بنی گالا سے بھی پی ٹی آئی کا وجود ختم ہو جاتا

بنی گالا سے بھی پی ٹی آئی کا وجود ختم ہو جاتا
بنی گالا سے بھی پی ٹی آئی کا وجود ختم ہو جاتا

  

فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی کے ہوتے ہوئے بلا ول بھٹو کیوں پوچھتے ہیں کہ نون لیگ کے کارکنوں اور قیادت کو ایک پرامن ریلی کیوں نہیں نکالنے دی گئی ہے ؟ اس کا جوب تو انہیں یہ دو حضرات بھی دے سکتے ہیں کہ اگر نون لیگ کو نواز شریف کی آمد پر کھل کر ریلی نکالنے دی جاتی تو آج بنی گالا سے بھی پی ٹی آئی کا وجود ختم ہو جاتا۔

منصوبہ بندی کرنے والوں کی پلاننگ یہ تھی کہ لاہور سے باہر کے شہروں سے کوئی ریلی نواز شریف کے استقبال کے لئے نہ پہنچنے دی جائے کیونکہ اگر سنٹرل پنجاب، ساؤتھ پنجاب اور نارتھ پنجاب سمیت پشاور اور سندھ سے لوگوں کو بلا روک ٹوک لاہور پہنچنے دیا جاتا تو نواز شریف کے استقبال کی ریلی کا رش دو روز تک نہ ٹوٹتا اور بار ش کے پانی کی طرح لاہور کی سڑکیں استقبالی گاڑیوں اور کارکنوں کے ہجوم سے اٹی رہتیں۔

یہی وجہ ہے کہ جونہی شام ڈھلی نہ صرف لاہور کے داخلی راستوں بلکہ اندرون شہر بھی جہاں جہاں کنٹینر لگائے تھے ، ہٹا لئے گئے کیونکہ پلاننگ کرنے والوں کو تسلی ہو گئی تھی کہ اب کوئی قافلہ لاہور کے باہر سے نہیں آسکے گا اور اگر آیا بھی تو رات کے اندھیرے میں ٹی وی کیمروں کے لئے ان کے مجموعی تاثر کو ناظرین تک پہنچانا آسان نہ ہوگا۔ 13مئی کو لاہور شہر کی مال روڈ پر نواز شریف کے استقبال کی ریلی نے پی ٹی آئی کی پُنگی بجادی ہے ، پِیں تو خیر اس کی پہلے ہی بولی ہوئی تھی ۔ اب اگر ایسے میں انتخابات سے قبل نواز شریف کی ضمانت منظور ہوگئی تو اسلام آباد میں بھی ایک ایسی ہی ریلی وٹ پر پڑی ہوئی ہے ۔

قائد اعظم کی آواز پر گھربار چھوڑ کر پاکستان بنانے والوں کی اولادیں نواز شریف کی کال پر پاکستان بچانے نکل کھڑی ہوئی ہیں! ....بلاشبہ نواز شریف کی واپسی ٹارزن کی واپسی سے کم نہیں ہے، پی ٹی آئی والے معترض ہیں کہ نواز شریف ایسے آئے ہیں جیسے ورلڈ کپ جیت کر آرہے ہوں۔ حالانکہ نواز شریف جس مقصد کے لئے آئے ہیں وہ ورلڈ کپ جیتنے سے کہیں بڑا مقصد ہے، وہ عوام کے حق حاکمیت کا بول بالا کرنے کے لئے آرہے ہیں ، پاکستان میں اسٹیٹس کو کی قوتوں کو للکارنے کے لئے آئے ہیں ، یہ تو اتنا بڑا مقصد ہے کہ اگرتھوڑی سی سیاسی سوجھ بوجھ ہوتی تو خود عمران خان کو بھی ان کے اسقبال کے لئے ایئرپورٹ پر جانا چاہئے۔ جیسے بلاول بلبلا اٹھے ہیں کہ فیصلے کے بعد نواز شریف کی گرفتاری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن نون لیگ کے کارکنوں اور لیڈروں کو پرامن ریلی نکالنے سے روکنے کا مطلب سمجھ میں نہیں آتاہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی پر اور ان کی نگران حکومت پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری کھو بیٹھے ہیں اور بھارتی اداکار عامر خان کے ہمشکل ہونے کے ناطے خود ڈاکٹر عسکری خلائی مخلوق محسوس ہونے لگے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کارٹونسٹ جاوید اقبال ان کا ایک کارٹوں بنائیں اور ان کے گلے میں بھی ایک ٹیپ لٹکادیں ، سمجھنے والے خود ہی سمجھ جائیں گے۔ڈاکٹر حسن عسکری نے نگران حکومت کے تصور کو بری طرح ٹھیس پہنچائی ہے ، آئندہ لوگ انتخابات سے قبل ایسی کسی نگران حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے جس میں وہ یا ان جیسے لوگ شامل ہوں۔

13جولائی کی ریلی نے اس پراپیگنڈے سے بھی ہوا نکال دی ہے کہ مریم نواز اپنے والد کے حلقہ 125سے بھاگ کر حلقہ 127میں پناہ لے بیٹھی ہیں کیونکہ یہاں پر پی ٹی آئی کی یاسمین راشد کی پوزیشن بہت مستحکم ہے۔

