جزاوسزا کی بنیاد

جزاوسزا کی بنیاد
جزاوسزا کی بنیاد

  



قرآن مجید اس سوال کا ایک متعین جواب دیتا ہے۔ وہ یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو اس ڈھنگ پر تخلیق کیا ہے کہ لوح دل پر فطرت کے قلم سے خیر و شر کی پوری لغت ثبت کر کے ہی انسان کو اس دنیا میں بھیجا جاتا ہے ، (الشمس8:)۔انسان دل کے آئینے پر حرص و ہوس کا زنگ چڑ ھالے تو دوسری بات ہے وگرنہ اپنے اچھے برے روپ کی واضح تصویر وہ جب چاہے اس آئینے میں دیکھ سکتا ہے۔

بات صرف اسی فطری ہدایت تک محدود نہیں جو خیر و شر کا واضح تصور انسان کو دیتی ہے بلکہ وجود انسانی میں نفس ملامت گیر یا ضمیر کی شکل میں وہ جج اور قاضی بٹھادیا گیا ہے جو ہر خیر پر اسے شاباش دیتا ہے اور ہر برائی کے ارتکاب پر اسے کچوکے لگاتا ہے ، (القیامہ:2)۔ خیر و شر کا تصور اور ضمیر کی عدالت اتنی طاقتور چیزہے کہ اسی نے انسانی سماج کو عدالت ، پولیس اور کچہری کا تصور عطا کیا ہے۔ انسان اسی کی بنیاد پر چاہتے ہیں کہ معاشرے میں اگر کوئی کسی پر ظلم کرے تو اس ظلم کا بدلہ لیا جائے۔ظالم کو سزا ملے اور مظلوم کو انصاف دلایا جائے۔

ٹھیک اسی اصول کی روشنی میں انسان اپنے معاشروں میں جزا کا ایک نظام قائم کرتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کو بڑ ا جرم سمجھا جاتا ہے۔ مزدور کو مزدوری دی جاتی ہے اور اسے احسان نہیں سمجھا جاتا۔ ملازم کی تنخواہ اس کا ناقابل انکار حق سمجھا جاتا ہے۔زندگی کے مختلف شعبوں میں کا رہائے نمایاں سر انجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔سزا کی طرح جزا کے اس اصول کو بھی دنیا کے تمام معاشرے ہمیشہ مانتے رہے ہیں۔

سزا و جزا کا یہ نظام جو فطرت میں موجود خیر و شر کے تصور اور ضمیر کی عدالت سے اٹھتا ہے ، معاشرے میں ہر جگہ اپنی حیثیت منواتا ہے۔ تاہم ایک اور ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں مکمل انصاف ملنا اکثر حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔ ایک شخص اگر دس انسانوں کو مارڈالے تو زیادہ سے زیادہ اس کی جان ایک دفعہ لی جا سکتی ہے۔ مگر دس جانوں کا بدلہ ایک جان کبھی نہیں ہو سکتی۔ بات دس جانوں ہی کی نہیں بلکہ دس خاندانوں کی بربادی کی ہوتی ہے۔ اس کا حساب کیسے ممکن ہے۔

اسی طرح ایک شخص جو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے اپنی جان قربان کر دے۔ اپنی جان دے کر کئی اور قیمتی جانیں بچالے۔ کوئی اعزاز، کوئی ایوارڈ اور کوئی انعام اس کا بدلہ نہیں ہو سکتا۔ انسانی دنیا کی یہی محدودیت پکار پکار کر اعلان کرتی ہے کہ حتمی اور کامل سزا وجزا کا ایک دن ضرور آئے گا۔جس طرح ضمیر اور اس کی طرف سے دی گئی فطری سزا وجزا کا انکار کوئی صاحب ہوش نہیں کرسکتا، ٹھیک اسی طرح قیامت کے دن کے حتمی انصاف کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔ جس طرح انسانی عدالتوں کا اخلاقی جواز اور ضرورت ناقابل تردید ہے اسی طرح اس آنے والے فیصلے کے دن کا ہونا یقینی ہے۔

یوم آخرت کا یہ دن رسولوں کے مخاطبین کی سزا جزا کا بھی حتمی دن ہو گا اور اسی طرح ان لوگوں کی پکڑ اور ثواب کا بھی دن ہو گاجن تک رسولوں کی دعوت نہیں پہنچی۔ ان کا فیصلہ فطرت انسانی میں موجود ان حقائق کی بنیاد پر ہو گا جن کی بنیاد پر ان کا ضمیر ساری زندگی سزا وجزاپرمتنبہ کرتا رہا۔ مگر وہ اپنے ضمیر کو دھوکہ دیتے رہے۔وہ حرص و ہوس کے اسیر رہے۔ خواہش وتعصب کی پیروی کرتے رہے۔نفرت اور مفاد کی زندگی جیتے رہے۔

ایسے تما م لوگوں پر ان کی فطرت ہی گواہی بن جائے گی۔کیونکہ ہدایت کی جو روشنی تفصیل اور جزئیات میں رسولوں کے پاس تھی ، وہ کلیات اور اجمال کی حد تک ان کی فطرت میں بھی تھی۔ انہیں اس کی روشنی میں اپنے اعمال کا جواب دینا ہو گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