ملک میں ٹیکس کاپیسہ لٹانے کی لت پڑچکی ہے : چیف جسٹس ، پاکستان سٹیٹ آئل کے 3سالہ آڈٹ اور ایم ڈی کی تعیناتی بارے بھی تحقیقات کا حکم

ملک میں ٹیکس کاپیسہ لٹانے کی لت پڑچکی ہے : چیف جسٹس ، پاکستان سٹیٹ آئل کے 3سالہ ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے، سپریم کورٹ نے پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کا تین سالہ آڈٹ کرنے اور ادارے کے ایم ڈی کی تعیناتی کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل اور ایم ڈی پی ایس او عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے پیٹرولیم مصنوعات کی کوالٹی اور درآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جبکہ سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی اور مراعات کے معاملے میں نیب کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب یہ بھی بتائے کہ ایل این جی پر ہونے والی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیاکہ آپ کو کب اور کس کی سفارش پر تعینات کیا گیا؟ اس پر ایم ڈی نے بتایا کہ مجھے 2015 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے تعینات کیا، شاہد خاقان عباسی نے کمیٹی کی سفارش پر مجھے تعینات کیا، اشتہار کے ذریعے حکومت نے 6 نام فائنل کیے جن میں سے مجھے چنا گیا۔ایم ڈی پی ایس او نے بتایا کہ جب ادارے کا چارج سنبھالا تو منافع 6 ارب تھا جسے بڑھا کر 18 ارب کردیا ۔چیف جسٹس نے پاکستان سٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر سے مکالمہ کیا کہ آپ کا تو پٹرولیم کا تجربہ ہی نہیں ہے، حکومت کا یہ طریقہ کار ہے نجی کمپنیاں بناؤ، اپنے بندے لگاؤ اور ان کو فائدے پہنچاؤ، کیوں نہ آپ کو معطل کر دیا جائے؟جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کسی قومی ایجنسی کے ذریعے آپ کی تعیناتی سے متعلق تحقیقات اور پی ایس او کا آڈٹ بھی آڈیٹر جنرل سے کرا لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے،2 سے ڈھائی لاکھ تنخواہ والے گریڈ 22 کے افسر کو 4 لاکھ دے کر ایم ڈی بنایا جاسکتا تھا۔کیس کی مزید سماعت دن ڈیڑھ بجے تک ملتوی کی گئی جس کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے پی ایس او کے تین سالہ آڈٹ کا حکم دے دیا۔عدالت نے نجی آڈٹ فرم کے پی ایم جی کو 5 ہفتوں میں آڈٹ مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آڈیٹر جنرل آفس اور پی ایس او سمیت تمام حکومتی اداروں کو آڈٹ فرم کیساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے نیب کو ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی کی پانچ ہفتوں میں تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ نیب 15 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے افسران کی تعیناتیوں کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔بعدازاں چیف جسٹس ثاقب نثار نے جی سیون کی کچی بستی اور پولی کلینک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں پر کچی آبادی کے مکینوں اور ہسپتال میں مریضوں اور لواحقین کی شکایات سنیں۔جی سیون کی کچی آبادی کے مکینوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کچی آبادیوں کے مسائل منتخب لوگوں نے ہی حل کرنے ہیں اور سیاستدانوں کو میرے نوٹس لینے پر خیال آیا تو اچھی بات ہے، دیکھنا ہے کہ کچی آبادی والوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں یا نہیں؟جبکہ میراکچی بستیوں میں دورے کا مقصد بھی بنیادی حقوق کی فراہمی ہے۔ چیف جسٹس نے سیکٹر ایف سیون کی فراش کالونی کا دورہ کیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز پولیس کلینک ہسپتال کا دورہ کیا، چیف جسٹس نے مریضوں سے ملاقات کی اور طبی سہولیات سے متعلق استفسار کیا۔ چیف جسٹس نے پولیس کلینک ہسپتال کی فارمیسی میں ادویات کا معائنہ بھی کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ہمراہ جسٹس اعجاز الاحسن بھی تھے، اس کے علاوہ چیف جسٹس نے ہسپتال کی عمارت کا معائنہ کیا، ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز نے پولیس کلینک ہسپتال کے حوالے سے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بریفنگ بھی دی۔ چیف جسٹس نے ہسپتال میں موجود مریضوں اور لواحقین کی شکایات بھی سنیں۔ چیف جسٹس نے ہسپتال کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول