پاناما میں سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں تحریک انصاف کی نہیں، اقتصادی ترقی کو سبوتاژ کرنے کیلئے ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جارہا ہے:مولانا فضل الرحمن

پاناما میں سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں تحریک انصاف کی نہیں، ...
پاناما میں سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں تحریک انصاف کی نہیں، اقتصادی ترقی کو سبوتاژ کرنے کیلئے ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جارہا ہے:مولانا فضل الرحمن

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے معاملے میں ہمیں عدالت سے انصاف کی توقع ہے، تحریک انصاف کی نہیں، پاکستان کی سیاست تقسیم ہورہی ہے, ایک جانب سی پیک کی حامی جماعتیں ہیں اور دوسری جانب سی پیک مخالف جماعتیں،پاناما کیس کو پاکستان کی اقتصادی و معاشی ترقی روکنے کے لئے استعمال کیاجارہاہے، اس معاملہ کا کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کو مستقبل میں تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے دینی جماعتوں کا اتحاد چاہتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کو فریق نہیں سمجھتا وہ ریاستی ادارہ ہے،سی پیک کو کامیاب بنانے کیلئے فوج کی طرف سے ضمانت بڑے حوصلے کی بات ہے،یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ میں کسی کو بچارہا ہوں یایہاں ملک کو بچا رہا ہوں۔

نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق جمعیت علمائے پاکستان کے جنرل سیکرٹری شاہ اویس احمد نورانی کی رہائش گاہ پر دینی جماعتوں کے اتحاد کے سلسلے میں مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں  4 سال سے کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا ، پاناما کی وجہ سے کاروباری طبقہ ملک سے باہر جا رہا ہے ،ہم جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں ،ہمیں ایک پالیسی بنا کر آگے بڑھنا چاہئے،میں پاکستان کا ایک سیاسی کارکن ہوں ، مجھے تجربہ بھی ہے اور میں ملکی حالات کو عالمی تناظر میں دیکھتا اور اسی تناظر میں سیاسی فیصلے کرتا ہوں ، یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ میں کسی کو بچارہا ہوں یا ملک بچا رہا ہوں، دنیا تقسیم کی طرف جارہی ہے، اس کو گریٹ گیم کے نام سے جانا جارہا ہے، پاکستان نے اپنے مستقبل کا اشارہ دیدیا ہے،بھارت اور امریکا ایک دوسرے کے قریب ہوگئے ہیں اور ایک دوسرے کو دوست کہہ رہے ہیں، ان کی کوشش ہے کہ چین کی اس پرواز کو روکا جائے، پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہورہا ہے ،پہلے پاکستان دیوالیہ ہورہا تھا ،عالمی طور پر کہا جارہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ معاشی اقتصادی تعاون نہ کیا جائے ،پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمودریکارڈ سطح پر آگئی ہے، اس اقتصادی ترقی کو سبوتاژ کرنے کیلئے ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جارہا ہے، کبھی دہشت گردی کے ذریعے کبھی معاشی اور سیاسی بحران کے ذریعے عدم استحکام پید ا کیا جا تا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ستر سالہ دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوگئی ہے ، پاکستان نے نئے مستقبل کا تعین کیا ہے جس میں پاکستان ، چین ، روس اور ترکی ایک دوسرے کے قریب آچکے ہیں ،دنیا میں امریکا اور مغرب کے مقابلے میں چین متبادل معاشی قوت کے طور پر ابھرا ہے، آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ امریکی سربراہ نے چین کو براہ راست دھمکیاں دیں کہ وہ اپنی حدود میں رہے ورنہ نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے، چین کا اقتصادی طور پرپہلا پڑاؤپاکستان ہے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ کرپشن کی کہانیاں اور خبریں میڈیا پر ہمیشہ اقدار میں رہنے والی جماعت کے خلاف آتی ہیں ،جب پی پی پی کی حکومت تھی آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو خبر بنایا گیا اور جب وہ اقتدار میں نہیں تو ان کے کیس بھی میڈیا پر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ آئینی ماہرین سے رابطہ ہوا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل ا نتظامی معاملہ تھا، یہ فیصلہ آئینی ماہرین کریں گے، عدلیہ نے انتظامی معاملات استعمال کئے یا نہیں؟ نیب کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں، اٹھارویں ترمیم منظور ہونے کے وقت مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں سے کہا تھا کہ احتساب کے معاملے کو بھی اس میں شامل کیاجائے لیکن میری بات نہیں مانی گئی۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ سید خورشید شاہ کاتعلق سادات خاندان سے ہے ،انہیں حقائق تسلیم کرنے چاہیں ،یہ کیسے ممکن ہے جمہوریت کو ڈبونے والے جمہوریت کو بچائیں ؟وہ ان جماعتوں کے ساتھ کھڑے رہیں ؟ وہ کس طرح جمہوریت کو بچائیں گے ؟میں شاہ صاحب کیلئے یہ کہوں گا کہ ’’ہم مدینہ مزاج لوگوں کی۔ زندگی کٹ رہی ہے کوفے میں‘‘۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کو مستقبل میں تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے دینی جماعتوں کا اتحاد چاہتے ہیں، جس کا مقصد مستقبل کے عالمی تناظر میں پاکستان کا استحکام اور پاکستان کو معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط کرنا ہے، اس کے لئے ہم سابقہ ایم ایم اے کی جماعتوں سے رابطے میں ہیں، جس کا ہمیں مثبت جواب ملا ہے اس سے اتحاد کو ہم مزید وسعت دیں گے جس کے لئے سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین عبدالغفور حیدری کی سربراہی ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو سیاسی جماعتوں سے رابطے کررہی ہے، ہم نے باوجود اس کے کہ جماعت اسلامی نے ساڑھے چار سال تک پی ٹی آئی جیسی جماعت کے ساتھ اتحاد رکھا اور حکومت میں رہی، رابطہ نہیں توڑا اور تمام تر شکایات اور تحفظات کے باوجود ہم نے وسعت قلبی سے جماعت اسلامی سے رابطے رکھے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کو فریق نہیں سمجھتا ،وہ ریاستی ادارہ ہے، ہم اس بات کی کوششیں کررہے ہیں کہ ادارے غیر جانبدار رہیں اور انہیں فریق نہ بناتے ہوئے سی پیک کو کامیاب بنایا جائے، سی پیک کو کامیاب بنانے کیلئے فوج کی طرف سے ضمانت بڑے حوصلے کی بات ہے اور یہ ضمانت اس وقت کامیاب رہے گی جب قوم فوج کی پشت پر ہو،افواج قوموں کے تعاون اور پشت پناہی سے لڑ اکرتی ہیں، قوم اور فوج کو ایک پیج پر ہونا چاہئے ،سی پیک کیلئے فوج کی ضمانت پر قوم کو فخر ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں