پی ٹی آئی اور (ق) لیگ کا اتحاد کارکنو ں نے مسترد کر دیا ، بڑے برج الٹ سکتے ہیں

پی ٹی آئی اور (ق) لیگ کا اتحاد کارکنو ں نے مسترد کر دیا ، بڑے برج الٹ سکتے ہیں

مسلم لیگ( ق) اور پی ٹی آئی کا گجرات میں اتحاددونوں پارٹیوں کے کارکنوں نے مسترد کر دیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی کامیابی مشکوک ہو گئی ایک سروے کے مطابق چوہدری برادران نے انتخابات سے قبل اپنی مرضی سے اپنی ہی جماعت کے سابق ممبران اسمبلی و رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ دلوائے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے قریبی ترین حریف الحاج محمد افضل گوندل کو ٹکٹ سے محروم کر دیا اور اسی طرح چوہدری زبیر ٹانڈہ جنہوں نے عمران خان کا حلقے میں سب سے بڑا جلسہ کرایا تھا کو پی پی 28سے ٹکٹ سے محروم کر دیااور ان کے مدمقابل ق لیگ کے امیدوار شجاعت نواز اجنالہ کو میدان میں اتار دیا اس طرح چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے راستے کے تمام روڑے انتخابات سے قبل ہی ہٹا دیے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو یہ عمل پسند نہ آیا اسکے باوجود کہ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے سب سے دیرینہ حریف چوہدری سرور جوڑا کے صاحبزادے چوہدری سلیم سرور جوڑا کو ٹکٹ لیکر دی مگر ان کے مدمقابل گجرات کے معروف سیاسی خاندان کے چشم و چراغ سابق وزیر تعلیم میاں عمران مسعود کو انتخابات میں کھڑا کر کے دستبردار کرا دیا جو ان دنوں پی ٹی آئی کے امیدوار صوبائی اسمبلی سلیم سرور جوڑا کے سٹیج سیکرٹری بنے ہوئے ہیں پہلے لوگ ان کے سٹیج سیکرٹری بنتے تھے مگر زندگی میں یہ ریکارڈ بھی انکے اعزاز میں ہونا لکھا گیا ہے میاں عمران مسعود کا بلاشبہ ایک اپنا ووٹ بینک موجود ہے جنہوں نے اس عمل کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے اس صوبائی حلقہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار سلیم سرور جوڑا کو ان کے ساتھی بھی خیر آباد کہہ کرآزاد امیدوار اورنگزیب بٹ کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں مسلم لیگ ن کی طرف سے حاجی عمران ظفر امیدوار ہیں اور ان کے چچا حاجی ناصر محمود کی کارکردگی سے عوام سخت نالاں ہیں مگر اسکے باوجود وہ پی ٹی آئی کے امیدوار سلیم سرور جوڑا کو ٹف ٹائم دیں گے یہ امر قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے قریبی ساتھی مدثر مچھیانہ ‘ علیم الدین گورالی ‘ عمر فاروق بٹ‘ مہر امتیاز احمد‘ افتخار احمد سماں‘ الحاج محمد گوندل پی ٹی آئی کے رہنما ہیں مگر وہ سلیم سرور جوڑا کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کا موقف ہے کہ سلیم سرور جوڑا چوہدری پرویز الٰہی کو فائدہ پہنچانے کی بجائے انہیں نقصان پہنچا رہا ہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کی پارٹی کے کارکنوں کا موقف ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو ہرگز ووٹ نہیں دینگے مگر ایک شخصیت ایسی ہے جو غیر متنازعہ ‘ باکردار ‘ اور عوامی خدمت کے جذبہ سے حقیقی معنوں میں سرشار ہے ایم ایم اے کے ضلعی صدر ڈاکٹر طارق سلیم کامیابی کے لیے تمام تر وسائل استعمال کر رہے ہیں جبکہ تمام مذہبی جماعتیں جو ایم ایم اے میں شامل ہیں یا نہیں ڈاکٹر طارق سلیم کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں گجرات میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ سب سے زیادہ ہے پی ٹی آئی اور ق لیگ کی نفرت کا ووٹ بھی ڈاکٹر طارق سلیم اور اورنگزیب بٹ کو ملے گا جن کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے حلقہ این اے 69سے چوہدری پرویز الٰہی امیدوار ہیں اور انہوں نے اپنے راستے کے تمام پتھر ہٹا دیے مگر ان کے قریبی عزیز چوہدری مبشر حسین ن لیگ کے پلیٹ فارم سے ان کے مدمقابل ہیں چوہدری پرویز الٰہی نے اب تک ووٹروں سے رابطہ نہیں کیا البتہ افطار پارٹیاں دیکر انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ لوگ ان کو ووٹ دیں ویسے بھی وہ عیدین کے موقع پر گجرات میں نظر آتے ہیں باقی عرصہ وہ لاہور میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی بھی ‘ یہ علیحدہ بات ہے کہ مسلم لیگ ن جو ان دنوں احتساب کا شکار ہے اور وہ انتخابات میں وہ گہما گہمی پیدا نہیں کر سکی جو اس سے قبل ہوتی تھی ایسے لگتا ہے کہ میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور ایک ہی پہلوان مدمقابل پہلوان نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جیت کا اعلان کر رہا ہے حلقہ این اے 68سے چوہدری وجاہت حسین کے صاحبزادے چوہدری حسین الٰہی جو سیاست میں نومولود ہیں کا مقابلہ سینئر پارلیمنٹرین اور ن لیگ کے امیدوار نوابزادہ غضنفر علی گل سے ہے اس حلقہ میں بھی چوہدری حسین الٰہی کی پوزیشن نوابزادہ غضنفر علی گل کے مقابلے میں قدرے کم ہے لیکن چوہدری وجاہت حسین اپنے صاحبزادے کی کامیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کا ر لا رہے ہیں اس علاقے میں پی ٹی آئی کے ووٹروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ہاں البتہ برادری کے حوالے سے گجر اور جٹ کا مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے دیہی علاقے کے عوام کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کس سیاسی جماعت سے کس امیدوار کا تعلق ہے۔ اس علاقے میں گجر برادری اکثریتی برادری ہے اور انہوں نے آپس میں اتحاد کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض ووٹرز بھی نوابزادہ غضنفر علی گل کو ووٹ دیں گے کیونکہ پی ٹی آئی کے ووٹرز اپنی جماعت پر ٹریکٹر کی چھاپ نہیں لگنے دینا چاہتے ویسے بھی حالیہ الیکشن 2018میں وہ گہما گہمی پیدا نہیں ہوئی جو انتخابات کا طرہ امتیاز ہوتا ہے اور نہ ہی عوام نے ابھی تک یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے کس کو ووٹ دینا ہے۔

مزید : علاقائی