عدلیہ کا تاریک دور (2)

عدلیہ کا تاریک دور (2)
عدلیہ کا تاریک دور (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملتان واپس جاتے ہوئے جہاز پر میرے ساتھ جسٹس نذیر صدیقی مرحوم اور ایک فوجی جنرل بیٹھے ہوئے تھے (جن کا نام مجھے یاد نہیں آ رہا) مَیں اور نذیر صدیقی مرحوم باتیں کرتے رہے جو اس وقت وکیل تھے۔

وہ مجھے بتا رہے تھے کہ سپریم کورٹ نے ایک شخص کو میرے فیصلے پر ریلیف دی۔جب ہم جہاز سے اُترے تو مَیں وی آئی پی روم کی طرف گئی تو نذیر صدیقی مرحوم پیچھے رہ گئے۔ مَیں سامان کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ وہ میرے پاس آ کے بیٹھ گئے اور بتانے لگے وہ جنرل اسے بتا رہے تھے اس خاتون جج کو دیکھنے کا بڑا اشتیاق تھا۔ مَیں نے پوچھا کہ اُنہیں چیف جسٹس کیوں نہیں بنایا؟ کہنے لگے انٹیلی جنس کی رپورٹ تھی کہ یہ بڑی سخت مزاج جج ہے، کسی کی نہیں مانے گی نیز اس کے بے نظیر بھٹو سے دوستانہ تعلقات ہیں۔ مَیں گھر میں آ کے سوچتی رہی کہ مَیں نے ایسا کون سا کام کیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ سوچا کہ میرے بے نظیر صاحبہ سے قریبی مراسم ہیں۔

تب مجھے یاد آیا مَیں اپنی بیٹی کو ملنے دبئی گئی تھی ایک دن مَیں ایک بہت بڑے مال برجمان میں گھوم رہی تھی کہ اچانک دو خواتین سامنے سے گزریں دونوں نے کالا عبایا پہنا ہوا تھا۔

میری بیٹی نے کہا یہ لالے (لالے بی بی کی کزن تھی) اور محترمہ بے نظیر بھٹو جا رہی ہیں۔ مَیں اپنی نواسی کی پرام کے ساتھ محترمہ بے نظیر صاحبہ سے جا کے ملی۔

بے نظیر صاحبہ نے کہا فخر النساء آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مجھے پتہ چلتا ہے کہ آپ عدلیہ میں بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ اگر مَیں آپ کو ڈنر پر بلاؤں گی کیا آپ آؤ گی؟ مَیں نے کہا جی ضرور آؤں گی۔ دوسرے دن بی بی کی سیکرٹری کا فون آیا کہ انہوں نے رات کو مجھے ڈنر پر بلایا ہے۔

مَیں بی بی کے گھر پہنچی تو میرے علاوہ اور بھی لوگ موجود تھے۔ بی بی آئیں اور ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد ہمیں کھانے کے ٹیبل پر بلایا اور مجھے کہا کہ تم میری دائیں طرف بیٹھو۔ بی بی مجھ سے عدلیہ کے بارے میں پوچھتی رہی کہ کیا عدلیہ آزاد ہے؟ کھانے کی میز پر میرے علاوہ کئی اور مہمان تھے، جن میں سے کچھ ان کے احباب اور کچھ رشتہ دار تھے۔

مَیں نے ان کے اندر وطن کے لئے تڑپ دیکھی۔ وہ کہنے لگیں کہ مَیں پاکستان واپس آنا چاہتی ہوں۔ مَیں نے ان سے کہا کہ بی بی مت آنا، ابھی عدلیہ اتنی مضبوط نہیں کہ وہ ایک آمر کا مقابلہ کر سکے۔ بی بی نے باتوں کا رخ موڑ دیا، کہنے لگیں فخر النساء How do you feel getting old? ’’جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے کیا محسوس کرتی ہو‘‘؟ مَیں نے شرارت سے کہا کہ بی بی اولڈ اِز گولڈ۔ بی بی کہنے لگی کہ میرے اندر جیسے جیسے وقت گزر رہاہے خیالات کی پختگی اور صبر آ گیا ہے۔مَیں زندگی کو اور طرح سے دیکھ رہی

ہوں۔ پہلے کی بے نظیر اور آج کی بے نظیر کی سوچ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ بی بی مختلف ڈشیں اُٹھا اُٹھا کر مجھے دیتی رہیں اور ہم کوٹ لکھپت جیل میں پرانی باتیں یاد کر کے ہنستے مسکراتے رہے۔

