مستونگ دھماکے، میڈیا، نواز شریف کی آمد ردعمل!

مستونگ دھماکے، میڈیا، نواز شریف کی آمد ردعمل!
مستونگ دھماکے، میڈیا، نواز شریف کی آمد ردعمل!

  

جمعہ ہی کے روز کے پی کے اور بلوچستان میں دو دھماکے ہوئے، مستونگ (بلوچستان) والا خودکش حملہ تھا، اب تک کی اطلاع کے مطابق اس میں امیدوار سراج رئیسانی سمیت 129افراد شہید اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، کے پی کے میں دھماکہ غالباً ریموٹ کنٹرول تھا، جو اکرم درانی کے جلسے کے بعد کیا گیا، اس میں بھی پانچ افراد شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوگئے، اکرم درانی محفوظ رہے، اس سے پہلے ہارون بلور کی شہادت ہوئی، یہاں بھی خود کش حملہ ہوا، ان کے ساتھ اور بھی لوگ اللہ کو پیارے اور زخمی ہوئے تھے۔ جمعہ ہی کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی واپسی تھی، اب اگر ہمارے میڈیا کو ملاحظہ فرمائیں تو صبح ہی سے تمام چینلوں پر بڑے بڑے حضرات بیٹھ گئے اینکروں کے علاوہ ہر کوئی سینیٹر تجزیہ کار تھا، یہ حضرات محترم نواز شریف کی واپسی اور ان کی متوقع گرفتاری پر بات کررہے تھے، لندن سے ابوظہی اور ملک کے تمام شہروں سے رابطے تھے، رپورٹر حضرات سرگرم عمل تھے اس طرف سے خبریں مہیا کی جارہی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) والے اپنے قائد کے استقبال کے لئے کیا تیاریاں کررہے اور انتظامیہ نے امن و امان کے قیام اور ریلی کو روکنے کے کیا انتظامات کئے ہیں، یہ سارا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا، اس دوران لائیو کوریج بھی کی گئی، اس پورے دن اور رات کی براڈ کاسٹ کے دوران اگر کوئی ذکر نہیں تھا تو ان انسانی المیوں کا نہیں تھا، جو بلوچستان اور کے پی کے میں ہوئے اس سلسلے میں ہمیں بیرونی ممالک سے فیس بک اور ٹوئیٹر پر اپنے پاکستانی بھائیوں کے پیغامات پڑھنے کو ملے جو پوچھ رہے تھے کیا ایک سزا یافتہ لیڈر کے وطن آنے کی اس سنگین المیئے سے زیادہ اہمیت تھی جو ایک حساس صوبے میں ہوا جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہے، اس کے علاوہ بھی لوگوں کی رائے تھی اور ان حضرات نے تو ہمارے قومی سلامتی کے اداروں سے بھی سوال پوچھے تھے، ہم نے اپنی انگلیاں دانتوں میں داب لیں کہ ہمارے نزدیک یہ بھی حساس موضوع ہے کہ درست بات خود اپنوں کو ناراض کرسکتی ہے، اس سے مسلم لیگ (ن) والوں کو بھی دکھ ہوگا۔

بہر حال بات تو کرنا اور بتانا ہی ہے کہ اصل حقیقت آج کے دور کی معاشی اور اقتصادی مجبوریاں ہیں کہ چینل والے حضرات نے کارکنوں کو بھی ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، اس کے لئے اپنے ایک برخوردار ساتھی کی رائے درج کرنا کافی ہوگا، سوشل میڈیا پر مسلسل یہ اعتراض ہورہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی بہت کوریج ہوتی ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی ریلی اور جلسوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، اس پر ہمایوں نے کچھ یوں تبصرہ کیا’’پیپلز پارٹی والوں سے یہ بھی توکہو کہ وہ پیسے ڈھیلے کریں اور میڈیا (خصوصاً الیکٹرونک) کو اشتہار دیں، اس میں بھی مقابلہ کریں تو سب ٹھیک ہوگا‘‘ یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر جمعہ کو سارا دن نواز شریف کی آمد اور مسلم لیگ (ن) کی تیاریوں کے ساتھ عمران خان پردہ سکرین پر تھے تو ساتھ ساتھ ان کے اشتہارات بھی نشر ہورہے تھے، اب مستونگ والے بے چارے تو اشتہار دے کر اپنی اموات کا چرچاکرانے سے رہے البتہ بلاول بھٹو کی جماعت نے اشتہار دے ہی دیئے اور ان کو کوریج (حصہ بقدر جثہ) شروع ہوگئی، اس سلسلے میں ان دوستوں سے معذرت جو بلوچستان بھائیوں کے احساس محرومی کا ذکر کررہے ہیں، یہاں تو پیپلز پارٹی بھی محروم تھی۔

