جیل میں ٹرائل انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ،الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو نتائج نہیں مانیں گے : شہباز شریف

جیل میں ٹرائل انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ،الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو ...

لاہور(این این آئی، آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں امن و امان خراب کرنے میں بھارت ہے ،ہماری ریلی میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا مگر ہماری سینئر قیادت کیخلاف دہشت گردی کے تحت مقدمات درج کرلئے گئے،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں پرتشدد کرنیوالوں کوایک دن کٹہرے میں لائیں گے ، جیل میں دہشت گردوں کا ٹرائل ہوتا ہے اورنوازشریف اور ان کی صاحبزاد ی کا ٹرائل جیل میں کرنے کا فیصلہ انصاف کی دھجیاں اڑانے کے متراد ف ہے،ایسا تو مشرف دور میں بھی ہمارے ساتھ نہیں کیا گیا، 1999ء میں طیارہ ہائی جیکنگ کے نام نہاد کیس میں بھی ٹرائل بھی عدالت میں ہوا تھا، اپنے قائد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی کے دفاع کیلئے اپنے تما م تر ذرائع استعمال کریں گے،ن لیگ والوں کی گرفتاری پر آواز اٹھانے کیلئے بلاول کا شکریہ ادا کرتاہوں ،الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو انتخابی نتائج کو نہیں مانیں گے،شفاف الیکشن نہ ہوئے تو سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ان کی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق ،احسن اقبال ،امیر مقام، مشاہد اللہ خان ،سلیم ضیا، مشاہد حسین سید، مریم اورنگزیب،رانا تنویر حسین ،وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سمیت دیگر شریک ہوئے ۔ اجلاس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والوں کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اجلاس کے شرکاء نے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کے استقبال کیلئے ریلی کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس جذبے کو 25جولائی تک بر قرا ررکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ شہباز شریف کا کہنا تھاکہ تمام امیدوارن اپنی انتخابی مہم پر بھرپور توجہ مرکوز کریں اور اس میں مزید تیزی لائی جائے ۔ مسلم لیگ (ن) نے 13جولائی کا معرکہ اپنے نام کیا اب 25 جولائی کا انتخاب جیتنا ہے اور اس کیلئے ہر شخص کو اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا ۔ شہباز شریف نے ہدایات دیں کہ امیدوار کارکنوں اور سپورٹروں کو 25جولائی کو گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشن تک لانے کیلئے بھرپور حکمت عملی مرتب کریں اور اس میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی وطن واپسی اور گرفتاری کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی او ر فیصلہ کیا گیا کہ غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف ہر سطح پر قانونی جنگ لڑیں گے ۔ اجلاس میں نگران حکومت کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہناتھا کہ اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا فیصلہ قانون و آئین کے متصادم ہے اور غلط ہے ۔ اس پر انتظامیہ اور حکومت کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے ، اس طرح کا فیصلہ یہ قوم کو کیا بتا رہے ہیں ۔سابق وزیراعلی پنجاب کا کہناتھاکہ کل جب میاں صاحب آئے اور اس وقت پورا لاہور سڑکوں پر تھا اور پورا پاکستان دیکھ رہا تھا کہ کس طرح لاکھوں لوگ سڑکوں پر لاہور ایئر پورٹ جانے کیلئے تڑپ رہے تھے ، ریلی میں تمام شعبوں کے لوگ شامل تھے ، اس میں لوگ اپنے بچوں کو لے کر آئے تھے ،ایک سمندر تھا عوام کا ، اگر میں یہ کہوں کہ میں اپنے سیاسی کریئر میں اتنی جوشیلی ریلی نہیں دیکھی تو یہ درست ہو گا ۔ ہمارے سینکڑوں ورکروں کو گرفتار کیا گیا ، راولپنڈی سے آنے والے کارواں کو روکا گیا ، امیر مقام پشاور سے بہت بڑا قافلہ لے کر آئے انہیں بھی روکا گیا ، میں نے اپیل کی تھی کہ یہ ریلی پرامن اور منظم ہو گی اور اللہ کے کرم ہے اور میں نوازشریف کے متوالوں کا شکریہ نہیں ادا کر سکتا کہ اتنا منظم جلوس شاید آپ نے بھی کم ہی دیکھا ہو گا ،ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا ہو گا ،ہم نے اپنے وعدے کو پورا کیا ،لاکھوں لوگوں نے میری اپیل پر اس وعدے کو پورا کیا اور ایک خراش تک نہیں آنے دی ۔