اگر ن لیگ کا کوئی رکن اسمبلی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہے تو سب سے پہلے اسے کیا کام کرنا پڑے گا؟ حقیقت جان کر آپ بھی کہیں گے کوئی بھی کہیں نہیں جانے والا

اگر ن لیگ کا کوئی رکن اسمبلی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہے تو سب سے پہلے اسے کیا کام ...
اگر ن لیگ کا کوئی رکن اسمبلی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہے تو سب سے پہلے اسے کیا کام کرنا پڑے گا؟ حقیقت جان کر آپ بھی کہیں گے کوئی بھی کہیں نہیں جانے والا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاناما کیس کے باعث حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے تو وہیں کئی قسم کی پیش گوئیاں بھی کی جارہی ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ پارٹی کے 20یا 30اراکین اسمبلی پر مشتمل ایک گروہ پارٹی چھوڑ کر جانے کیلئے تیار ہے ۔ان لوگوں نے آئین کا آرٹیکل 63نہیں پڑھا جو کہ 18ویں ترمیم کے بعد شامل کیا گیاہے ،جو کہ اس رکن کو اپنی طرف متوجہ ہے جو پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتاہے۔

آئین کا آرٹیکل 63A:پارٹی چھوڑنے کی صورت میں نااہلی :

اگر پارلیمانی پارٹی کے کسی رکن نے ایوان زیریں میں ایک سیاسی جماعت کی تشکیل کی تو رکن اسمبلی نہیں رہے گا۔

اگر کوئی رکن اسمبلی اپنی سیاسی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتاہےتو اس پر بھی اسے اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونا پڑے گا ۔

جب رکن اسمبلی اپنی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کیخلاف ووٹ ڈالے تو وہ اس صورت میں بھی نااہل ہو جاتاہے ۔

مزید : قومی