فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے لاہور اور کراچی میں جدوجہد جاری

فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے لاہور اور کراچی میں جدوجہد جاری

لاہور(فلم رپورٹر)فلم انڈسٹری بلا شبہ ابلاغ کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی فلم انڈسٹری کا شمار خطے کی بہترین انڈسٹریوں میں ہوتا تھا۔اس وقت فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے لاہور اور کراچی دونوں شہروں میں جدوجہد جاری ہے کوئی کام تنزلی کا سفر شروع ہونے پر بھی کافی وقت لے جاتا ہے، چار دہائیاں قبل تک پاکستان میں بننے والی فلموں کی مقبولیت قائم تھی، جس فلم کو لوگ پسند کرتے وہ کئی کئی ہفتے ایک ہی سینما گھر کی زینت بنی رہتی، اسی بات کو اس کی تشہیر کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ بہت سے فلمی اداکار قومی ہیرو کا روپ دھار چکے تھے، ان کے نام کو ہی فلم کی کامیابی کی ضمانت قرار دیا جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا معیار قائم نہ رکھا جاسکا۔ شاید وہ لکھنے والے نہ رہے، دل کو موہ لینے والے موسیقار بھی چلے گئے، وہ ڈائریکٹر بھی نہ رہے۔ اور بالآخر وہ اداکار بھی نہ رہے، جنہیں لوگ دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ نہیں کہ نئے لوگ اس میدان میں نہیں آئے، بلکہ وہ حقیقی معانوں میں پرانے لوگوں کی جگہ پْر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جو کچھ بھی ہوا، سینما خالی ہونے لگے اور وقت آیا کہ ویرانیوں نے وہاں ڈیرے ڈال دیئے، اب صرف ان کی باقیات ہی رہ گئی ہیں۔پاکستان میں فلمیں مقبولیت کا ریکارڈ ضرور قائم کرتی رہیں، مگر ایسا نہیں ہوا کہ فلم کے ذریعے قوم کو کوئی راہ دکھائی گئی ہو، یا قوم کی رہنمائی کی گئی ہو، حتیٰ کہ ماحول اور معاشرے کی حقیقی ترجمانی بھی فلم میں کم ہی دیکھنے کو ملی۔ فلم کی یہ مجبوری ضرور ہے کہ مبالغہ کا بہت عمل دخل ہوتا ہے، مگر صرف مبالغہ یا گلیمر کے چکر میں فلم بنانے سے قوم کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ پاکستان میں ایسی فلموں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے، جن کو لوگ تاریخ، سبق یا اصلاح کی ذیل میں یاد رکھتے۔

فلمی صنعت کی بحالی کا سفر تو شروع ہوچکا ہے لیکن تا حال کراچی میں بننے والی والی کسی بھی فلم نے گولڈن جوبلی یا پلاٹینم جوبلی ہونے کا اعزاز حاصل نہیں کیا ہے فلمی صنعت سے وابستہ کچھ سینئرز کا یہ کہنا ہے کہ فلم ایک بار پھر لاہور واپس آئے گی کیونکہ لاہور ہی حقیقی فلم نگری ہے۔

مزید : کلچر