شہبازشریف کا کہناتھا کہ جتنے بھی ریلی شرکاتھے انہوں نے دیکھاکہ ایک شخص کا سر پھٹا تھا اور ایک داڑھی والے شخص کی قمیض خون سے بھری پڑی تھی ، جنہوں نے یہ زیادتی کی ہے وہ قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی ، جوڑے پل اور بھٹہ چوک میں ہزار وں کارکن نوازشریف کے استقبال کیلئے کھڑے تھے پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ڈنڈے برسائے ،الٹا ایف آئی آر ان کے خلاف کاٹی گئی ، یہاں تک کہ ہماری تمام سینئر لیڈر شپ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگا کر مقدمہ درج کیا گیا ،جن میں مشاہد حسین بھی شامل ہیں جو بیچارے کسی کو ایک دھکا بھی نہیں مار سکتے ، سپیکر صاحب اور مریم اورنگریب شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ یہ بڑا خطرناک آدمی ہے ، عمران خان کی بد قسمتی ہے کہ ان کو ہر بات دس سال بعد پتا چلتی ہے ،بہت دیر ہو گئی مہرباں آتے آتے ۔ دوسری طرف پاکستان جو معمار ہیں جنہوں نے یہ عظیم الشان ریلی نکالی جس میں پاکستان کا ہر طبقہ شامل تھا ، میڈیا نے مکمل طور پر بلیک آوٹ کیا ، جنہوں نے اگست 2014میں پاکستان کی معیشت کا دھڑن تختہ کر دیا انہیں میڈیا دن رات دکھاتا رہا ،اس دوران گالیاں دیں گئی ، جس طرح کی گفتگو و ہ سب دکھایا جاتا رہا۔ یہ کس طرح کا نظام ہے کس طرح کا پاکستان ہم چاہتے ہیں ، اور جب وہاں پر آگ لگائی گئیں اور پارلیمنٹ پر دھاوا بولا گیا اور عمران خان نے کہا چلو آگے بڑھو ، پی ٹی وی میں جس طرح توڑ پھوڑ کی گئی اسے میڈیا نے چوبیس گھنٹے دکھایا ۔شہبازشریف کا کہناتھا کہ نوازشریف کے خلاف جو فیصلہ آیاہے ، وہ کہتاہے کہ نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکاہے ،اصل میں جو جھوٹے خان اور بہتان خان اور جس کی پارٹی کے اندر بدترین کرپٹ اور خائن لوگ بیٹھے ہیں ، میں ہوائی بات نہیں کرتا ٹھوس بات کرتاہوں ، جن کے خلاف نیب نہیں نیب کورٹس میں مقدمہ چل رہاہے اور جن کے خلاف سپریم کورٹ کے کمیشن کے فیصلے روز روشن کی طرح عیاں ہیں ،جنہوں نے اربوں کھربوں کی کرپشن کی ہے، جن کے جہازوں پر عمران خان سفرکرتے ہیں ۔ نیب نے خود کہا کہ نوازشریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا ،ان کے بارے میں کہا گیا کہ اب ان کا ٹرائل جیل میں ہوگا ، یہ بہت بڑا تضاد ہے ، کل پاکستان کے معماروں نے جلوس نکالا اور تمام چینلز نے اسے بائیکاٹ کیا ،میں اس کا کیا مطلب نکالوں؟انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو کہاں لے گئے ہیں، دن رات دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں ، الیکشن سرپر ہیں قیمتیں جانیں چلی گئیں ، لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے ، پاکستان کے معماروں کی ریلی کو بلیک آؤٹ کیا گیا۔ہم نے کل جو ریلی نکالی ہے وہ عظیم الشان ریلی تھی ، میں بار بار کہہ رہا تھا کہ شکریہ لوگو آپ نے میری اپیل کو سمجھا اور عمل کرتے ہوئے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ۔الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو انتخابی نتائج کو نہیں مانیں گے،شفاف الیکشن نہ ہوئے تو سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کریں گے،الیکشن کمیشن نگراں حکومت،نیب کے حالیہ دنوں کے اقدامات کانوٹس لے،الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کیلئے تمام اقدامات اٹھائے، نگراں حکومت،نیب نے ناروا سلوک ،من مانیاں جاری رکھیں تو لڑینگے۔شہباز شریف کا کہناتھا کہ میں عرض کرنا چاہتاہوں اب ہماری پارٹی تمام جو قانونی اور سیاسی حقوقوں کو استعمال کریں گے اور اپنے قائد اور ان کی صاحبزادی کے دفاع کیلئے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کریں گے ،انصاف کے دروازے بار بار کھٹکٹائیں گے ، یہ ہم پر احسان نہیں ، آئین ہمیں اس کی اجازت دیتاہے ،پور ے ملک میں جہاں جہاں جلسے ہوں گے وہاں لوگ کالے بینڈ پہن کر پر امن احتجاج کریں گے کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان پاکستانی عوام کو گدھا کہتا ہے کیا شخص لوگوں کوگھر بنا کردے گا اور کیا یہ شخص لوگوں کو انصاف دے گا ؟خدارا عمران خان صاحب ہوش کے ناخن لیں اور انسانیت کی تذلیل نہ کریں ۔

مزید : صفحہ اول