الیکشن مہم پر خوف و ہراس کے پھیلتے سائے

الیکشن مہم پر خوف و ہراس کے پھیلتے سائے

مستونگ(بلوچستان) میں ہونے والے خود کش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے امیدوار میر سراج خان رئیسانی سمیت129افراد جاں بحق ہو گئے۔ وہ خطاب کے لئے سٹیج پر آئے تو خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا، بلوچستان عوامی پارٹی نے صوبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، جلسہ گاہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی، خود کش حملہ آور پہلے سے سٹیج کے قریب تھا جونہی سراج رئیسانی خطاب کے لئے آئے اُس نے خود کو اُڑا لیا۔ دوسری جانب بنوں میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے امیدوار اکرم درانی کے قافلے کے نزدیک بم دھماکے کے نتیجے میں دو بچوں سمیت5افراد جاں بحق ہو گئے، پولیس والوں سمیت 23لوگ زخمی بھی ہوئے۔

اڑتالیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں دہشت گردی کی تین بڑی وارداتیں ہو چکی ہیں، پہلی واردات پشاور میں ہوئی، جہاں اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور کو نشانہ بنایا گیا اُن کے ساتھ 22 افراد شہید ہو گئے۔ بنوں کے واقعہ میں اگرچہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار بال بال بچ گئے تاہم اُن کے قافلے میں شامل پانچ افراد شہید ہوئے، مستونگ کا واقعہ تو انتہائی لرزہ خیز ہے،جہاں ایک ہی دھماکے میں سراج رئیسانی سمیت129افراد شہید ہو گئے، تینوں وارداتوں میں تین مختلف جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا، پہلی میں اے این پی،دوسری میں متحدہ مجلس عمل اور تیسری میں صوبہ بلوچستان کی نوتشکیل شدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کو نشانہ بنایا گیا،تینوں حملے انتخابی امیدواروں پر اجتماع یا جلوس میں کئے گئے، جس سے گمان ہوتا ہے کہ خود کش حملہ آوروں کے منصوبہ سازوں کا مقصد انتخابی مہم اور انتخابات کو سبوتاژ کرنا ہے۔اِس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ انتخابی امیدواروں پر اِس طرح کے مزید حملے ہو سکتے ہیں، اِس لئے امیدواروں کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔

ان وارداتوں سے یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ بعض سیاست دان اور اُن کی جماعتیں اگر سیکیورٹی خدشات کا اظہار کر رہے تھے تو یہ غلط نہیں تھے، لیکن مقامِ افسوس ہے کہ حکومت کی جانب سے اُنہیں جو سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی وہ عجلت میں اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر واپس لی گئی، ایسا کرتے وقت یہ خیال نہیں کیا گیا کہ اِس طرح امیدوار اور سیاست دان غیر محفوظ ہو جائیں گے۔خدشہ یہ ہے کہ سیکیورٹی کا جو خلا پیدا ہوا ہے دہشت گرد اِس سے فائدہ اٹھانے پر تُل گئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک اگر اُنہیں وارداتیں کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا تو اِس کی وجہ یہی تھی کہ سیکیورٹی کے بہتر انتظامات موجود تھے، جونہی اِن میں اُنہیں رخنہ نظر آیا انہوں نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر دہشت گردی کی بڑی وارداتیں کر ڈالیں اور نہیں کہا جا سکتا کہ ان سے حوصلہ پکڑ کر وہ کہاں کہاں مزید وارداتیں کردیں اِس لئے فوری طور پر سیاست دانوں اور اُن کے اجتماعات کی سیکیورٹی کا انتظام بہتر کرنا ضروری ہے۔خود امیدواروں کو بھی کوئی رسک نہیں لینا چاہئے،کیونکہ یہ تو واضح ہو ہی چکا ہے کہ دہشت گرد اپنی وارداتوں کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں، نگران حکومت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سیاست دانوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے۔

سینیٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز نے سیاست دانوں کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اِس سلسلے میں نگران حکومت کو ہدفِ تنقید بنایا ہے، مقررین نے اِس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ نگران وزیر داخلہ سے زیادہ میڈیا کے پاس اطلاعات ہیں کہ کس طرح ہارون بلور کو نشانہ بنایا گیا، حکومت کو بتانا چاہئے کہ سیکیورٹی کے کیا انتظامات ہیں، سیکیورٹی کے انتظامات اگر ایسے ہی رہے تو انتخابات کے نتائج مشکوک ہوسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بنوں حملے کو سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دھماکے حالات کی سنگینی بتا رہے ہیں۔ اگر حالات یہی رہے تو خوف بڑھتا رہے گا تو ووٹ ڈالنے کون آئے گا، بلوچستان میں تو گزشتہ انتخابات میں بھی یہی صورتِ حال تھی، کئی حلقوں میں بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے نکلے یہاں تک کہ صوبائی اسمبلی کے ایک رکن محض500 ووٹ لے کر منتخب قرار پائے،اب مستونگ کے واقعے کے بعد جو خوف وہراس پیدا ہوا اس حلقے میں تو الیکشن ملتوی ہو جائے گا،کیونکہ خود امیدوار ہی شہید ہو گیا ہے،لیکن خوف کی اِس فضا کو سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے دور کرنا ضروری ہے تاکہ پولنگ والے دن لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلیں۔

کہا جاتا ہے کہ اِن وارداتوں میں بھارت کا ہاتھ ہے،کیونکہ ہارون بلور اور سراج رئیسانی اپنی پاکستانیت کا اظہار بڑے دبنگ طریقے سے کر رہے تھے، جو مُلک دشمنوں کے سینوں پر سانپ بن کر لوٹ رہا تھا،چنانچہ اِن دو اُبھرتے ہوئے سیاست دانوں کو راستے سے ہٹانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ بڑی تعداد میں دوسرے بے گناہوں کی جان لے لی گئی،مستونگ میں ایک ہی خاندان کے سات نوجوان بھائی اور دوسرے خاندان کے پانچ بھائی بیک وقت جامِ شہادت نوش کر گئے۔اُن کی حوصلہ مند ماؤں نے اپنے اپنے جگر گوشوں کو بیک وقت خلد آشیانی ہوتے دیکھا، ایسی بہادر ماؤں کے حوصلے کو پوری قوم کا سلام پہنچے، بلوچستان میں اِس سے پہلے وُکلا برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ایک ہی دھماکے میں بلوچستان کے صفِ اول کے وُکلا کو شہید کیا گیا، جن کی کمی آج تک پوری نہیں ہو رہی۔ عدلیہ کے ایک پہیے پر کاری وار کے بعد اب نوجوان سیاست دانوں کو راستے سے ہٹانے کے لئے دہشت گردی کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتیں اِس سے پہلے بھی ہوتی رہتی ہیں،جن میں خصوصی طور پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے جوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، انتخابات سے پہلے ایسی وارداتوں سے خوف و ہراس میں اضافہ ہوتا ہے، اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں تاکہ الیکشن مہم پر خوف و ہراس کے پھیلتے سائے کم ہو سکیں۔

مزید : رائے /اداریہ