سب سے طاقتور عرب خاندان نے جرمنی سے ایک ہی جھٹکے میں 100 کلو سونا چرالیا، یہ خاندان کونسا ہے؟ جان کر آپ کو یقین نہ آئے گا

سب سے طاقتور عرب خاندان نے جرمنی سے ایک ہی جھٹکے میں 100 کلو سونا چرالیا، یہ ...
سب سے طاقتور عرب خاندان نے جرمنی سے ایک ہی جھٹکے میں 100 کلو سونا چرالیا، یہ خاندان کونسا ہے؟ جان کر آپ کو یقین نہ آئے گا

  



برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی میں ایک لبنانی خاندان نے عجائب گھر سے 100کلوگرام سونا چوری کر لیا ہے اور جرمن پولیس اس سونے کو برآمد کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ یہ ایک ایسا طاقتور خاندان ہے جس کے متعلق جان کر کسی کو بھی یقین نہیں آئے گا۔ جرمن ٹی وی نیٹ ورک ’ڈوش ویلے‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ لبنانی خاندان 1970-80ءکی دہائیوں میں پناہ گزین بن کر جرمنی آیا تھا اورتب سے منظم جرائم میں ملوث پایا جا رہا ہے۔ اس نے آج تک کئی کروڑوں ڈالر کی چوریاں کی ہیں اور ڈاکے ڈالے ہیں لیکن آج تک جرمن پولیس ایک بار بھی مال مسروقہ برآمد نہیں کر سکی۔یہ خاندان جرمن میڈیا میں ’فیملی آر‘ (Family R)کے نام سے مشہور ہے تاہم اس کے افراد کی خاطرخواہ شناخت ممکن نہیں۔

جہاز کی لینڈنگ کے بعد ائیرہوسٹس ٹوائلٹ میں گئی تو وہاں پر ایسا منظر کہ حیرت کے مارے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، اس سے پہلے کبھی زندگی میں نہ دیکھا تھا کہ کوئی جہاز کے ٹوائلٹ میں۔۔۔

اب اس خاندان کے افراد نے برلن کے ایک عجائب گھر سے 100کلوگرام خالص سونے سے بنا تاریخی ”کینیڈین سکہ“ چوری کر لیا ہے۔ اس سکے کی مالیت 4کروڑ 30لاکھ ڈالر(تقریباً4ارب 30کروڑ روپے) ہے۔ تاحال اس کے اصلی چوروں ہی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا تاہم پولیس نے شبے پر 4افراد کو گرفتار کر رکھا ہے جن میں بالترتیب19،20اور 21سال عمر کے تین بھائی اور ان کا ایک کزن شامل ہیں۔ ان کا تعلق اسی لبنانی خاندان سے ہے۔پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک سیڑھی، رسی، کلہاڑے کا دستہ و دیگر اشیاءملی ہیں جن کی مدد سے چور عجائب گھر کے اندر گئے اور سکے تک پہنچے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ”ممکنہ طور پر اب تک اس سکے کے ٹکڑے کرکے فروخت کیے جا چکے ہوں گے۔“

2009ءمیں مبینہ طور پر اسی خاندان کے افراد نے جرمنی کے معروف ڈیپارٹمنٹ سٹور KaDeWeسے 7کروڑ یورو(تقریباً 8ارب 44کروڑ روپے) مالیت کے زیورات چوری کر لیے تھے۔ ان زیورات کا بھی آج تک سراغ نہیں لگایا جا سکا۔رپورٹ کے مطابق اس لبنانی خاندان کے 8سے 10ہزار افراد پورے جرمنی میں پھیلے ہوئے ہیں اور منظم وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً اپنا لبنانی پاسپورٹ بھی نہیں رکھتے تاکہ انہیں جرمن حکومت ملک بدر نہ کر سکے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...