الیکشن 2018، پنجاب کی نگران حکومت اور تیاریاں

الیکشن 2018، پنجاب کی نگران حکومت اور تیاریاں
الیکشن 2018، پنجاب کی نگران حکومت اور تیاریاں

  

13مئی 2018ء کو حکومت کے مقرر پانچ سال مکمل ہوئے۔ حکومت اور اپوزیشن پارٹی میں ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ نگران وزیراعلیٰ کون بنے گا۔ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس گیا اور 7 جون 2018ء ڈاکٹر حسن عسکری نگران وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔

یکم جون کو انہوں نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں سب کو برابر موقع ملے گا تاکہ وہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا سکیں اور مَیں پوری کوشش کروں گاکہ یہ انتخابات شفاف ہوں اور امن وامان کی صورتِ حال قائم رہے۔

اُن کے اس جذبے اور عہد کو دیکھ کر لگا کہ نگران وزیراعلیٰ کچھ مختلف ہیں،چنانچہ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب سے متاثر ہو کر مَیں ان کے بارے میں پڑھنے لگی اور پتہ یہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک نہایت قابل استادہی نہیں،بلکہ یو ایس ایڈ کے پروگرام فل برائٹ کے ذریعے سکالرشپ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نگران وزیراعلیٰ ایک استاد ہیں اور جانتے ہیں کہ ملک کے نوجوانوں کے لئے کیا ضروری ہے اور کیسے ان کے روشن مستقبل کو بآسانی تشکیل دے سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب وزارت عظمیٰ کے لئے درست حقدار ٹھہراتا ہے۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے نہ صرف پُرامن ماحول قائم کیا، بلکہ فلاح انسانی کے کاموں میں بھی اپنا کردار ادا کیا، سیلاب، ڈینگی اور پولیو سے بچاؤ کے لے انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے۔ملک میں الیکشن کے باعث پیدا ہونے والے تنازعات سے بچنے کے لئے 2 لاکھ 59 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کو یقینی بنایا، تاکہ الیکشن کے دنوں میں کسی قسم کی کشیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس کے ساتھ ساتھ اہم سیاسی شخصیات کو لاحق خطرات کے پیش نظر انہیں فول پروف سیکیورٹی دینے کے لئے اقدامات کئے۔ اہم سیاسی شخصیات کے لئے ہی نہیں، بلکہ امیدواروں، جلسوں اور ریلیوں کے لئے بھی سیکیورٹی کو یقینی بنایاگیا ہے۔پنجاب کے عوام کی سہولت کے پیش نظر 141 قومی اور 297 صوبائی نشستوں پر انتخابات کے لئے 47473 پولنگ سٹیشن قائم کئے اور ہر پولنگ سٹیشن پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایاہے۔

یہ ذمہ داری صرف حکومت ہی کی نہیں ہے کہ امن و امان اور ووٹنگ کے عمل کو پُر امن بنائے، بلکہ ہر ذمہ دار شہری کو اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام بخوبی سر انجام دینے کے لئے مستعد ہیں۔ پاکستان آرمی رینجر اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ امن عامہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ پاکستان کی فلاح و بہبود کے خواہش مند ہیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے اس عمل سے یہ بات واضح ہے کہ نگران حکومت غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہے۔ اس کا مقصد صرف صاف، شفاف اور غیر جانبدارنہ انتخابات اور پاکستان کی خوشحالی ہے۔ ان کی زیرنگرانی میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کئے جارہے ہیں،نگران حکومت امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ہر طرح کے اقدامات کررہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب اس ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک کس انداز میں پہنچائیں گے،کیونکہ حکومت مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ بجٹ سے بھی خالی ہے۔

آغاز میں ایسا لگ رہا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرح پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر یا ناجائز ٹیکس لگا کر اپنی مدت اور ضروریات پوری کر کے جان چھڑائیں گے، تاکہ آنے والی حکومت چاہے جو بھی بجٹ پیش کرے اور اس ملک کا کاندھا بنے یا کاندھا دے، لیکن ڈاکٹر حسن عسکری نے اس کے بر عکس کر کے دکھایا، انہوں نے غیرضروری اخراجات کو ختم کر کے وزیرعلیٰ دفتر سے ان تمام افسران کو ان کے شعبہ جات میں بھجوا دیا جو ضرورت سے زیادہ تھے.

انہوں نے اپنے اس عمل سے ثابت کیا کہ حکمرانوں کو شہنشاہی کے لئے نہیں،بلکہ عوام کی خدمت کے لئے عہدے ملتے ہیں۔ امید ہے کہ ان کی قیادت میں آئندہ انتخابات اتنے شفاف ہوں گے، جتنے پچھلے 70 سالوں میں نہیں ہو سکے اور وہ ثابت کریں گے کہ وہ اس عہدے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

مزید : رائے /کالم