چلئے اب بات کرلیتے ہیں، جمعہ کو قائد مسلم لیگ (ن) کی واپسی ان کے استقبال اور انتظامات کے ’’انتظامات‘‘ کی، قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف نے جو حکمت عملی اپنائی اس سے ان کا کردار اینٹی اسٹیبلشمنٹ نظر آنے لگا، بیرون ملک ہمارے دوستوں کو اپنے نظریئے کے مطابق خوشی ہوئی کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو اس طرح کھلے بندوں چیلنج کیا گیا ہے، یہ دوست جو ماضی میں نواز شریف اور مسلم لیگ مخالف تھے اب نواز شریف کے بیانئے کی وجہ سے ان کے کردار کی تعریف کررہے اور ان کے ساتھ ہیں، یوں میاں صاحب کو ان ترقی پسندوں کی حمائت بھی مل گئی جو خود انہی کے دور اقتدار کے ستائے ہوئے بھی ہیں وہ لوگ سب بھول کر حمائت کرنے لگے ہیں، ادھر ملک کے اندر بھی مسلم لیگ (ن) بلکہ مریم نواز کے سوشل میڈیا نے جو محنت کی اس کا پھل بھی انہیں ملنے لگا، لندن سے تصویریں وائرل کی گئیں ایک تصویر وقت واپسی بیگم کلثوم نواز کی عیادت والی تھی، جو وینٹی لیٹر کی اطلاع اور بے ہوشی کے بعد والے عرصہ کی پہلی تصویر ہے،اس میں مریم کو آنسو بہاتے اور نواز شریف کو عیادت کرتے دکھایا گیا ہے( یہ الگ کہ اس وقت وینٹی لیٹر نہیں، آکسیجن کی نالی تھی) اس کے علاوہ محمد نواز شریف اور ان کی والدہ کی ایک پرانی تصویر وائرل کی گئی۔ وہ والدہ کے ہاتھ چوم رہے ہیں،اس کے ساتھ ہی والدہ محترم کا آڈیو/ویڈیو پیغام نشر ہوا ’’میں خود بیٹے کا استقبال کروں گی، اگر ان کو جیل بھیجا گیا تو میں بھی ساتھ جاؤں گی‘‘ یہ اچھی کوشش ثابت ہوئی اور ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی خصوصاً خواتین نے درد محسوس کیا۔

یوں یہ دن ایسے ہی گزر رہا تھا، ہماری عبوری حکومت اور انتظامیہ نے روائتی عمل اور بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ ہونا تو یہی تھا جو ہوا لیکن یہ تاثر ہوا کہ انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول چکے ہیں، ان اقدامات سے مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچایا گیا، ہم سپیڈو بس پر آتے ہیں، وہ بھی بند تھی، سڑکیں ویران نظر آرہی تھیں اور کنٹینروں والے ٹرالے جگہ جگہ دکھائی دے رہے تھے، جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے تو لاہو میں ایک متاثر کن مجمع اکٹھا کر لینے کے باوجود نواز شریف اور سعد رفیق اپنے اعلان کے مطابق ائر پورٹ نہ پہنچ سکے اور ریگل چوک تک محدود رہے مظاہرہ ہوا اور پھر واپسی کا اعلان کہ میاں صاحب اور مریم نواز کو منصوبہ بندی کے مطابق ہی حراست میں لے کر اڈیالہ جیل پہنچادیا گیا۔ اب نئی کہانیاں اور نئے تجزیئے ہوں گے، بہرحال تینوں قیدیوں کو رکھنے والی خبریں بھی پوری طرح سچ ثابت نہ ہوئیں۔

مزید : رائے /کالم