جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر30

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر30
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر30

  



یہ سب کچھ اتنی سُرعت سے ہوا کہ مجھے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔ بال اتنا لمبا ہوگیا تھا کہ میرے پورے جسم کے گرد لپٹ گیا۔ حتیٰ کہ میرے چہرے کے گرد بھی اس کے بل پڑ چکے تھے۔ کمزور سا وہ بال رسے کی طرح مضبوط تھا۔ میں کھڑے کھڑے زمین پر گر گیا۔ سر زمین پر بڑے زور سے ٹکرایا اور میری آنکھوں کے گرد تارے ناچ گئے۔ میں چت زمین پرپڑا تھا۔ سادھو نے آگے بڑھ کر اپنا ننگا پاؤں میرے سینے پر رکھ دیا۔

یوں لگا جیسے کسی نے میرے سینے پر منوں وزنی پتھر رکھ دیا ہو۔ بے اختیار میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ سینے کی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئیں۔ دم بدم میری سانس بند ہوتی جا رہی تھی۔آنکھوں کے گرد اندھیرا اچھا گیا۔ قریب تھا کہ میرا دم نکل جاتا۔ مجھے سادھو کی آواز دور سے آتی سنائی دی۔

’’پدھارئیے دیوی جی! بڑی دیری کر دی آنے میں۔۔۔دیکھ میں نے تیرے پریمی کی کیا دشا(حالت) بنا دی ہے؟ یہ مورکھ کالی داس کی شکتی بارے گلط وچار کر بیٹھا تھا‘‘ اس کے فوراً بعد مجھے رادھا کی آواز سنائی دی۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر29 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مہاپرشوں کو منش سنگ ایسا کرنا شو بھا نہیں دیتا مہاراج! تمری یدھ(جنگ) میرے سنگ ہے اس نردوش کو کس کارن کشٹ دے رہے ہو؟‘‘ میرا ذہن معطل ہو چلا تھا کہ اچانک میرے سینے پر سے بوجھ ہٹ گیا۔ سانس بحال ہوتے ہی میری آنکھوں کے سامنے دم بدم گہرا ہوتا اندھیرا چھٹنے لگا۔

’’نردوش۔۔۔یہ تو کیا کہہ رہی ہے؟ اس پاپی نے میرے چیلے کی ہتھیا کر دی اور تو اسے نردوش کہہ رہی ہے؟‘‘ کالی داس کی حیرت میں ڈوبی آواز آئی۔

’’مہاراج! اس نے تمہیں بتایا تو ہے کہ امر کمار کی ہتھیا میں نے کی ہے اور تم تو کھد اتنے شکتی مان ہو تم سے کون سی بات چھپی ہے؟‘‘ میرے سر کی طرف سے رادھا کی ٹھہری ہوئی آواز ہوئی۔ میں نے سر گھما کر اس کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تب مجھ پر حقیقت کھلی کی میں اپنے جسم کو حرکت دینے کے قابل نہیں ہوں۔ سادھو امر کمار نے بھی میرے جسم کو یونہی بے حس و حرکت کر دیا تھا۔ میں سن سکتا تھا دیکھ سکتا تھا اس کے علاوہ میرا جسم کچھ کرنے کے قابل نہ تھا۔

’’دیکھ دیوی! میں جانتا ہوں تو ہمرے دھرم کی ایک مہان ناری ہے پرنتو تجھے شوبھا نہیں دیتا کہ تو ایک مسلے کے کارن مہاپرشوں کے آڑے آئے۔ میں اب بھی تجھے شما کر سکتا ہوں۔ یدی تو کھد میرے چرنوں میں آجا۔ رہی بات اس مسلے کی۔۔۔تو اس حرام کے جنے کی تو اب میں کالی کے چرنو میں بلی چڑھاؤں گا۔ کالی کتنی پرسن (خوش) ہوگی اس کی زت سے اشنان(خون سے غسل) کرکے ’’کالی داس کے مکروہ ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ وہ چونکہ بالکل میرے سر پر کھڑا تھا اس لئے میں اسے دیکھ سکتا تھا۔ جبکہ رادھا کی آواز میرے سر کی طرف سے آرہی تھی۔ آواز تو اس کی ہماری خوابگاہ میں بھی سنائی دی تھی لیکن وہ نظروں سے اوجھل تھی پرکالی داس میرے سر کے اوپر دیکھ کر بات کر رہا تھا۔ رادھا اس کو نظر آرہی تھی ۔۔۔؟ میں یہ بات نہ جان سکا۔

’’میں جانتی ہوں ورشوں تو نے بھگتی کرکے کالی کے ہردے(سینے) میں استھان(جگہ) بنا لیا ہے پرنتو۔۔۔اس سنسار میں کیول کالی ماتا کی شکتی تو نہیں ہے۔ دیوی دیوتاؤں کے اور بھگت بھی تو بستے ہیں اس سنار میں۔۔۔تو جانتا ہے پہلے بھی ایک بار میرا موہن مجھ سے دور کر دیا گیا تھا ‘‘ رادھا نے اسے بڑے رسان سے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’دیوی! تو جانتی ہے جس نے تجھ سے تیرا پریمی چھینا وہ پاپی بھی ایک مسلا تھا۔۔۔پھربھی تو اس مسلے کی سہائتا کرنے پر تیار ہے۔ کیا تجھے شو بھا دیتا ہے کہ تو دوجے دھرم کے منش سنگ اپنے شریر کا سمبندھ جوڑے؟ یہ گھور پاپ ہے دیوی‘‘ کالی داس کے لہجے میں ہمارے مذہب کے لئے نفرت بھری ہوئی تھی۔

’’مہاراج! تم اس بات کوجانے دو۔ میں کیا کر رہی ہوں اور مجھے کیا شو بھا دیتا ہے؟ میں اس سمے تم سے اپدیش (نصیحت) سننے نہیں آئی۔ اس کو چھوڑ کر مجھ پر اپکار(احسان) کر دو‘‘ رادھا نے ایک بار پھر کالی داس کو سمجھایا۔ میں سخت اذیت میں تھا۔ سارا جسم سن ہو چکا تھا۔ زخموں سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ میں اس بات پر حیران تھا کہ رادھا نے سدھو امر کمار کو تو ایک پل میں ادھیڑ کر رکھ دیا تھا لیکن کالی داس کی وہ نصیحتیں کر رہی تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا وہ اس بدبخت کالی داس کا بھی وہی حشر کرے۔

’’دیوی! تو جانتی ہے میں اپنے من میں تجھے پراپت کرنے کی ٹھانے بیٹھا ہوں۔ کچھ ہی سمے بعد تو میرے چرنوں میں ہوگی۔ رہی اس مسلے کی بات تومیں تجھ سے کہہ چکا ہوں کہ میں کالی ماتا کو اس کی بھینٹ دے کر اس سے بنتی کروں گا کہ وہ امر کمار کی آتما کو کسی دوجے منش کے شریر میں ڈال کر مجھے دان کر دے۔ تو نہیں جانتی امر کمار میرا کھاص(خاص) سیوک تھا۔ کالی ماتا نے مجھے وچن دیا تھا کہ وہ تجھے میرے چیلے امر کمار کو دان کرے گی۔۔۔‘‘ اس نے ایک نفرت بھری نظر مجھ پر ڈالی۔ ’’دیوی ! اب بھی سمے ہے تو اس مسلے کو چھوڑ کر میرے چرنوں میں آجا۔ میں کالی سے تیرے لئے شما مانگ لوں گا۔ مجھے وشواس ہے کالی اپنے اس سیوک کا کہنا نہیں ٹالے گی‘‘ وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔

’’پاپ اور پن کی باتیں چھوڑو کالی داس! کس نے پاپ کیا اور کس نے پنے؟ یہ بات دیوتا جانتے ہیں۔ تو نے اس نرودوش کی کومل پتری سنگ انیائے کیا ہے اس نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟‘‘

رادھا کی بات سن کر مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ میں اب تک یہ سمجھ رہا تھا کہ مومنہ کی گمشدگی میں رادھا ملوث ہے لیکن اب مجھے پتا چلا کہ اس لعنتی ڈھانچے نے میری معصوم بیٹی کو اغوا کیا ہے۔ میرے جسم میں آگ بھر گئی۔ اگر میں بندھا ہوا نہ ہوتا تو اس بوڑھے کی گردن دبا دیتا۔ میں نے کسمسانے کی کوشش کی لیکن بال برابر بھی جسم کو حرکت نہ دے سکا۔

’’دیوی! مجھے مجبور نہ کرکہ میں تجھے بتاؤں تو اس سمے کس کے سامنے کھڑی ہے؟‘‘ کالی داس غضب ناک آواز میں دھاڑا۔

’’کالی داس! میں تجھ سے بنتی کرتی ہوں کہ تو میرے موہن کو شما کر دے۔ اسے جانے دے میری تجھ سے کوئی یدھ نہیں‘‘ رادھا نے اس بار بھی اسے متانت سے سمجھایا۔

’’دیوی! ایک مسلے سے سمبندھ جوڑتے تجھے لاج نہیں آتی۔ تو تو اپنا دھرم نشٹ کرنے پر تلی بیٹھی ہے پرنتو میں تجھے ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ اس مسلے کا بلیدان تو کالی کے چرنوں میں اوش ہوگا‘‘ کالی داس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔

’’کالی داس تو نے اب تک کتنی مسلمان ناریوں کا بلات کار کیا ہے تجھے اس سمے لاج آئی تھی؟‘‘

رادھا کی تلخ آواز میرے کانوں میں پڑی۔ ان دونوں کی بحث میں میں وقتی طور پر اپنی تکلیف بھول گیا تھا۔

’’پاپن! تو کالی داس کو اپدیش دینے چلی ہے۔ یدی مجھے کالی ماتا کو دیے وچن کا دھیان نہ ہوتا تو اس ملیچھ سنگ تجھے بھی بھسم کر دیتا ‘‘ کالی داس کسی زخمی درندے کی طرح دھاڑا۔

’’کالی داس! تیرا۔۔۔انت(انجام) تیرے چیلے سے بھی برا ہوگا‘‘ رادھا کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

’’موہن اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ‘‘ اب رادھا مجھ سے مخاطب تھی۔ میں سوچ رہا تھا اسے کیسے بتاؤں کہ اس خبیث نے مجھے کسی شیطانی قوت سے باندھ کر بے دست و پا کر رکھا ہے۔

’’پریمی! میں کہہ رہی ہوں ادھر آجاؤ میرے پاس‘‘ رادھا نے اس بار بڑے پیار سے مجھے کہا۔ میں نے اپنے جسم کو حرکت دینے کی کوشش کی لیکن نتیجہ حسب سابق رہا۔

’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا‘‘ کمرہ کالی داس کے گرجدار قہقہے سے گونج اٹھا۔‘‘ کیا تو نے مجھے امر کمار سمجھ رکھا ہے دیوی؟‘‘ اس تمسخر سے بھرپور آواز آئی۔

اچانک میرے جسم پر دودھیا روشنی کا ہالہ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی میرا جسم جکڑ بندیوں سے آزاد ہوگیا۔ میں اپنے شل جسم کو حرکت دے کر اٹھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ کالی داس نے غصے سے اپنا ہاتھ میری طرف کرکے جھٹک دیا۔ میں جو کوشش کرکے اٹھ بیٹھنے میں کامیاب ہوچکا تھا ایک بار پھر زمین پر گر پڑا۔

’’کالی داس میں تجھے ایک اوسر(موقع) دیتی ہوں اب بھی باز آجا نہیں تو۔۔۔تو جیون بھکشا مانگے گا اور میں تجھے شما نہ کروں گی‘‘ رادھا کی دھاڑ کمرے میں گونجی۔

’’پاپن! تو کالی داس کے آڑے آرہی ہے۔ ماتاکی سوگندیدی مجھے اپنے وچن کا دھیان نہ ہوتا تو میں تجھے ابھی نرکھ میں پہنچا دیتا۔‘‘ کالی داس جواباً غرایا۔

اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پھوار پڑی ہو۔ اس کے ساتھ میرا جسم جکڑ بندیوں سے آزاد ہوگیا۔ اس بار میں نے بھی پھرتی دکھائی اور کھڑا ہوگیا۔ اٹھتے ہی میں نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا۔۔۔ نظر اٹھی تو جھکنا بھول گئی۔

میرے بالکل پیچھے ایک نہایت حسین عورت سارھی باندھے کھڑی تھی۔ وہ اس قدر حسین تھی کہ الفاظ اس کے حسن کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ چمپا اور شکنتلا تو اس کی کنیزیں بننے کے قابل بھی نہ تھیں۔ وہ حسن ایک شاہکار تھی میں نے اپنی زندگی میں اس قدر حسین عورت نہ دیکھی تھی۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر مدہر مسکراہٹ اس کے نرم و نازک ہونٹوں پر چھا گئی۔ موتیوں جیسے دانت گلاب کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے جھانکنے لگے۔ بڑی بڑی جھیل سی گہری آنکھیں جن میں پیار کا سمندر ہلکورے لے رہا تھا ’’میرے میت! میں تم سے شما چاہتی ہوں مجھے آنے میں تھوڑی دیری ہوئی۔ اس پاپی نے تمری کومل پتری کو بندی بنا لیا تھا جس کی رکھشا اس کے پلید بیر(شیطان کے پیرو کار جنات) کر رہے تھے۔ یدی میں اسے اپنے سنگ لانے میں سپھل نہ ہو سکی پرنتو ایسا پر بند کر آئی ہوں کہ یہ پاپی اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ پائے گا‘‘ اس کی جھرنوں جیسی آواز میں معذرت تھی۔ میں جو اس کے حسن کو دیکھ کر گنگ کھڑا تھا۔ اس کی آواز مجھے حقیقت کی دنیا میں کھینچ لائی۔ مومنہ کی بات سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

