تحریک انصاف ہائی جیک ہو چکی ،اب تو ترس آتا ہے پارٹی کن کے ہاتھوں میں ہے ?ہم قانونی جنگ میں بھی سرخروہونگے : طارق فضل چودھری

تحریک انصاف ہائی جیک ہو چکی ،اب تو ترس آتا ہے پارٹی کن کے ہاتھوں میں ہے ?ہم ...
تحریک انصاف ہائی جیک ہو چکی ،اب تو ترس آتا ہے پارٹی کن کے ہاتھوں میں ہے ?ہم قانونی جنگ میں بھی سرخروہونگے : طارق فضل چودھری

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) مسلم لیگ نون کے رہنما اور  وزیر مملکت طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف ہائی جیک ہو  کر  نو واردلوگوں کے ہاتھوں بغل بچہ بنی ہوئی ہے ،تحریک انصاف پر ترس آتا ہے کہ  بابر اعوان اور  فواد چودھری  جیسے لوگ  اس پارٹی  کے ترجمان بنے  ہوئے ہیں جبکہ حقیقی لوگوں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے،اس پارٹی کے لیڈر نے پی ٹی آئی کن لوگوں کے حوالے کردی ہے  ؟مسلم لیگ ن نوازشریف اور شہبازشریف کی قیادت میں متحد ہے،جے آئی ٹی وزیراعظم کے 35 سالہ سیاسی کیریئر سےمتعلق کوئی ثبوت نہ لاسکی، جے آئی ٹی 7 سمندرپارسے تفصیلات لے آئی  لیکن اسے ملک کے اندرسے کوئی ثبوت نہیں ملا،  جے آئی ٹی نے وزیراعظم،ان کے خاندان اور بالخصوص مرحوم  والد کے کاروباری معاملات کی چھان بین شروع کی گئی لیکن ان کی سیاسی زندگی سے کچھ بھی نہ مل سکا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جو موجودہ صورتحال ہے ، اس میں  مصنوعی طور پر  بحران پیدا کر کے منتخب حکومت پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، نواز شریف کے سیاسی کیریئرمیں ایک پائی کی بھی کرپشن سامنے نہیں آسکی ، جے آئی ٹی رپورٹ میں پیسا منی لانڈرنگ سے بھیجنے کا کہیں ذکر نہیں، صرف شریف خاندان کو ٹارگٹ بنایا گیا ہے ، وراثت میں ملنے والی جائیداد سے متعلق قانون بھی نہیں پوچھ سکتالیکن نواز شریف نے اعتراض نہیں کیا ۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کتنے لوگ وراثت میں ملنے والی جائیداد کا حساب دیتے ہیں ؟ میں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی ایک بھی الزام ثابت کردیں، ن لیگ کی قیادت  پر کرپشن،لوٹ مار اور ٹیکس چوری کےالزام لگا ئے جارہے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے بھی سرخرو ہونگے ، سی پیک اربوں ڈالر کا منصوبہ ہے اس میں تو کسی کو ایک پائی کی بھی کرپشن نظر نہیں آئی اور نہ ہی ثابت ہو سکی ہے ، ہماری حکومت کے کسی منصوبے میں کرپشن ثابت کی جائے نہ کہ شریف خاندان کا بے بنیاد ٹرائل کیا جائے ۔

مزید : اسلام آباد


loading...