چکا ہے)اس کشتی میں کیکر سنگھ اور غلام پہلوان کو برابر چھڑایا گیا۔ دوران کشتی کیکر سنگھ نے نیستی مارتے ہوئے غلام پہلوان کی انگلیاں چیر دی تھیں اور ایک بار تو غلام پہلوان بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا۔

برابر چھوٹ جانے کو بھی کنگر کی فتح سے تعبیر کیاگیا۔ اس کشتی میں کیکر سنگھ جس قدر غضبناک تھا وہ دیکھنے کے لائق تھا۔ کیکر سنگھ نے فرط غضب میں اکھاڑے کے ضابطہ اخلاق کو بھی پس پشت ڈال دیا تھا اورمار ڈھاڑ پر اتر آیا تھا،لیکن غلام پہلوان نے کوئی ناجائز حربہ استعمال نہ کیا بلکہ کیکر سنگھ کی تام وحشتوں کا جواب بڑے تحمل سے دیا اور بڑی مشکل سے اپنے اعزازاور وقار کو سلامت رکھا۔ دیہی شاعروں نے ایک بار پھر اس کشتی پر طبع آزمائی کی اور لوگ ایک عرصے تک اس کشتی کے گیت گاتے رہے۔ خصوصاً شہ شعر تو کیکر سنگھ کے ناجائز حربوں کی خوب ترجمانی کرتا ہے۔

گردن پر رکھا زانو اور الٹی بھری نکال

سر گردانی سے بچ گیا دیکھو کسب کمال

ریفری کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے لیکن شاعر جھوٹ نہیں بول سکتا۔اس شعر سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کیکر سنگھ نے جارحانہ کھیل کھیلا تھا لیکن غلام پہلوان سائنٹیفک اندازمیں کشتی لڑا۔

شاہدرہ کا مقابلہ برابر رہنے سے کیکر سنگھ کے مداحوں کی تو اشک شوئی ہو گئی تھی مگر غلام پہلوان کو اب رستم ہند کہلوانے میں مزہ نہیں آتا تھا۔ اس کشی سے چند دن بعد کا واقعہ ہے۔ غلام پہلوان کی انگلیوں پر پٹی بندھی تھی اور وہ رحمانی، کلو،رحیم بخش گوجرانوالیہ، چونی لالا سیالکوٹی پہلوان اور اکھاڑے کے دوسرے پہلوانوں کے ساتھ زور کررہے تھے۔ اسی دوران علیا پہلوان بھی اندھر آگئے۔ باپ نے بیٹے کو زور و شور سے زور کرتے دیکھا و کہا۔’’غلام پتر دوچار دن ٹھہر جا انگلیاں تو ٹھیک ہو لینے دے۔‘‘

غلام پہلوان نے بے پروائی سے زخمی انگلیوں کو دیکھا اور کہا۔ ’’ابا جی اگر میں ان زخموں کو دیکھنے لگا تو کر بیٹھا پہلوانی۔ آپ فکر نہ کریں مجھے کچھ نہیں ہو گا۔‘‘والد نے جب دیکھاکہ بیٹا آرام کرنے والا نہیں ہے تو خاموش رہے۔اسی شام جب اکھاڑہ دوبارہ رواں ہوا تو غیر معمولی طور پر غلام پہلوان اکھاڑے کے ایک جانب بیٹھے تھے۔ رحمانی اور کلو نے محسوس کیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ دونوں نے قریب جاکر پوچھا۔

’’بھاخیر تو ہے۔ کچھ پریشان لگ رہے ہو۔‘‘

غلام پہلوان نے افسردگی سے دونوں کی طرف دیکھا اور کہا۔’’میرے بھراؤ پریشانی تو ضرور ہے۔ کیا کروں دل میں ایک دکھ سا پلنے لگا ہے۔‘‘

دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پوچھا۔’’بھاجی کس بات کا دکھ ہے؟‘‘

غلام پہلوان نے اپنی زخمی انگلیوں کو سہلاتے ہوئے کہا۔ ’’یار دکھ تو اس بات کا ہے کہ کیکر سنگھ سے مقابلہ برابر چھوٹا ہے۔ اب وہ پہلے والا مزہ نہیں رہا۔جب تک اس کو چت نہیں کروں گا مجھے چین نہیں آئیگا۔‘‘

’’استاد جی یہ بات ہے تو اکھاڑے میں آکر بات کریں۔‘‘چونی لال سیالکوٹی پہلوان نے کہا کہ جو اس دوران تینوں بھائیوں سے باتیں کرتے ہوئے ان کے قریب آگیا تھا۔’’استاد جی!یانے کہتے ہیں کہ جب کسی کے من میں چنتا اور صرف چنتا ڈیرے ڈال لے تو بندہ نکما ہو جاتا ہے۔ اگر لڑنے کی چنتا ہو تو تیاری کرنی چاہئے۔ آپ تو دل چھوٹا کر بیٹھے ہیں۔اس سے صرف آپ کا ہی نہیں ہمارا بھی دل چھوٹاہو گا۔‘‘

غلام پہلوان نے اپنے سیانے شاگرد کی بات سنی اور مسکرا اٹھے۔

’’یار کہتے تو تم ٹھیک ہی ہو۔‘‘ غلام پہلوان نے اکھاڑے میں اترتے ہوئے کہا اور زور شروع کر دیئے۔

غلام پہلوان اپنے عروج کی سیڑھیاں چڑھتے رہے لیکن دل میں کیکر سنگھ کو پچھاڑنے کی حسرت ہر وقت بے چین کئے رکھتی اور جب تک یہ مقابلہ ہو نہیں گیا انہیں چین نہ ملا۔ ایک طویل انتظار کے بعد مہاراجہ اندور نے غلام پہلوان اور کیکر سنگھ کی کشتی طے کرا دی۔ ان دنوں اندور کا راجہ شیو جی راؤ ہلکر تھا۔ وہ مرہٹہ نسل سے تھا۔ راؤ ہلکر دوسرے راجوں،مہاجروں سے منفرد شخص تھا۔وہ ایک فیاض، زندہ دل اور منچلا قسم کا راجہ تھا۔اس کی فیاضی اور زندہ دلی کی داستانیں ہندوستان کی سبھی ریاستوں میں مشہور تھیں۔

(جاری ہے)معروف پہلوانوں کی داستانیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر16پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں