علی پور چٹھہ میری یادوں کی دُنیا میں

علی پور چٹھہ میری یادوں کی دُنیا میں
علی پور چٹھہ میری یادوں کی دُنیا میں

  

میری زندگی کے ابتدائی چند سال علی پور چٹھہ میں گزرے ہیں۔ اس وقت یہ محض ایک قصبہ تھا، جسے قیام پاکستان کے پندرہ سال بعد تک بھی بجلی کی سہولت میسر نہ آئی تھی۔ رات کی تاریکی کا مقابلہ کرنے کے لئے لوگ دیے یا لالٹین سے مدد لیتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ پانچویں جماعت کے امتحان کی تیاری کے دوران مجھے روشنی کی یہی سہولت دستیاب تھی، گلیوں اور بازاروں میں ہر شام مشالچی گیس لیمپ جلاتے تھے۔

ضلعی ہیڈ کوارٹر گوجرانوالہ علی پور سے بیس بائیس میل کے فاصلے پر تھا، لیکن اس رُوٹ پر بس، ویگن کا وجود الشاذ کالمعدوم! لے دے کے ریل کی سہولت میسر تھی، اس کے ذریعے پہلے حافظ آباد یا وزیر آباد پہنچنا پڑتا پھر وہاں سے بس پکڑ کر گوجرانوالہ جاتے تھے۔

میرے والد صاحب پہلی دفعہ 1952ء میں بسلسلہ کاروبار گوجرانوالہ سے علی پور چٹھہ منتقل ہوئے۔ چھ سال بعد گوجرانوالہ لوٹ آئے لیکن دوبارہ علی پور اس وقت گئے جب میں نے چوتھی جماعت کا امتحان پاس کرلیا تھا۔ پانچویں میں میرا داخلہ علی پور چٹھہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول میں ہوا اور میری خوش نصیبی کہیے کہ مجھے ماسٹر عبدالحمید صاحب سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا۔

وہ نہایت بااخلاق، شفیق اور لائق استاد تھے۔ چہرہ سنتِ نبویؐ سے مزین، رنگت گندمی، خدوخال دلکش، خوش قامت اور خوش گفتار۔ سالانہ امتحان سے ایک دو ماہ قبل انہوں نے ہمیں ٹیوشن بھی پڑھائی۔ ہم سرشام ان کے گھر پہنچتے تو اس وقت وہ میٹروگیس جلا رہے ہوتے

ان کے چہرے پر سکینت اور طمانیت کا نور سا چھایا رہتا تھا۔ برسوں بعد مجھے اس کا سبب یہ معلوم ہوا کہ ان کا کسی صوفیانہ سلسلے سے باقاعدہ تعلق تھا۔

میرے مذہبی شعور کی بنیادیں اسی شہر میں پڑیں۔ اس وقت اہل شہر تین فرقوں میں بٹے ہوئے تھے: بریلوی، شیعہ اور دیوبندی۔ چند گھر چکڑالویوں کے بھی تھے۔ ان کی مسجد ہمارے گھر کے نزدیک تھی، جس کے دروازے پر جلی قلم سے لکھا ہوتا تھا:’’ نجات کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے‘‘۔جس کا دوسرے لفظوں میں مطلب تھا کہ ہم احادیث نبویؐ کے منکر ہیں۔

یہ لوگ تین نمازیں پڑھتے تھے: فجر، ظہر اور مغرب۔ ان کی مسجد محراب اور اذان سے خالی تھی۔ میں اکثر شام کو اس مسجد کے دروازے میں کھڑے ہو کر بڑی دلچسپی سے ان کی نماز کا مشاہدہ کیا کرتا۔ ان کا امام پہلی صف کے درمیان میں ہوتا اور نماز کے اختتام تک مسلسل قرأت کرتا چلا جاتا۔ نمازی رکوع کے بعد کھڑے ہوئے بغیر سیدھے سجدے میں چلے جاتے اور نماز کے اختتام پر دائیں بائیں سلام پھیرے بغیر قرأت ختم کردیتے۔

شہر میں ایک قابل ذکر تعداد اہل تشیع کی بھی تھی لیکن میں نے اپنے زمانۂ قیام کے دوران شیعہ سُنی کا کوئی جھگڑا نہیں دیکھا۔ البتہ بریلوی اور دیوبندی مکاتب فکر کے درمیان بحث مباحثے کا بازار گرم رہتا تھا۔ مذکورہ دونوں فرقے بنیادی طور پر حنفی فقہ کے پیروکار تھے لیکن بُرا ہو انگریز کی سیاست کا، اس نے خود پس پردہ رہ کر دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کئے اور اس حد تک کئے کہ بریلوی اپنے آپ کو سُنی اور عاشقِ رسولؐ، دیوبندیوں کو وہابی اور گستاخ رسول قرار دینے لگے۔

میرے والد ہر ماہ دال روٹی پر بڑی باقاعدگی کے ساتھ گیارہویں شریف کا ختم دلاتے اور بریلوی مکتب فکر کے سالانہ جلسوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔ اس وقت اس حلقے کے سرکردہ عالم مولانا حافظ محمد سعید نقشبندی مرحوم و مغفور تھے۔

والد صاحب ان سے محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد جب ہم گجرات چلے گئے تو چند ماہ بعد والد صاحب رحلت فرماگئے تو حافظ صاحب تعزیت کے لئے گجرات تشریف لائے تھے۔

میں والد صاحب کے ہمراہ جمعہ کی نماز کے لئے حافظ صاحب ہی کی مسجد درس القرآن میں جایا کرتا تھا۔ حافظ صاحب کے خطبات جمعہ کا موضوع اکثر نوربشر، علم غیب، سماع موتیٰ وغیرہ مسائل ہی ہوتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے دورانِ وعظ دیوبندی عالم مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’نشرالطیب‘‘ کا ایک اقتباس بھی پڑھ کر سنایا تھا جس میں حضور اکرمؐ کی ذات بابرکات کو نور تسلیم کیا گیا ہے۔

ایک جمعہ کے وعظ میں حافظ صاحب نے فیصل آباد کے معروف عالم مولانا سردار احمدؒ کے جنازے میں اپنی شرکت کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے جنازے پر رحمت الہیٰ کا نزول ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

حافظ صاحب قد کے لمبے لیکن وجود کے اعتبار سے سمارٹ تھے۔ جمعہ کے دن وہ نہایت اہتمام سے سرمہ لگاتے اور عمامہ پہنتے تھے۔

ایک دفعہ اعلان ہوا کہ مولانا عبدالغفور ہزارویؒ وزیر آبادی کنک منڈی میں جلسہ سے خطاب کریں گے۔چنانچہ میں بڑے اشتیاق کے ساتھ والد صاحب کے ہمراہ جلسہ گاہ میں پہنچا۔ تو سٹیج سے اعلان ہوا کہ عبدالغفور ہزاروی صاحب کسی وجہ سے تشریف نہیں لاسکے، ان کی جگہ ان کے صاحبزادے مولانا عبدالشکور ہزاروی تشریف لائے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کو موضوع گفتگو بنایا تھا جس میں آپؐ کو شاہد اور مبشر قرار دیا گیا ہے۔

مسئلہ حاضر ناظر ثابت کرنا مقصود تھا۔ ان کی تقریر بڑی زور دار اور دلپذیر تھی لیکن مولانا عبدالغفور کو دیکھنے اور سننے کی حسرت دل ہی دل میں رہ گئی۔

اسی شہر میں میں نے ایک مجذوب دیکھا جسے لوگ سائیں چپ کہتے تھے جو عام طور پر کسی گندگی کے ڈھیر پر بیٹھا ہوتا تھا۔ کبھی گلی بازار میں بھی نظر آجاتا لیکن اپنی دھن میں مَست۔ ہماری گلی کے ایک معزز آدمی مرزا محمد بیگ تھے وہ ڈنگر ڈاکٹر تھے۔

بڑی وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔ برسات کی ایک صبح جب وہ ذبح خانہ میں ذبح شدہ جانوروں پرمہریں ثبت کرکے گھر لوٹ رہے تھے تو سائیں سے کہنے لگے، سائیں جی! آئیں گھر چلتے ہیں، چائے پیتے ہیں۔ مرزا صاحب ذرا آگے نکل آئے پیچھے سائیں جی بھی بڑی آہستہ سی چال چلتے آرہے تھے، مگر بلند آہنگی سے بار بار اعلان کررہے تھے: اج بادشاہ مرگیا اے۔

مرزا صاحب کی گلی میں داخل ہوئے تو لوگ اپنے دروازوں پر کھڑے تبصرے کرنے لگے کہ معلوم نہیں سائیں نے آج کس کی جان لے لی ہے!سائیں جی وہی جملہ بولتے مرزا صاحب کے دروازے پر آپہنچے۔ مرزا صاحب کی بیٹی نے کہا، ابا جی سنا آپ نے، سائیں جی کیا کہہ رہے ہیں۔ مرزا صاحب نے کہا، بیٹی جلدی سے چائے بناؤ، سردی بہت ہے سائیں جی کو پلانی ہے۔

چائے کا پیالہ آیا، سائیں نے پیا اور اسی فقرہ کو دہراتے پلٹ گئے۔ اُدھر وہ گلی مڑے اِدھر مرزا صاحب اپنے ویٹرینری ہسپتال پہنچے۔ ایک کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک کونے میں رات بھر چھت مسلسل ٹپکتی رہی تھی۔

ملازمین سے کہنے لگے، آپ لوگوں نے خیال نہیں کیا، چھت پر جاتے اور اس کونے پرمٹی ڈال آتے وہ کہنے لگے، مرزا صاحب سیڑھی ہوتی تو ہم یہ کام ضرور انجام دے دیتے۔ مرزا صاحب نے کہا، یہ کونسا مشکل کام تھا اچھا مٹی لاؤ میں خود کرتا ہوں یہ کام! یہ کہہ کر مرزا صاحب دیوار کے ردوں کو پکڑتے پکڑتے چھت پر پہنچ گئے۔مٹی کی تغاری انہیں پکڑائی گئی۔

انہوں نے سوراخ پرلیپائی کی اور واپسی پر اسی طرح ردے پکڑے پکڑے اترنے لگے۔ اچانک ان کا ہاتھ ردے سے اُکھڑ گیا اور وہ دھڑام سے نیچے(بیرونی طرف) سڑک پر آرہے۔ ملازمین نے آگے بڑھ کر جو انہیں اٹھایا توان کے دم مسافر ہو چکے تھے۔

سائیں جی تو معلوم نہیں کہاں جا بیٹھے تھے، لوگ کہہ رہے تھے، سائیں غلط نہیں کہہ رہا تھا، مرزا صاحب اپنی پر رعب شخصیت کے اعتبار سے ہمارے بادشاہ ہی تھے!

میرے والد صاحب پابندی سے گیارہویں شریف کا ختم دلاتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے مرزا صاحب سے کہا میں چاہتا ہوں سائیں جی تبرک تناول فرمائیں۔

لیکن میرے کہنے سے شاید وہ کھانے پر آمادہ نہ ہوں، آپ کے کہنے سے ممکن ہے مان جائیں۔ چنانچہ والد صاحب دال روٹی لے کر سائیں جی کے پاس پہنچے۔

مرزا صاحب سائیں سے مخاطب ہوئے، بھائی اسماعیل گیارہویں شریف کا تبرک لائے ہیں،آپ کھالیں تو انہیں خوشی ہوگی۔ مرزا صاحب کے اشارے پروالد صاحب نے روٹی کا لُقمہ آگے بڑھایا تو سائیں جی نے کھالیا اور پھر منہ پھیر لیا۔

والد صاحب نے مستفسرانہ نظر سے مرزا صاحب کی طرف دیکھا توانہوں نے کہا، اب سائیں جی مزید نہیں لیں گے۔ والد صاحب کی خوشی کے لئے اتنا بھی کافی تھا۔

1963ء کے اوائل میں والد صاحب مجھے علی پور چٹھہ کے ریلوے اسٹیشن پر لے گئے جہاں گاڑی کے ڈبوں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر کچھ لوگ خانہ کعبہ کے غلاف کی زیارت کرارہے تھے۔ یہ عشا کے بعد کا وقت تھا اور اسٹیشن کو گیس لیمپوں کی مدد سے بُقعۂ نور بنایا گیا تھا۔

والد صاحب نے مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر غلاف کی زیارت کروائی تھی۔ بعض لوگ دوپٹے، چادریں وغیرہ اوپر پھینک رہے تھے تاکہ وہ غلاف سے مس ہو جائیں۔

دراصل اس سال حکومت سعودیہ نے سیاسی اختلاف کی بنا پر مصر کا معمول کے مطابق تیار کردہ غلاف وصول کرنے سے انکار کردیا تھا چنانچہ وہ غلاف لاہور میں تیار ہوا تھا۔

یہ الگ بات کہ اسے کعبہ کی زینت بننا نصیب نہ ہوا، اس کی جگہ کسی اور ملک کو یہ سعادت نصیب ہوگئی۔ ویسے بھی سعودیہ پہنچنے سے پہلے غلاف کا نمائش کے دوران جو حشر ہوگیا تھا اس کی وجہ سے اسے نہ چڑھایا گیا تو اچھا ہی ہوا!

مزید : رائے /کالم