ایہہ شیشے دا گھر اے

ایہہ شیشے دا گھر اے
ایہہ شیشے دا گھر اے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دلیر اور جانباز افسران اور جوان ہمارے محفوظ اور خوشحال کل کے لئے اپنا آج قربان کررہے ہیں۔ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں جو بچوں کے باپ ہیں۔

کسی کا سہاگ ہیں، کسی ماں کے لعل ہیں، بوڑھے ماں باپ کا سہارا ہیں۔۔۔جبکہ قوم کا خون چوس کر اور ہڈیوں سے گوشت نوچ کر مال بنانے والے اپنا لوٹ مار کا مال بچانے کے لئے مسلح افواج کو دہشت گرد ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

کبھی بین الاقوامی اخبارات میں ’’روگ آرمی‘‘جیسے اشتہارات چھپوائے جاتے ہیں، کبھی ڈان لیکس ون سازش کی جاتی ہے، کبھی ممبئی حملہ کیس کے حوالے سے ڈان لیکس ٹوکے ذریعے قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے پر کاری وار کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان کی سالمیت کے خلاف اٹھنے والی آوازیں ’’اتفاق‘‘ نہیں ہیں، بلکہ اس خطے کو Re-Design کرنے کی سازش ہے، پاکستان کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی سازش ہے، پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا کر پاکستان کو بھکاری ملک بنا کر اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل پاکستان سے باہر محفوظ کرنے والے لٹیروں کے بچے فخر سے کہتے ہیں: ’’ہم تو پاکستانی نہیں ہیں‘‘۔ پاکستان ان کا وطن نہیں ہے، ایک شکار گاہ ہے اور ہم پاکستانی ان کا شکار۔

المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے یہ دشمن سب کچھ جمہوریت بچانے کے نام پر کر رہے ہیں۔ نعرہ لگاتے ہیں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ لیکن خود ووٹرز کی کھال سے جوتے بنا کر پہنتے ہیں۔ جمہوریت میں حکومت ایک امانت ہوتی ہے، جمہوریت میں حکمرانوں کا مقصد حیات عوام کی فلاح و بہبود ہوتا ہے، جمہوریت میں مملکت کی باگ ڈور ایماندار، قابل، منصف مزاج افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، لیکن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کہنے والوں نے سیاست کو تجارت اور کمائی کا ذریعہ بنایا۔

ان حکمرانوں کے نزدیک دیانتداری ایک گناہ تھا، اہلیت ایک جرم تھی، انہیں دیانت داری اور دیانتداروں سے نفرت تھی۔ رشوت اور رشوت کے سہولت کاروں سے محبت تھی۔

یہ ٹولہ ریاست کے اختیارات پر اداروں کے اختیارات پر اپنے ذاتی اختیارات کی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش میں رہا۔ منتخب اداروں کو ذاتی مفاد کے حصول کے لئے استعمال کیا۔

انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی سے نبی آخر الزماںؐ کا نام حذف کرنے کی ناپاک کوشش کی، اگر یہ ہو جاتی تو پاکستان کے قیام اور وجود کی نفی ہو جاتی۔ یہ ’’پاکستان کا مطلب کیا‘‘ کے نعرے سے محروم اور بے معنی کر دینے کی سازش تھی۔ اس پر عمل کرنے کے لئے ٹرمپ نے کہا ہوگا، مودی نے کہا ہوگا، نیتن یاہو نے کہا ہوگا۔ اپنی لوٹ مار کے تحفظ کے لئے کسی کا کوئی بھی حکم ماننے کے لئے تیار ہیں، یہ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، قوم کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، تاریخ عالم گواہ ہے کہ زندہ قوموں نے ہمیشہ اپنے نقشے اور سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ یہ لٹیرے پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں، بے یقینی کی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ’’کالی ہواؤں‘‘ کو اندر آنا آسان ہو جائے۔

جس طرح ختم نبوتؐ کا حلف نامہ دوبارہ بحال تو کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا۔ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔

اسی طرح چیئرمین P&D جہانزیب کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی کی رپورٹ اور ذمہ داروں کے نام، جنہوں نے نصاب میں تبدیلی کی تھی، سامنے نہیں لائے گئے، لیکن یہ کوشش جاری رہے گی۔

توہین رسالتؐ کا قانون تبدیل کرنا بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہے، کئے گئے وعدوں میں سے ایک وعدہ ہے۔ جن کے ساتھ یہ دعوے کئے گئے، وہاں پر دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے ’’ہولو کاسٹ‘‘ کو ایک بنائی گئی کہانی کہنا تو دور کی بات ہے، مرنے والوں کی تعداد کم کر کے کہنا اور لکھنا بھی جرم ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور مغربی دنیا کا ٹارگٹ ناموس رسالتؐ اور تحفظ ختم نبوتؐ ہے اور رہے گا۔اب ذرا اس حوالے سے مذہبی حلقوں کا ردعمل بھی دیکھ لیں۔

علماء اور مشائخ کا ردعمل افسوسناک بلکہ شرمناک رہا۔ گدی نشینوں نے اللہ معاف کرے تحریک ختم نبوتؐ کے نام پر ایک شو فیصل آباد میں کیا۔ ایک شو گوجرانوالہ میں، ایک شو لاہور میں اور اس کے بعد کمیٹی بنادی گئی۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جس مسئلے پر کمیٹی یا کمیشن بنا دیا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ’’مٹی پاؤ جی‘‘۔

در اصل ہوا یہ تھا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا کہ تمام مزارات اور وابستہ جائیدادیں اوقاف کی ملکیت میں لے لی جائیں گی۔

یہ تو تھی خانقاہی نظام کی اوقات۔ایسا ہی حال علماء کا تھا۔عالم دین فرماتے رہے۔ حلف نامے کی اصل شکل بحال کر کے مسلمانوں کی امنگوں اور خواہشات کا احترام تھا؟ وزراء فرماتے رہے کہ غلطی اور لغزش کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ جناب والا چوری ہو چوری پکڑی جائے، چور پکڑے جائیں، مال مسروقہ برآمد ہو جائے تو کیا یہ وجہ اور دلیل بن جاتی ہے، چونکہ مال واپس ہو گیا ہے لہٰذا چور کو چھوڑ دیا جائے۔

حلف نامے کی تبدیلی ایسا نقصان ہے جس کا سامنا انتخابات میں ہر امیدوار کو کرنا ہوگا۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ جس خاک سے ہمارا خمیر اٹھا ہے، اس خاک کو بے حرمت نہیں ہونے دینا، نہیں ہونے دیں گے، اس خاک کی مہک کو اپنے سانسوں میں بسانا ہے، اس کے دریاؤں کے ترنم کو بے تال نہیں ہونے دینا، اسے ان حکمرانوں کے سائے سے بھی محفوظ رکھنا ہے، جن کے لئے پاکستان ایک چراگاہ ہے اور عوام ان کا چارہ ہیں۔ ہم نے اس دھرتی پر بسنے والے مجبور اور غریب عوام کی آنکھوں میں بسنے والے خوابوں کو مرنے نہیں دینا۔

انہیں قابل احترام زندگی کا حق دینا ہے، آنے والی نسلوں کے لئے پاکستان کو خوش حالی، خود انحصاری کا گہوارہ بنانا ہے۔ ان شاء اللہ۔

مجھے یہ فکر نہیں کہ سر رہے، سر رہے یا نہ رہے

میں سچ ہی کہتا ہوں جب بولنے پر آتا ہوں

مزید : رائے /کالم