مریم نوازشریف؟

مریم نوازشریف؟
مریم نوازشریف؟

  

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے جیل کے ڈیتھ سیل سے اپنی بیٹی بے نظیربھٹو کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ تیس سال کی عمر تک میں نہرو کی کتاب Glimpses of World History کا چار مرتبہ مطالعہ کر چکا تھا۔

بھٹو کے مطابق ’’نہرو ہمارے عہد کا سب سے زیادہ خوبصورت انگریزی نثر لکھنے والا تھا۔ اس کے الفاظ میں ولولہ اور موسیقیت تھی۔ چودہ سال پہلے جکارتہ سے میں نے تمہیں ایک خط میں لکھا تھا کہ نہروایک فریڈم فائٹر تھا، انڈین عوام کا عظیم لیڈر۔

کیمرج کا تعلیم یافتہ نہرو ایک پروقار ارسٹوکریٹ تھا۔ غیر ملکی حکمرانوں نے اسے عزت اور احترام کے ساتھ جیل میں رکھا تھا۔ اس وقت اس کی بیٹی کی عمر 13 سال تھی۔ وہ سیاست میں سرگرم حصہ لیتی تھی اور اس نے بچوں کا بندر بریگیڈ بنا کر شہرت حاصل کی تھی۔‘‘

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی بے نظیر کا اندراگاندھی سے تقابل کرتے ہوئے لکھا تھا’’مگر تم آگ کے شعلوں کے درمیان گھر گئی ہو۔ اور یہ بے رحم جنتا کی آگ ہے۔ تم اندراگاندھی سے بہت مختلف حالات میں ہو۔ تم میں اور اس میں قدرمشترک یہ ہے کہ اس کی طرح تم بھی تاریخ بنا رہی ہو۔

میں اس کی صلاحیتوں کا احترام کرتا ہوں مگر میں اس کا بہت زیادہ مداح نہیں ہوں۔ یہ سچ ہے کہ وہ گیارہ سال تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہی انڈیا میں اسے دیوی کہا جاتا ہے۔

اس نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کیا تھا مگر ان سب باتوں کو جاننے کے باوجود مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ میری بیٹی کا جواہرلال کی بیٹی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ تم دونوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ تم دونوں یکساں طور پر بہادرہو۔ تم دونوں خالص فولادسے بنی ہوئی ہو۔‘‘

جناب ذوالفقار علی بھٹو غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ کنیڈی نے جب ان سے کہا تھا کہ اگر آپ امریکی ہوتے تو میری کابینہ میں ہوتے تو نوجوان بھٹو نے برجستہ کہا تھا ’’نہیں جناب صدر اگر میں امریکی ہوتا تو آپ میری کابینہ میں ہوتے۔‘‘ ہنری کسنجر جیسا امریکی وزیرخارجہ اس کی صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتا تھا۔ وہ اسے غیر معمولی ذہین و فطین قرار دیتا تھا۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

ذوالفقار علی بھٹو اکو اپنی بیٹی بے نظیر سے غیر معمولی محبت تھی۔ وہ اسے چمکتا ہوا ستارہ بنانا چاہتا تھا۔ جب بھٹو وزیرخارجہ بنا تو بے نظیر بھٹو کی عمر 9 سال تھی۔ اپنے باپ کے ساتھ اسے چواین لائی اور ہنری کسنجر جیسے عالمی راہنماؤں سے ملاقات کا موقع ملا تھا۔

جب بھٹو نے پیپلزپارٹی بنائی تو بے نظیر اس کی سرگرمیوں کا بھی حصہ تھی۔ 1969ء میں بھٹو نے بے نظیر کوہاورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دلانے کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا تھا۔ داخلے کے لئے اس کی عمر کم تھی مگر بھٹو کے قریبی دوست پروفیسر جان کینتھ گالبرائتھ نے اہم کردار ادا کیا۔ جان کینتھ گالبرائتھ اس وقت ہاورڈ یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے۔