یہ پراپیگنڈہ اس لئے دم توڑگیا ہے کہ نون لیگ نے نواز شریف کے استقبال کے لئے ریلی بنائی ہی اس حلقے سے ہے۔ لوہاری گیٹ سے تین بجے سہ پہر شروع ہونے والی ریلی رات نو بجے تک حلقہ 125میں گھومتی رہی جس کے گلی کوچوں سے لوگ جوق در جوق نکل کر اس میں شامل ہوتے رہے اور مخالفین کو بھی کہنا پڑا کہ نون لیگ نے لاہور میں اپنی مقبولیت کو ثابت کردیا ہے۔

پنجاب کی نگران حکومت کو فی الفور مستعفی ہوجانا چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو الیکشن کمیشن کو ایکشن لیتے ہوئے پنجاب کی نگران حکومت کو برطرف کردینا چاہئے۔

اسی حلقے میں کھڑے ہوکر معروف ٹی وی اینکر طلعت حسین نے 13جولائی کی شام اپنا پروگرام ’نیا پاکستان ‘ریکارڈ کروایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ریلی کے شرکاء کی تعداد 50,000 سے تجاوز کر چکی ہے لیکن نادیدہ ہاتھوں نے وہ پروگرام ہی آن ایئر نہ ہونے دیا جس طرح عاصمہ شیرازی کی جانب سے لیا گیا نواز شریف کا انٹرویو نشر نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ چنانچہ 13جولائی کی

ریلی ڈاکٹر یاسمین راشد کے لئے ضرور سوہان روح ثابت ہوئی ہوگی کہ انہیں 25جولائی سے پہلے ہی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوگیا ہوگا۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ اگرنواز شریف کی نااہلی کے بعد ضمنی انتخابات میں ووٹروں کو تنگ نہ کیا جاتا اور انہیں ووٹ ڈالنے میں آسانی بہم پہنچائی جاتی تو بیگم کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے درمیان ووٹوں کا فرق 2013کے عام انتخابات سے بھی زیادہ ہوتا لیکن تب مینج کرنے والوں نے مینج کیا ، حالانکہ حلقے میں عمران خان کا عوامی جلسہ اس درجہ ناکام تھا کہ جیل روڈ پر ہونے والے اس جلسے میں پڑی کرسیوں کی بڑی تعداد ایسی تھی جنھیں ان فولڈ ہی نہیں کیا گیا تھا اور وہ مختلف ڈھیریوں کی صورت میں جگہ جگہ پڑی ہوئی تھیں۔ جلسوں میں کرسیوں پر بندے چڑھے تو آپ نے اکثر دیکھے ہوں گے لیکن کرسیوں پر کرسیاں چڑھی اس جلسے میں پہلی مرتبہ دیکھی جا سکتی تھیں۔

پانامہ کے مقدمے میں اقامہ کی بنیاد پر نکالے جانے پر بھی نواز شریف نے وزیر اعظم ہاؤس خالی کیا تھا تو جی ٹی روڈ انسانی سروں سے بھر گیا تھا ، حالانکہ وہ بھی سزا ہی تھی لیکن وہ سزا بھی نواز شریف کے لئے ایک انعام بن گئی تھی ، تجزیہ کار کہتے پائے جاتے تھے کہ نون لیگ حکومت میں ہے اور نواز شریف اپوزیشن میں ہیں۔

عوام میں ان کی بے پناہ پذیرائی کا مظہر تھا کہ ان کی جانب سے ’مجھے کیوں نکالا ‘کی تکرار ایک نعرہ مستانہ بن گئی تھی ، اس کے بعد جب نوا ز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا تو اس کا جادو بھی سر چڑھ کر بولا تھا۔ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اس نعرے کے سامنے عمران خان کے ’دو نہیں ایک پاکستان ‘کے نعرے کی کوئی پذیرائی ہے ؟نواز شریف کے ساتھ عوام کی ہمدردی کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنا ووٹ نواز شریف کو ہی دیں گے خواہ انہیں اس کی قبر پر جا ہی اپنا ووٹ کیوں نہ دینا پڑے ۔

نواز شریف کا پاکستانی عوام نے تب نوٹس لیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ڈکٹیشن نہیں لوں گا اور آج ان کی مقبولیت کا نقطہ عروج ہے جب وہ مجھے کیوں نکالا پوچھتے ہوئے ووٹ کو عزت دو کی آواز لگاتے پھر رہے ہیں۔

نون لیگ کے حامیوں کو اپنے ووٹ پر اعتبار قائم رکھنا ہے اور اس وسوسے کو دل میں جگہ نہیں لینے دینی ہے کہ خلائی مخلوق الیکشن کو مینج کرلے گی کیونکہ بقول لیفٹنٹ جنرل (ر)اسد درانی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہر اندازہ لگاسکتی ہیں، لیکن اگر کسی چیز کا اندازہ نہیں لگاسکتیں تو وہ عوام کا موڈ ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم