اگر آپ پر یا آپ کے سامنے کسی پر تیزاب پھینک دیا جائے تو فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟ ڈاکٹر نے ایسی بات بتادی جسے جان کر آپ کسی دن کسی کی زندگی بچاسکتے ہیں

اگر آپ پر یا آپ کے سامنے کسی پر تیزاب پھینک دیا جائے تو فوری طور پر کیا کرنا ...
اگر آپ پر یا آپ کے سامنے کسی پر تیزاب پھینک دیا جائے تو فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟ ڈاکٹر نے ایسی بات بتادی جسے جان کر آپ کسی دن کسی کی زندگی بچاسکتے ہیں

  



لندن(نیوز ڈیسک) تیزاب پھینکنے کے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں اور عام طور پر حملے کا نشانہ بننے والے یا اس کے آس پاس موجود لوگوں کو بالکل علم نہیں ہوتا کہ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئیے۔ تیزاب کا حملہ عموماً انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے لیکن اگر آپ کو کچھ ضروری باتیں معلوم ہوں تو نقصان کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

ا خبار دی انڈیپینڈنٹ کی خصوصی رپورٹ میں ایک ماہر ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ تیزاب کا حملہ ہونے کی صورت میں فوری ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آنکھوںاور جلد کو بچایا جاسکے ۔ اگر آپ کسی متاثرہ شخص کی مددکر رہے ہیں تو کوشش کریں کہ آپ کا جسم تیزاب سے براہ راست نہ چھوئے۔ بعض اوقات تیزابی کیمیکل پاﺅڈر کی شکل میں بھی ہوتا ہے جسے بہت احتیاط کے ساتھ جلد سے صاف کرنا چاہیے۔

نوعمر لڑکے کے کان میں درد، ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے کان سے ایسی ایسی چیزیں نکال ڈالیں کہ پورا ہسپتال دم بخود رہ گیا، دیکھ کر آپ کو بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے گا

تیزاب کے باعث جلد پر بننے والے زخموں کو کسی بھی قسم کے کیمیکل سے صاف نہیں کرنا چاہیے، جب تک کہ آپ کے پاس اس کے متعلق مناسب تربیت نہ ہو۔ سب سے محفوظ طریقہ یہی ہے کہ پانی استعمال کیا جائے تاکہ زخموں سے تیزاب کو صاف کیا جاسکے اور جلن میں کچھ کمی ہوسکے۔ زخم والی جگہ کو کم از کم 20 منٹ کیلئے پانی میں رکھنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ پانی بالکل صاف ہو۔

متاثرہ شخص کے جلے ہوئے کپڑے اتاردینے چاہئیں اور اسے زیادہ سے زیادہ پرسکون رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر تیزاب آنکھوں میں جاچکا ہو تو آنکھ میں بہتا ہوا پانی بہت احتیاط اور نرمی سے ڈالیں۔ تقریباً 10 منٹ تک آنکھ میں سے پانی بہائیں تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ صاف ہوجائے۔

کوشش کریں کہ متاثرہ شخص اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھ کو نہ چھوئے کیونکہ عام طور پر حملے کا نشانہ بننے والا جب خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ہاتھ پر بھی تیزاب لگ جاتا ہے۔ دریں اثناءکوشش کریں کہ متاثرہ شخص کو جلد از جلد ہسپتال پہنچایا جائے تا کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے علاج شروع کیا جائے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...