’’دھیرج پریتم! اس پاپی کا سروناش کرکے میں تمری پتری کو تمرے پاس کھد لاؤں گی‘‘ اس نے میرے چہرے پر غصہ دیکھ کر مجھے تسلی دی۔ اس کے بعد وہ کالی داس سے مخاطب ہوئی۔

’’کالی داس! اب بھی سمے ہے واپس اپنے استھان پر لوٹ جا۔ تجھے یہ شو بھا نہیں دیتا کہ اپنے مورکھ چیلے کے کارکن کسی کو کشٹ دے۔ وہ دوشی تھا جو کچھ اس نے کیا اس کا بدلہ اسے مل گیا۔ مجھے بھی کالی ماتا کا دھیان ہے میں نہیں چاہتی میرے ہاتھوں ایک اور ہتھیا ہو‘‘ رادھا نے ایک بار پھر کالی داس کو سمجھایا۔

’’رادھا! اس حرام زادے نے میری معصوم بیٹی کو اغوا کیا۔ مجھ پر تشدد کرایا اور تم اسے جانے کی اجازت دے رہی ہو؟‘‘ میں نے تلخ لہجے میں رادھا کو مخاطب کیا۔

’’جانتی ہوں پریتم! پرنتو کسی مہاپرش سنگ یدھ اچھی نہیں اسی کارن میں اسے جانے کی آگیا دے رہی ہوں‘‘ رادھا نے ملائمت سے مجھے سمجھایا۔ وہ باد صبا کے جھونکے کی طرح چلتی میرے قریب آگئی تھی میرے اردگرد گلاب کی مہک چھا گئی۔ میں نے کالی داسکی طرف نفرت سے دیکھا وہ اپنے ہونٹ کاٹ رہا تھا۔ جیسے کسی الجھن کا شکار ہو۔

’’دیوی ! میں بھی کھدکے اور تیرے بیچ یدھ نہیں چاہتا، پرنتو تجھے اس ملیچھ کو لے جانے کی آگیا نہیں دے سکتا۔اس نے میرے چیلے کی ہتھیا کرکے گھور پاپ کیا ہے۔ میں نے کالی ماتا کو وچن دیا ہے اس دھشٹ کی بلی میں اس کے پوتر(پاک) چرنوں پراوش چڑھاؤں گا‘‘ وہ جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر بولا۔

’’کالی داس مجھے مجبور نہ کر۔ ایسا نہ ہو میں اپنا وچن بھول کر تجھے کوئی شراپ دے بیٹھوں۔ اتنا ہی بہت ہے کہ میں تجھے جانے کی آگیا دے رہی ہوں ورنہ جو کچھ تو نے میرے پریمی سنگ کیا ہے وہ بھولنے والی بات نہ ہے‘‘ رادھا نے اسے گھورا۔ کالی داس نے جواب دینے کے بجائے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے بھدے ہونٹ متحرک ہوگئے۔

کالی داس ! مورکھتا(حماقت) نہ کر۔۔۔بند کر دے اپنا یہ کھلواڑ نہیں تو۔۔۔؟‘‘ رادھا گرجی۔

کالی داس آنکھیں بند کیے اپنی پڑھائی میں مصروف رہا۔ رادھا کی حسین آنکھوں سے الجھن کا اظہار ہو رہا تھا۔ میرا ہاتھ ابھی تک اس کے کومل ہاتھوں میں تھا۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے دودھیا روشنی کی دھار نکل کر میرے جسم پر پڑی۔ مجھے ایک بار پھر محسوس ہوا جیسے کسی نے معطر پانی کی باریک پھورا میرے جسم پر ڈال دی ہو۔

(جاری ہے)جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔۔۔ قسط نمبر31 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا


loading...