قبائیلی علاقوں میں تباہ حال تعلیمی نظام

قبائیلی علاقوں میں تباہ حال تعلیمی نظام
قبائیلی علاقوں میں تباہ حال تعلیمی نظام

  



محکمہ تعلیم فاٹا کے مطابق پچھلے کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے کیخلاف جنگ میں سات ایجنسیوں اور چھ فرنٹئر ریجن میں 555 تعلیمی ادارے مکمل جبکہ 491کوجزوی نقصان پہنچا ہے۔ ادارے کے مطابق سب سے زیادہ تعلیمی ادارے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں تباہ ہوئے جس کی تعداد204 ہیں، خیبرایجنسی میں 180 جبکہ اورکزئی ایجنسی 149ادروں کو نقصان پہنچاہے۔

مہمند ایجنسی کے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ ایجنسی میں 127تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے تھے، جن میں اب 75اداروں کے بحالی یا دوبارہ تعمیرکا کا م جاری ہے۔مومند ایجنسی میں سرکاری تعلیمی اداروں میں سترہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور وہی ادارے بھی زیراستعمال ہے جو تباہ شدہ ہے۔

ایجنسی ایجوکیشن افیسرخائستہ رحمان کے مطابق اپریل 2016میں فاٹا سیکریٹریٹ کو سترہزار بچوں کو کتابیں فراہم کرنے کے لئے خط ارسال کردیا گیا تھا لیکن اب تک انتیس ہزار بچوں کے پاس ایک کتاب بھی نہیں جبکہ اکتالیس ہزاربچوں کے پاس ایک یا دوکتابیں ہیں۔

محکمہ تعلیم فاٹا کے ڈپٹی ڈائریکٹرمحمدشعیب کا کہنا ہے کہ قبائیلی علاقوں میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جس کے تحت پہلے وہاں پر ٹینٹ میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جاتی ہیں اور اس کے بعد وہاں پر مکمل تباہ یا جزوی نقصان شدہ عمارتوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام قبائیلی علاقوں میں 1195تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچاتھا جس میں 892پر کام جاری ہے جبکہ باقی303 ادروں پر اس سال کے آخر میں کام شروع کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں محمدشعیب نے بتایا کہ آنے والے تعلیمی سال کے لئے کتابیں مانگ لی گئی ہیں اور تعداد کے مطابق خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کو ارڈردیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا سے لوگوں کی نقل مکانی اور اپنے علاقوں کو واپسی کے عمل کی وجہ سے چند علاقوں میں کتابوں کی کمی کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے لیکن سکرٹیریٹ سطح پر ایک نظام موجود ہے کہ جہاں پر بھی کتابوں کی اضافی ضرورت پڑجاتی ہے تو وہاں پر مانگ کے مطابق کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔

تحصیل باڑ ہ میں 27تعلیمی ادارے ایسے جس کے بحالی پر اب تک کام شروع نہ ہوسکا ان میں ایک گورنمٹ ہائی سکول عالم گودر ہے،جہاں گرمی سے بچاؤ کے لئے کلاس فور ملازمین اْن چار خیموں کی مرمت کررہے ہیں جس میں نئے تعلیمی سال کی سرگرمیاں شروع کرسکے۔ سکول کے پرنسپل جانس خان آفریدی نے بتا یا کہ سکول میں 150تک بچے پڑھنے کے لئے آتے ہیں جبکہ یہ تعداد 2009میں 1400تک تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پر پورا سکول خیموں میں چلایاجا رہا ہے جس میں گرمی گزارہ ممکن ہے اور نہ سردی میں کیونکہ یہاں پر بجلی اور پانی کاکوئی بندوست موجود نہیں۔

فاٹا میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کے بحالی کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی بار اْن کے علاقے کے سکول کے سروے ہو چکا ہے لیکن اس کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔فاٹا میں تعلیمی شرح میں اضافہ کے لئے رواں سال داخلہ مہم میں دو لاکھ بچوں کو سکول میں داخل کرانے کا حدف مقرر کیا گیا تھا جو کہ پہلے مرحلہ8اپریل سے 30مئی تک تھا جبکہ دوسرا مرحلہ 15آگست سے 30اکتوبر تک ہوگا۔ محکمہ تعلیم فاٹا کے مطابق پچھلے سال ایک لاکھ ساتیس ہزاربچوں کوسکول میں داخل کیا گیا۔ محمدشعیب کے مطابق رواں سال داخلہ مہم کوکامیاب بنانے کے لئے کے لئے مختلف سطح پرکوششیں کی گئی ہے جسمیں محکمہ تعلیم کے اہلکاروں سے لیکر مقامی انتظامیہ، سیکورٹی فورسز، علاقے کے علماء کرام، میڈیااور علاقے کے عمائدین کے پھر پور تعاون حاصل ہے۔

انھوں نے کہا اْن علاقوں پر زیادہ توجہ دیا گیا جہاں پر کئی سالوں بعد لوگوں کی واپسی ہوئی ہوں، ان میں خیبر، اورکزئی، کرْم، شمالی اورجنوبی وزیرستان شامل ہے۔

جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں میں لوگوں کی واپسی کا عمل کافی حد تک مکمل ہوچکا ہے لیکن اب بھی کچھ لوگوں کی واپسی کا ہوناباقی ہے اپنے علاقے سے باہر زندگی گزار رہے ہیں۔ عابد محسود جوخود ڈیرہ اسماعیل خان میں رہائش پزیر لیکن خاندان کے کچھ لوگ اپنے آبائی علاقے کو کئی سال بعد واپس جا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا حکومت کی طرف سے اْن علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گئی جس کو سیکورٹی فورسزنے کلیئر قرار دئیے گئے ہے لیکن وہاں پر ضروریات زندگی کی کمی اور آنے جانے میں کافی مسائل کی وجہ سے بہت کم لوگ واپس اپنے علاقوں میں جاچکے ہیں۔انھوں نے کہا ہمارے علاقے کے بچوں کی تعلیم باہر علاقوں میں جاری ہیں اس لئے وہاں پر سرکاری سکولوں میں تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خیبر ایجنسی تحصیل باڑہ میں چین کے مدد سے 68سکولوں کے تعمیر کا ایک معاہدہ حکومت پاکستان کے ساتھ ہوا ہے جسکے تحت 1628ملین روپے خرچ کیا جائے گا، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود بھی اْس منصوبے پر کام شروع نہ ہوسکا۔ محکمہ تعلیم فاٹا کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور تمام محکمانہ کارروائیاں مکمل ہو گئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جلد ا س پر ٹینڈر کے اشتہار اخبارات میں جاری کیا جائے گا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق قبائیلی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم تین فیصد ہے جو کہ پچھلے سالوں کے نسبت انتہائی کم ہے۔ اس تناظر میں محمدشعیب نے بتایا کہ فاٹا میں قبائیلی روایات میں جب بچی پانچویں جماعت تک پہنچ جاتی ہے تو گھر والے اْس پر پاپندی عائد کرکے گھر میں بیٹھا لیتے ہیں۔ انھوں نے عالمی ادارہ خوراک کے تعاون سے ایک پروگرام شروع کررہے ہیں کہ چھٹی جسے لیکر دسویں جماعت تک لڑکیوں کو ایک ہزار وظفیہ دیا جائے گا تاکہ وہ باآسانی کے ساتھ سکول تک پہنچ سکے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