بعد ازاں وہ دہلی میں امریکی سفیر بھی رہے۔ بھٹو کو یہ معلوم تھا کہ اپنی تعلیم کے دوران بے نظیر بھٹو اس مہم کا حصہ بھی بن گئی تھی جو ویت نام جنگ میں امریکی شمولیت کے خلاف چلائی جا رہی تھی۔

1971ء میں جب بھٹو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے گئے تو انہوں نے اپنی بیٹی کو نیویارک بلایا۔ اپنے اس دورے کے دوران بھٹو نے اقوام متحدہ میں ایک زوردار تاریخی تقریر کی تھی۔ بھٹو بے نظیر سے بہت محبت کرتا تھا۔

وہ اس کی تعلیم و تربیت میں غیرمعمولی دلچسپی لیتا تھا۔ بھٹو جب شملہ معاہدے کے لئے بھارت گئے تو نصرت بھٹو کی جگہ بے نظیر بھٹو ان کے ساتھ گئیں۔ شملہ میں بے نظیر بھٹو عالمی پریس کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

اسے ان تاریخی مذاکرات میں شامل ہونے اور اندراگاندھی کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ وہ اندراگاندھی جسے اس کی کابینہ کے لوگ آئرن لیڈی کہتے تھے اور بعض اسے میڈم کی بجائے سر سے مخاطب کرتے تھے۔

اندراگاندھی نے انڈیا کو ایٹمی طاقت بنایا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا۔ مگر یہ بھی اندراگاندھی ہی تھی جس نے بھارت میں ایمرجنسی نافذ کی۔ اس کے بیٹے سنجے گاندھی نے آبادی پر کنٹرول کرنے کے لئے جبری نس بندی کا نظام نافذ کرایا۔

گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی اور آخر اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں ہی ہلاک ہو گئی۔ اندراگاندھی کو غیرمعمولی مضبوط اعصاب کی مالک قرار دیا جاتا تھا۔ بھارت میں اسے درگا دیوی قرار دینے والے بھی کم نہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما اسے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ نہرو کو وہ ایک ایسا دیوتا قرار دیتے ہیں جو ناکام ہو گیا تھا۔ اندراگاندھی نہرو کی بہت چہیتی بیٹی تھی۔ اس نے اس کی تعلیم و تربیت پر غیر معمولی توجہ دی تھی۔

نہرو کو اندراگاندھی کی شادی پر اختلاف تھا، تاہم جب نہرو کو یقین ہو گیا کہ اندرا فیروز کے ساتھ شادی کرنے پر بضد ہے تو پھر اس نے جیل سے اسے سرخ ساڑھی بھجوائی جو نہرو خاندان میں ایک روایت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جس سرخ ساڑھی میں اندراگاندھی نے شادی کی تھی وہی سرخ ساڑھی سونیا گاندھی نے راجیو کے ساتھ شادی کے موقعہ پر پہنی تھی۔

بھٹو اندراگاندھی کے مداح نہیں تھے مگر وہ بے نظیر بھٹو کو اندراگاندھی کی طرح وزیراعظم دیکھنا چاہتے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے دو مرتبہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل کیا مگر بھٹو اپنی بیٹی کو اس منصب پر دیکھنے کے لئے زندہ نہیں تھے۔ اندراگاندھی محترمہ بے نظیر بھٹو اور مریم نوازشریف میں متعدد مشترک اقدار تلاش کی جا سکتی ہیں۔

تینوں کے والد وزیراعظم رہے ہیں۔ نہرو، بھٹو اور نوازشریف تینوں اپنی بیٹیوں سے بے پناہ پیار کرتے نظر آتے ہیں اور ان تینوں بیٹیوں کے لئے ان کے والد آئیڈیل ہیں۔ مریم نوازشریف جب میاں نوازشریف کا ذکر کرتی ہیں تو اس میں عقیدت اور محبت کے انوکھے جذبے نظر آتے ہیں۔ وہ میاں نوازشریف کو جمہوریت کا دوسرا نام قرار دیتی ہیں۔

بہت سے لوگوں کو مریم نوازشریف جرات اور بہادری میں بے نظیر بھٹو کا نقش ثانی نظر آتی ہیں۔ بے نظیربھٹو کے ساتھ ان کی ایک دوسری مماثلت بھی ہے۔ دونوں نے کانوونٹ سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔

بے نظیر نے ابتدائی تعلیم کانوونٹ سکول کراچی میں حاصل کی اس کے بعد وہ کانوونٹ سکول مری میں بھی زیرتعلیم رہی ہیں۔ مریم نوازشریف نے اپنی تعلیم کانوونٹ سکول لاہور سے حاصل کی۔ مگر تعلیم کے شعبے میں دونوں کی قدر مشترک اس سے زیادہ نہیں ہے۔ اندراگاندھی نے کیمرج میں تعلیم حاصل کی تھی۔

بے نظیر بھٹو آکسفورڈ اور ہاورڈ سے اپنے تعلق پر فخر کا اظہار کرتی تھیں۔ مریم نوازشریف کانوونٹ کے بعد پنجاب یونیورسٹی چلی گئیں۔ یہاں سے انہوں نے ایم اے انگلش کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پولیٹیکل سائنس کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری پر عدالت عالیہ میں سوالات اٹھائے گئے اور یہ دریافت کیا گیا کہ یہ ڈگری اصلی ہے یا اعزازی، تاہم مریم نوازاپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتی ہیں۔

اسی طرح ایک زمانے میں وہ اپنے شوہر کے حوالے سے مریم صفدر بھی کہلاتی رہیں مگر سیاست میں انہوں نے مریم نواز کے نام سے ہی شہرت حاصل کی بالکل اسی طرح جیسے بے نظیربھٹو شادی سے پہلے بھی بھٹو تھیں اور شادی کے بعد بھی وہ بھٹو ہی رہیں۔

ان کے صاحبزادے بلاول زرداری بھی اپنے آپ کو بلاول بھٹو ہی کہلانا پسند کرتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں سیاسی وراثت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔

مریم نواز اپنے والد کے ساتھ سیاست کے پرخارمیدان میں سفر کر رہی ہیں۔ ان کے مستقبل کے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ایک مقدمے میں عدالت انہیں مجرم قرار دے چکی ہے۔

اگر وہ اپیل کرتی ہیں تو اگلی عدالت ان کے متعلق کیا فیصلہ کرتی ہے اس کے متعلق تو مستقبل ہی کوئی خبر دے گا۔ سوشل میڈیا پر ان کے متعلق یہ لطیفہ بھی مشہور ہے کہ میاں نوازشریف کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے مریم کو سمارٹ فون دیا تھا جس کے ذریعے اس نے ٹویٹ کرنا شروع کیا اور یہی ٹویٹ ان کے زوال کا سبب بن گئے۔

نوازشریف اور ان کی پارٹی کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے مگر بہت سے لوگوں کو آج مریم نواز میں مستقبل کی وزیر اعظم پاکستان نظر آ رہی ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں بڑے واقعات کے پیچھے سیاسی جدوجہد کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔

مگر اس میں تقدیر کے عمل دخل سے بھی انکار ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مریم نوازشریف نے جس طرح سیاسی میدان میں پیش رفت کی ہے اس سے ان کے سیاسی قد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

مسلم لیگ(ن) میں وہ میاں نوازشریف کے بعد سب سے بڑی لیڈر نظر آ رہی ہیں۔ مگر اس وقت انہیں بڑے چیلنج درپیش ہیں۔ وہ بادمخالف میں کھڑی ہیں اور شیکسپیئر نے کیا خوب کہا تھا کہ جو لوگ اونچی جگہوں پر کھڑے ہوتے ہیں انہیں گرانے کے لئے بڑی تندوتیز ہوائیں آتی ہیں اور اگر وہ گر پڑیں تو ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ مریم نوازشریف کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اس کا فیصلہ بہرحال مستقبل ہی کرے گا؟

مزید : رائے /کالم