میرے ساتھ میری بیٹی بھی ان سے ملنے گئی تو وہ کہنے لگی کہ اِس کو گھر میں مت بٹھانا ہماری پاکستانی نوجوان خواتین بہت قابل ہیں اور اُنہیں پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

وہ خواتین کے کام کرنے کے حق میں تھیں۔ بی بی مجھے دروازے پر چھوڑنے آئیں اور حسبِ عادت مجھے ایک چاکلیٹ کا ڈبہ دیا۔باہر سڑک کے دوسری طرف ایک آدمی مصلّا بچھا کر تسبیح کر رہا تھا۔ مَیں نے بی بی سے پوچھا یہ کون ہے۔

بی بی نے کہا مشرف کا خدائی خدمت گار ہے۔ مجھے یہ ملاقات یاد آ گئی اور اب سمجھ آئی کہ مجھے چیف جسٹس نہ بنانا صرف صنفی تعصب ہی نہیں تھا، بلکہ اور وجوہات بھی تھیں۔

ایک تو مَیں سرائیکی علاقے سے منتخب ہو کے آئی تھی اور لاہور کی بڑی مضبوط لابی تھی اور دوسرا میری بے نظیر بھٹو سے ذاتی دوستی تھی،لیکن مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جب میرے ساتھ ناانصافی ہوئی تو پورے پاکستان کے وکلاء نے میرا ساتھ دیا۔

اس اقدام سے مجھ سے زیادہ مُلک کی ساکھ کو نقصان پہنچا، کیونکہ بعد میں جب مَیں بحیثیت صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن وفد لے کر انڈیا گئی تو وہاں ہر جگہ انڈیا کا پریس مجھ سے یہ سوال کرتا تھا کہ آپ کو خاتون ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نہیں بنایا گیا۔

مَیں ان کو ایک ہی بات کرتی تھی کہ میرا چیف جسٹس نہ بننا ایک ادارہ کا فیصلہ تھا اور یہ ہمارا اندرونی معاملہ تھا۔اس میں خاتون ہونے کا کوئی تعصب نہیں تھا اور مَیں ان کو کہتی تھی کہ آپ دیکھ لیں مَیں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی منتخب خاتون صدرہوں اِس سے پہلے محترمہ رابعہ قاری صاحبہ بلامقابلہ الیکشن لڑ کر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن تھیں۔ لہٰذا آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کو دبایا جاتا ہے۔ مَیں اور کہہ بھی کیا سکتی تھی۔

جسٹس افتخار حسین چودھری چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بن چکے تھے اور مَیں سینئر پیونی جج لاہور ہائی کورٹ کے طور پر ان کے ماتحت کام کر رہی تھی۔ کہنے کو تو مَیں سینئر جج تھی،لیکن سینئر جج کی تمام مراعات اور اختیارات مجھ سے لے لئے گئے تھے۔

اتنے سال سخت محنت کرنے کے بعد بھی چیف جسٹس افتخار حسین چودھری نے مجھے سکون سے کام نہیں کرنے دیا۔

جب کچھ نہ بن پڑا،انہوں نے میرے پاس کیسز ہی لگانے چھوڑ دیئے، چند کیسز لگتے تھے جو مَیں منٹوں میں بھگتا دیتی تھی۔میرا عملہ جو کہ عموماً رات آٹھ بجے تک کام کرتا تھا اب وہ فارغ بیٹھا رہتا تھا۔ یہ مجھے سائیڈ لائن کرنے کا ایک اچھا طریقہ تھا۔مجھے یہ بتایا جا رہا تھا کہ مَیں سینئر ترین جج ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکتی ہوں۔ اصل میں وہ بتانا چاہتے تھے کہ مَیں کیسز کی ڈسپوزل نہیں دے رہی ہوں یہ ذہنی اذیت دینے کا ایک طریقہ تھا کہ ایک تجربہ کار جج کو کام نہ کرنے دو۔

مَیں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا، جس کی وجہ سے میری لاہور ہائی کورٹ میں کاز لسٹ پھر بحال کر دی گئی۔میرے خیال میں یہ عدلیہ کا سیاہ ترین دور تھا۔ جسٹس افتخار حسین چودھری مجھے Supercede کر کے چیف جسٹس بن گئے تھے

۔رولز اور ریگولیشن کی دھجیاں اُڑا دی گئی تھیں۔ وہ عملے کی بہت سی بدعنوانیوں کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ صدر پرویز مشرف کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ عدلیہ ایک آرمی کا ڈویژن نہیں ہے۔

یہ ایک بہت مقدس ادارہ ہے یہاں منصف کے ہاتھ میں زندگی اور موت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں اگر بدعنوانی کو فروغ دیا جائے تو معاشرہ کا انتشار بڑھ جاتا ہے۔

پھر ججز کے درمیان ایک چھوٹا سا بھونچال آیا اور چیف جسٹس خلیل الرحمن صاحب نے ان بیس ججز کو جن کی تقرری 1994ء میں ہوئی تھی،میں سے صرف 13 ججز مورخہ 30 ستمبر 1996ء کو دوبارہ مستقل کنفرم ہوئے تھے۔

اس طرح سنیارٹی کی لسٹ بھی بنائی گئی تھی،جس میں جسٹس محمد آصف جان، جسٹس امیر عالم خان، جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری، جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے بعد سنیارٹی کی لسٹ میں تھے۔ جسٹس محمد نواز عباسی ریٹائر ہو گئے تھے۔

ان کی تقرری بطور مستقل جج سپریم کورٹ9 اکتوبر 1996ء میں ہوئی۔21 اپریل 1998ء کو فیڈرل لاء منسٹری نے لاہور ہائی کورٹ کو اطلاع دی کہ جو جج 9اکتوبر 1998ء کو جج بنے ان کی سنیارٹی ان کی تقرری کے دن سے شمار ہو گی اور ان کی تقرری بطور ایڈیشنل جج 9 اکتوبر 1998ء سے شمار ہو گی اور جس دورانیہ میں انہوں نے کام نہیں کیا، یعنی 26اکتوبر 1992ء سے لے کر مذکورہ تاریخ تک ان کی تنخواہ واجبات اور سہولیات نہیں ملیں گی۔

جسٹس امیر عالم خان اور جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری نے منسٹری کے اس لیٹر کو چیلنج کر دیا، مَیں نے بھی اس امر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سنیارٹی کی کنفرمیشن 1994ء کے بیج کی پہلی کنفرمیشن سے شمار ہو گی،جبکہ مَیں اور دیگر ججز جون 1995ء میں کنفرم ہوئے،جسٹس محمد آصف جان اور جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری مارچ 1996ء میں کنفرم ہوئے اور جسٹس محمد نواز عباسی کی سنیارٹی صرف اور صرف اکتوبر 1996ء سے شمار ہو گی جو بھی قانونی پریکٹس ہوتی ہے وہ جوڈیشل سروس میں استعمال نہیں ہوتی۔چیف جسٹس خلیل الرحمن رمدے صاحب کو ایسا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے کہ وہ سنیارٹی کو دوبارہ تعین کریں۔ میری پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر ہو گئی۔

پھر ایسا ہوا کہ جسٹس فلک شیر صاحب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بنے اور جسٹس محمد آصف خان اکتوبر میں ریٹائر ہوئے اور جسٹس امیر عالم خان دسمبر میں۔جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری صاحب نے چیف جسٹس بننا تھا، مگر اُنہیں انتہائی ہوشیاری سے سپریم کورٹ کا ایڈیشنل جج بنا دیا گیا اور میری باری آئی تو جسٹس افتخار حسین چودھری کو نچلی پوزیشن سے اُٹھا کر مخصوص مفادات کے پیشِ نظر چیف جسٹس بنا دیا گیا اور اس طرح یہ عدلیہ کا سیاہ ترین دن اور فیصلہ تھا۔ پورے مُلک میں ایک شور برپا ہوا اور قانونی اور پارلیمانی حلقوں میں ایک ہلچل مچی کہ ایک سینئر ترین جج کو جس کے دو سو سے زائد Landmark فیصلے قانون کے رسالوں میں Reported تھے PLD 2000 SC 939 بعنوان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بنام فیڈریشن آف پاکستان وغیرہ جس میں یہ ہولڈ کیا گیا تھا کہ صرف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج چیف جسٹس ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعینات ہو سکتا ہے، کو بُری طرح نظر انداز کر دیا گیا۔

مَیں سوچتی ہوں کہ اگر سپریم کورٹ ان پٹیشنز کا فیصلہ میرٹ پر کر دیتی تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ججز کی سنیارٹی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے Determined ہو جاتی اور کبھی بھی کسی جج کو کسی طرح ناانصافی کا شکار نہ ہونا پڑتا اور نہ ہی عدالت کے اندر انصاف میں تاخیر ہوتی۔ یہ ہے عدالت کے اندر انصاف میں تاخیر۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم